جلسے جلوسوں سے مہنگائی کم نہ ہو گی اضافہ ہوگا

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی جانب سے مہنگائی کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ اور قوم کو مسائل اور معاشی تباہی سے نجات دلانے کیلئے سڑکوں پر آنے پر اتفاق تو کیا ہے لیکن ان کے پاس عوام کو اس مشکل سے نکالنے کا کوئی منصوبہ نہیں حزب اختلاف کو مہنگائی پر حکومت پر تنقید کا حق ضرور حاصل ہے اور اس ضمن میں عوام بھی ان کی آواز میں آواز ملانے کو تیار ہوں گے کیونکہ عوام مہنگائی سے عاجز آچکے ہیں مگر صرف یہ کافی نہیں اور نہ ہی حکومت کا خاتمہ ہی واحد حل ہے جس پر حزب اختلاف زور دے رہی ہے بلکہ ملک میں احتجاج اور کاروبار کی بندش اور اس پر پیدا شدہ حالات کے باعث سٹاک مارکیٹ میں مزید گراوٹ اضافی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ۔ مہنگائی کے حوالے سے مسلسل پریشان کن خبریں آرہی ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستانی معیشت کے بارے میں اپنی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مزید
بڑھے گی۔ ملک میں گندم، چینی اور دیگر غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے۔مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ آئی ایم ایف کے قرضے اور شرائط ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام ہی کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتیں پوری دنیا میں بڑھی ہیں۔برسراقتدار طبقہ مہنگائی کی جو توجہیہ پیش کر رہا ہے کہ پڑوسی ملک اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگر پڑوسی ملکوں یا دنیا کے دیگر ملکوں میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے تو یہ عمل اس کا جواز نہیں بن سکتا کہ ہمارے ملک میں قیمتوں میں اضافہ جائز ہے۔ اس اعتبار سے موجود حکومت کی ناکامی زیادہ تشویش ناک اس لیے ہے کہ وہ تبدیلی اور انقلاب کا نعرہ لگا کر آئی ہے موجودہ حکومت کے ہر ناقد نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ کسی بھی حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں ہوتا کہ لمحوں میں حالات بہتر ہوجائیں۔ لیکن موجودہ حکومت کی کارکردگی ایسی ہے جس سے مستقبل کے بارے میں مایوسی گہری ہوتی جارہی ہے۔مہنگائی بڑھنے کا اعتراف وزیراعظم، مشیر خزانہ اور دیگر وزرا بھی کررہے ہیں لیکن ان کی مہلت عمل ختم ہوتی جارہی ہے۔ قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہورہا ہے، کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا جینا عذاب کردیا ہے۔ ذرائع آمدنی میں اضافے کے اسباب کہیں سے نظر نہیں آرہے۔ حالات میں بہتری کے دعوے سے اٹھایا جانے والا ہر قدم حالات کو مزید ابتر کررہا ہے۔مہنگائی میں اضافے کا سبب آئی ایم ایف ضرور ہے لیکن قوم کو یہ بتانا چاہیے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے کیسے نکلا جائے۔ کسی بھی حکومت کا سب سے اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔
زبانی دعوئوں سے آگے بھی بڑھئے
صوبائی دارالحکومت پشاور میں جمع ہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے ابتدائی خاکہ کے مطابق تین ٹرانسفر سٹیشنز تعمیر کئے جائینگے جبکہ کچرے کو الگ الگ کرنے کیلئے بھی مشینری استعمال کی جائیگی گھر گھر سے کچرا اکٹھا کرنے کا عمل شروع کیا جائیگا امر واقع یہ ہے کہ کچرا کو اس وقت کسی بھی عمل سے نہیں گزارا جا رہا مذکورہ منصوبے کے تحت روزانہ ایک ہزار 70ٹن کچرے کو کھاد بنانے کے عمل سے گزارا جائیگا کھاد بنانے کے عمل کے دوران بائیو گیس بھی تیار کی جائیگی جسے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔کچرا اٹھانے اور اسے منفعت بخش صورت میں تبدیل کرکے ٹھکانے لگانے کا منصوبہ احسن ہے جس کا بار بار عندیہ دینے کے باوجود عملی طور پر کچھ نہ ہونا افسوسناک امر ہے ۔ یہ عمل اس قدر پیچیدہ اور کوئی انوکھا کام نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس طرح کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے جسے ہمارے ہاں بھی شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے اور ادھر ادھر پھینکنے اور جمع کرنے سے اضافی اخراجات اور پیچیدہ مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور یہ ازخود ایک بڑا مسئلہ بننے جارہے ہیں جس کا تدارک اور حل محولہ منصوبے کی تکمیل ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے منصوبہ اور زبانی کلامی وعدے کی حد تک نہ رہنے دیا جائے بلکہ عملی طور پر ایسا کرکے کاروبار ‘ روزگار کے مواقع کے ساتھ ایندھن کی ضرورت بھی پوری کرنے کی سبیل نکالی جائے ایسا تبھی ممکن ہو گا جب اس منصوبے کو عملی شکل دی جائے گی۔
ہر قتل ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتا
اقلیتی نوجوان کے قتل میں خود ان کے اہل خانہ کے ملوث ہونے کے انکشاف کے بعد اس کیس کی وجوہات اور عوامل سامنے آئے ہیں۔ اقلیتی برادری کے کسی فرد کے قتل پراسے عموماًٹارگٹ کلنگ قرار دیا جاتا ہے اور ایک طرح سے خوف و ہراس پیدا کرنے کے ساتھ حکومت اور ملک کے لئے بھی ناخوشگوار صورتحال پیدا کی جاتی ہے جو مناسب طرز عمل نہیں اس طرح کے خوہ مخواہ کا تاثر دینے سے گریز کیا جانا چاہئے جب تک کہ مقدمے کی پولیس تفتیش مکمل کرکے حقائق سامنے نہ لائے جائیں اس وقت تک اندازوں پر مبنی کوئی رائے قائم نہ کی جائے ۔ اقلیتی برادری کے ہر فرد کا قتل ٹارگٹ کلنگ نہیںہوتی ان کے قتل کی بھی دیگر وجوہات ہوتی ہیں اور ویسے بھی بغیر کسی وجہ کے کوئی بھی اقلیتی برادری کے کسی فرد کو کیوں نشانہ بنائے گا۔