Idhariya

متاثرین زلزلہ کی بحالی کے اقدامات اور تقاضے

آٹھ اکتوبرکا قیامت خیز زلزلہ ہرسال خوف کے اعادے اورحکام اور متعلقہ اداروں کی بے حسی کے ماتم کے ساتھ ہر سال اپنی یاد دلاکر گزر جاتا ہے اس سال 2005ء کے زلزلے کی تاریخ سے ایک روز قبل سات اکتوبر کو زلزلے سے صوبہ بلوچستان کا اور وہاں کے عوام متاثر ہوئے۔ بلوچستان میں زلزلہ کی تباہی کاریوں او نقصانات کی ابھی مزید تفصیلات کا آنا باقی ہے ۔2005ء کے زلزلے کی تفصیلات کو بھی ذرائع ہی ے اجاگر کیا تھا وگرنہ سرکاری حکام تو لمبی تان کے سونے والے تھے افسوسناک امر یہ ہے کہ2005ء کے زلزلے کے متاثرین کی ابھی تک بحالی نہیں ہوئی خاص طور پر بالاکوٹ جس تباہی سے دو چار ہوا نیو بالاکوٹ سٹی بسانے کا منصوبہ پیش کیا گیا لیکن سولہ سال گزرنے کے باوجود ابھی بھی متاثرین زلزلہ کو بسانے اور ان کی مدد کا کام تسلی بخش طور پر نہ ہو سکا۔آٹھ اکتوبر2005ء کے قیامت صغریٰ برپا کرنے والے زلزلے کے سولہ سال گزرچکے مگر بحالی کے کام کی حالت یہ ہے کہ اب بھی تحصیل بالاکوٹ اور مانسہرہ کے تباہ شدہ سکول پوری طرح تعمیر نہ ہوسکے۔ کئی سکولوں میں بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور بچوں کو بالعموم اور سردیوں میں خاص طور پر سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمارے تئیں چونکہ اس عرصے میں یہ چوتھی حکومت ہے بنابریں ہر حکومت پر خاص طور پر درمیانی عرصے کی دو حکومتوں پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کے دور میں سخت ترین غفلت کا ارتکاب کیا گیا۔ ابتدا میں ظاہر ہے انسانی جانوں کو بچانے اور ان کو ازسرنو بسانے پر توجہ دی گئی لیکن اب سولہ سال گزر گئے لیکن متاثرین کے حالات نہیں بدلے۔ من حیث المجموع دیکھا جائے تو ان سولہ سالوں کے دوران آنے والی تمام حکومتوں کی کارکردگی اور قدرتی آفات سے نمٹنے والے قومی وصوبائی اداروں کا کام ناتسلی بخش بلکہ مایوس کن ہے۔ بالاکوٹ کی تباہی کے بعد بکریال سٹی بنانے کی بڑی تگ ودو کا تاثر دیا گیامگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ یقین دہانیاں سن سن کے متاثرین زلزلہ تنگ آچکے ہیں کب یہ شہر بسایا جائے گا اور لوگ کب اس میں رہائش اختیار کر سکیں گے۔ کم ازکم مستقبل قریب میں ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی، اس پر لوگوں کا احتجاج اور اضطراب فطری امر ہے۔ بعد ازتاخیر بسیار بامر مجبوری یہی تجویز دی جاسکتی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے کم ازکم اب تو سنجیدگی سے کام شروع کریں۔ بکریال سٹی ہو یا تعلیمی ادارے اور سرکاری انفراسٹرکچر کی بحالی یا پھر متاثرین کی مشکلات کا حل سارے ہی شعبے قابل توجہ ہیں۔اس زمینی حقیقت سے کسی طور انکار ممکن نہیں کہ انسان کتنا بھی ترقی کر جائے قدرتی آفات کے سامنے بے بس ہے۔ یہ کبھی بھی کہیں بھی نازل ہو سکتی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ کسی آفت کے اندیشوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بہتر انتظامات کر لئے جائیں یا اگر کوئی آفت نازل ہو جائے تو متاثرین کے ریلیف پر بھرپور توجہ دی جائے ۔بار بار آنے والے زلزلوں سے اس امر کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے کہ آفات خصوصی طور پر زلزلے کے حوالے سے پیشگی انتظامات اور اقدامات پر توجہ دینے کے پیشگی ا قدامات مکمل رکھے جائیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بھی کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں5.1شدت کا زلزلہ آیا تھا جبکہ اس سے قبل2017ء میں بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر، پسنی اور مکران میں6.3شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اسی طرح 2013ء میں ستمبر کے مہینے میں ضلع آواران میں 7.7شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے ضلع کے 80فیصد سے زائد کچے مکانات تباہ ہو گئے تھے اور بھاری جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ اس علاقے میں اس قدر زلزلوں کی وجہ اس کا فالٹ لائن پر واقع ہونا ہے۔ گزشتہ روز کے زلزلے میں بھی تقریباً سبھی ہلاکتیں کچے مکانات کے منہدم ہونے سے ہوئیں۔ یہ حقیقت ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کا دو تہائی حصہ فالٹ لائن پر واقع ہے جہاں کسی بھی وقت کسی بھی شدت کا زلزلہ آ سکتا ہے۔ اس قسم کے نقصانات سے بچائو کے لئے لازمی ہے کہ انفراسٹرکچر زلزلہ پروف ہو۔ اعدادوشمار سے واضح ہے کہ پاکستان میں اب تک جتنے بھی زلزلے آئے ان میں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان کے مطابق اکتوبر2005ء کے بدترین زلزلے کے بعد باقاعدہ طور پر بلڈنگ کوڈ تیار کیے گئے تھے اور عمارتوں کے نقشوں کی منظوری کو ان کوڈز کی پاسداری سے مشروط کیا گیا تھا مگر گزشتہ سولہ برسوں میں ان کوڈز پر کس قدر عمل ہوا یہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔اس وقت جب بلوچستان کے تباہ حال اضلاع زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹ رہے ہیں اس سبق کو دہرانے کی ضرورت ہے کہ ہم زلزلوں سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکتے، اگر ہم کچھ کر سکتے ہیں تو وہ اپنے انفراسٹرکچر کو زلزلوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ بہرحال اس وقت سب سے پہلا کام متاثرین کی مدد ہونا چاہئے، بے گھر ہونے والوں کو فوری طبی امداد، کھانا اور شیلٹر فراہم کرنا از حد ضروری ہے نیز ان کی دوبارہ آباد کاری اور بحالی کے لئے دیرپا منصوبہ بندی بھی کی جانی چاہئے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ادویات، خوراک، خیموں اور دوسرے ضروری سامان کی بلاتعطل فراہمی جاری رہنی چاہئے۔ اس سلسلے میں عوام کو حکومت کی معاونت کے لئے آگے آنا چاہئے اور انسانی فلاح کے لئے کام کرنے والی این جی اوز کو بھی حسب دستور متاثرین کی مدد پر خاص توجہ دینی چاہئے۔