میں جانتاہوں آپ کا وعدہ غلط نہیں

ایک بہت پرانا بھارتی فلمی نغمہ ہے جس کے ابتدائی بول کچھ یوں ہیں کہ”ہم بولے گا تو بولوگے کہ بو لتا ہے”مگر یقین کریں ہم نہیں بول رہے ‘ سرکار کے اعلان پر مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین بول رہے ہیں ‘ اور حکومتی وزیر کے اس اعلان کو کہ گیس دن میں تین ٹائم ملے گی ایک سینیٹر نے ڈاکٹر کا نسخہ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ یہ گیس ہے یا ڈاکٹر کا نسخہ ہے ‘ دنیا جانتی ہے کہ اکثر و بیشتر ڈاکٹروں کے نسخے بھی تقریباً اسی قسم کے ہوتے ہیں جن پر ترکیب استعمال یوں درج ہوتی ہے کہ یہ کیپسول ‘ گولی یا پھر سیرپ دن میں تین بار اس طریقے سے استعمال کریں ‘ اگرچہ کبھی کبھار یعنی شاذو نادر ایسے نسخے بھی ہوتے ہیں جن میں لکھی ہوئی دوائیں دن میں دو بار یا پھر صرف ایک ہی بار استعمال کرنے کی ہدایت لکھی ہوتی ہے ‘ اس لئے اگر سینیٹر شیری رحمان نے اسے ڈاکٹر کا نسخہ قرار دیا ہے تو اس کا مطلب اس عمومی نسخے سے ہے جو زیادہ تر ڈاکٹر صاحبان تجویز کرتے ہیں ‘ اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ گیس کے استعمال کا یہ ”سرکاری نسخہ” اسی عمومی نسخے کے زمرے میں آرہا ہے ‘ یعنی اگر پرچہ ترکیب استعمال پر صرف ا یک بار یا زیادہ سے زیادہ دوبار استعمال کی ہدایات درج کی جاتیں تو عوام کا کیا بنتا؟ اس ”نسخہ کیمیا” کو کسی ایسے ماہر طبیب کا نسخہ ہی سمجھا جا سکتا ہے جس کے بارے میں ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
دیکھی جو میری نبض تو کچھ دیر سوچ کر
کاغذ لیا اور عشق کا بیمار لکھ دیا
قربان کیوں نہ جائوں میں ایسے طبیب کے
نسخے میں جس نے آپ کا دیدار لکھ دیا
گویا گیس نہ ہوئی فلم سات لاکھ کی وہ چند شرائط ہو گئیں جو مرنے سے پہلے باپ نے اپنی لاابالی پن کی شکار بیٹی (فلم کی ہیروئن صبیحہ خانم) کو جائیداد کی منتقلی کے حوالے سے وصیت میں لکھوا کر اپنے وکیل کے پاس محفوظ کرادی تھیں’ سیٹھ کے مرنے کے بعد وکیل نے ہیروئن کے سامنے وصیت بیان کرتے ہوئے یہ ڈائیلاگ بولا تھا کہ سات لاکھ کی جائیداد جس میں تم رہ سکتی ہو ‘ کرایہ وصول نہیں کر سکتی ‘ سات لاکھ کی گاڑیاں جن میں تم گھوم سکتی ہو ‘ بیچ نہیں سکتیں ‘ سات لاکھ کے ہیرے جواہرات جن کا تم دیدار کر سکتی ہو ‘ پہن نہیں سکتیں ‘ سات لاکھ روپے نقد جن میں سے ہر ماہ ایک معمولی رقم جیب خرچ کے طور پر لے سکتی ہو ‘ ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی ‘ تاوقتیکہ تم شادی نہ کر لو ‘(ہیروئن شادی سے انکاری تھی اور آزاد زندگی گزارنا چاہتی تھی) اگر شادی ہو جائے تو یہ سب کچھ تمہارا اور تمہارے شوہر کا ہو گا۔ بصورت دیگر یہ سارا مال و متاع کسی ٹرسٹ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ فلم کی کہانی بڑی دلچسپ ہے مگر یہاں تو سات لاکھ روپے کے گردان کی طرح صرف نمائشی استعمال کی مانند اس گیس لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ایک اور سینیٹر کا یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ”اس گیس سے انڈہ فرائی ہو سکے گا؟تو گویا گیس کے اس ”نسخہ کیمیا” پر سوال اٹھ رہے ہیں مگر حاشا وکلا ہم نہیں بول رہے ہیں کیونکہ ”ہم بولے گا تو بولوگے کہ بو لتا ہے” ویسے بھی ہماری کیا اوقات کہ کچھ بولیں ‘ حالانکہ فیض احمد فیض نے بھی کہہ دیا تھا کہ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘ بول زباں اب تک تیری ہے ‘ تاہم فضول یا وہ گوئی کے لئے ہمارے پاس کوئی وقت نہیں ہے نہ ہی ا تنی جرأت رندانہ کا حوصلہ رکھتے ہیں ‘ اور جہاں تک انقلابی شاعروں کا تعلق ہے تو ہماری تاریخ ان کے حوالے سے اتنی حوصلہ ا فزائی نہیں ‘ جیسا کہ حبیب جالب تھے ‘ بے چارے ساری زندگی یا تو جیل میں سڑتے رہے یا پھر”فقیرانہ آئے صدا کر چلے” کی کیفیت سے دو چار رہے اور اپنے گھر والوں کو الگ عذاب میں ڈالا ‘ فیض احمد فیض بھی زیادہ تر جلاوطنی کا شکار رہے ‘ اسی طرح میڈیا میں جو لوگ”زبان درازی” کے عادی تھے یا نہیں ان کی حالت میر کی طرح ہے کہ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں ‘ تو ایسی صورتحال میں بھلا ہم کہاں بول سکتے ہیں اس لئے اس سے پہلے کہ کوئی ہم پر اعتراض کرکے کہ لوجی مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا ‘ ہم اپنی طرف سے کچھ بول کر کیوں بدنام ہوں خصوصاً جب بولنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے ‘ یہ بات البتہ ہمیں پریشان ضرور کر رہی ہے کہ یہ جو وقفے وقفے سے ڈاکٹری نسخے کی طرح عوام کو گیس”دان” کی جائے گی ‘ اس کا پریشر پورا ہوگا یا جس طرح گزشتہ کئی سال سے کم پریشر گیس فراہم کی جاتی رہی ہے اور جسے یار لوگ کمپریسر کے ذریعے اپنی اور کھینچ کر ہم ایسے غریب غربوں اور ناتواں لوگوں کو اس تھوڑی گیس سے بھی محروم کرتے رہتے ہیں ‘ اب بھی یہی صورتحال رہے گی اور بقول شاعر
تیرے آنے کا انتظار رہا
عمر بھر موسم بہار رہا
یعنی یہ انڈہ پکنے کا سوال کوئی اتنا غلط بھی نہیں کہ اگر پریشر کی حالت بھی اسی طرح رہی تو اس پر انڈہ بھی کہاں پک سکے گا ‘ گویا سوال اٹھانے والے نے صرف اتنا کہنا ہے کہ کجھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں ‘ اور وہ یہ بھی کہنا چاہتا ہے کہ
میں جانتا ہوں آپ کا وعدہ غلط نہیں
پر دل کو اعتبار نہ آئے تو کیا کروں؟