ترسیلات زر میں اضافہ کے تقاضے

وزیر اعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کی مہربانی ہے جن کی ترسیلات زر کی وجہ سے کئی معاشی مشکلات سے محفوظ ہیں لیکن یہ زیادہ دیرتک نہیں چل سکے گا۔زرمبادلہ کے مد میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات اور ملک میں موجود فری لانس کام کرنے والوں کی بڑی خدمات اور شراکت ہے لیکن جب تک ہم برآمدات میں اضافہ اور درآمدات کو کم سے کم یا پھر کم از کم دونوں میں توازن پیدا کرکے تجارتی خسارے میں کمی نہیں لائیں گے قیمتی زرمبادلہ کا ضیاع جاری رہے گا حکومت اور عوامی دونوں سطحوں پر غیر ملکی اشیاء کی خریداری کی حوصلہ شکنی اور اجتناب کی کوئی شعوری مہم ہی نہیں کم از کم لوگوں کو اس امر کا احساس ہی دلایا جائے کہ غیر ملکی مصنوعات کی خریداری کی صورت میں ملکی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیںحکومت اگر درآمدی اشیاء کی سختی سے حوصلہ شکنی اور استعمال میں حتی المقدور کمی لا سکے تو صورتحال میں قدرے بہتری آسکتی ہے ملکی مصنوعات کو معیاری بنائے بغیر غیر ملکی مصنوعات کی حوصلہ شکنی ممکن نہیں خالص پاکستانی اشیاء اورملکی مصنوعات کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ۔زرمبادلہ کی بچت اور کم سے کم استعمال بہتر نسخہ ہوسکتا ہے وزیر خزانہ کی اس بات سے اختلاف ممکن نہیں کہ صرف بیرون ملک پاکستانیوں پرانحصار نہیں کیا جا سکتا حکومت کی جانب سے فری لانسنگ کی تربیت کے پروگرام شروع کرنا احسن اقدام ہے لیکن جامعات میں روایتی قسم کی تعلیم وتربیت عالمی منڈی میں ہنر مندی کے بل بوتے پر کام حاصل کرنے کے لئے کافی نہیں جس طرح ہری پور میں ایک ادارے میں مختلف نوعیت کا پروگرام شروع کیا گیا ہے ملکی جامعات اور پیشہ ورانہ کالجوں میں اسے بطور نمونہ سامنے رکھ کر بی ایس اور ڈپلومہ پروگرامز شروع کئے جائیں تاکہ جتنا ممکن ہوسکے ہنر مندوں کی ایسی کھیپ تیار ہو جو عالمی مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ کام لینے کے قابل ہو اور زرمبادلہ کما سکیں۔
تعمیراتی سامان اور کام کے ہوشربانرخ
پاکستان میں مہنگائی کی لہرمیں اضافہ کے باعث گھروں کی تعمیر روز بروز مشکل ہوتی جارہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران تعمیراتی میٹریل کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ مختلف شہریوں کوگھروں کی تعمیرکاجاری کام بھی روکناپڑرہا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ سال میں50لاکھ گھر تعمیر کرنے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد تعمیراتی شعبے کی ایمنسٹی سکیم اور وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق سستے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی لانچ کیا۔ان اقدامات سے تعمیراتی شعبے میں تیزی دیکھنے میں آئی تاہم ایک سال کے عرصے میں تعمیراتی لاگت میں جس قدر اضافہ ہوا اس کی وجہ سے عام فرد سے لے کر تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد سبھی فکرمندی کا شکار ہیں۔مہنگائی میں اضافے کے ساتھ تعمیراتی کاموںکی بھی لاگت میں اضافہ فطری امر ہے لیکن خیبر پختونخوا میں تعمیراتی لاگت کا پنجاب کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونا باعث تعجب امر ہے اس پر توجہ دینے اس کی وجوہات معلوم کرکے ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔صوبے میں ٹھکیداروں کی جانب سے فی مربع فٹ کی لاگت پنجاب کے مقابلے میں یکساں میٹریل کے استعمال کے باجود کافی فرق ہے جس سے قطع نظر کمرشل بلڈنگز جس کے لئے حکومت نے رعایتوں کا بھی اعلان کیا ہے مگر نرخ حیرت انگیز طور پر زیادہ ہیںتقریباً ساڑھے چھ ہزار روپے مربع فٹ کی وصولی اگرچہ بلڈر اور گاہک کی باہمی رضا مندی کا معاملہ ہے لیکن صارف مجبور ہے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ کو ماہرین تعمیرات اور قانون سے مشاورت کے بعد کسی انتظامی حکم کے ذریعے یاجو بھی مشورہ ماہرین دیں مداخلت میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے ورنہ ایک جانب حکومت سے مراعات بھی لی جائیں گی اور دوسری جانب عوام کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہ ہو گا۔
افسوسناک ماحول
جامعہ پشاور میں جہاں طالبات کوہراساں کرنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں وہاں دوسری طرف یہ بھی اعتراض کیاجارہاہے کہ طلباء و طالبات کا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومنا پھرنا اور بغل گیر ہونا معمول بن گیا ہے جبکہ پیسے اور طاقت کے نشہ میں چور طلباء کی جانب سے کیمپس کے اندر گاڑیوں کی خطرناک ڈرفٹنگ پر بھی ایکشن نہیں لیاجارہا۔جامعہ پشاور کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کو اگر مبالغہ آرائی قرار دے کر اور جامعہ کا مجموعی ماحول نہ ہونا بھی سمجھا جائے تو بھی خیبر پختونخوا کے روایتی ماحول میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ماضی کی رئیس الجامعات کی قدآوروی اور احسن انداز میں جامعہ کے معاملات چلانے اور ماحول کو ساز گار اور مناسب رکھنے میں ان کا کردار اب سنہری یادیں ہیں جامعہ پشاور کی جو تصویر سامنے آرہی ہے اگر اس کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا اور اصلاح احوال کے اقدامات نہ کئے گئے تو شاید ہی والدین اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے کا سوچیں ۔ حکومت اور رئیس الجامعہ دونوں کو اپنی اپنی ذمہ داریوں میں مزید کوتاہی کا مظاہرہ ترک کرکے اصلاح احوال یقینی بنانے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جامعہ پشاورکے ماحول کی بہتری کے لئے طلبہ کے والدین بھی اپنے بچوں کو اخلاقی اقدار کی پابندی کی تاکیدکریں گے اور ان کو مناسب لباس پہن کریونیورسٹی جانے کا پابند بنائیں گے۔جامعہ کے بگڑتے ہوئے ماحول کو سنوارنا ایک مجموعی ‘ معاشرتی ذمہ داری کا تقاضا ہے جس کا جتنا جلد ادراک ہواتنا ہی بہتر ہوگا۔