سیاسی تربیت گاہ

بلدیاتی الیکشن کی گہما گہمی شروع ہے گلی گلی اور ہر محلہ میں امیدوار پورے انہماک کے ساتھ الیکشن کی تیاری کر رہے ہیں کچھ کا کہنا ہے کہ الیکشن ہونے کے امکانات بہت کم ہیںکیونکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پارٹی بنیادوں پر الیکشن کے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کررکھاہے ۔ لیکن کچھ سیاست دانوں کی سوچ ہے کہ انتخابات دسمبر میں ہو بھی سکتے ہیں ، جو بھی ہوخیبر پختونخوا حکومت نے ایک بار پھر بلدیاتی الیکشن کروانے کی تاریخ دے دی ہے ۔ نومبر میں سردی شروع ہوچکی ہے دسمبر میں سردی کچھ اور بڑھ جائے گی تاہم سیاست میں گرمی ہوجائے گی۔ ایک عام مقولہ ہے کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ، سیاست دانوں کا معیار اپنے لئے ایک جیسا ہوتا ہے اور عوام کے لئے قدرے مختلف، سیاسی جماعت کوئی بھی ہو جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو صرف اپنی ذات کے لئے سوچتے ہیں لیکن جیسے ہی اپوزیشن میں آتے ہیں انہیں عوام کے حقوق یا د آجاتے ہیں ۔ہر سیاسی پارٹی جب اقتدار میں ہوتی ہے تب اسے بلدیاتی انتخابات یاد نہیں ہوتے لیکن ان کے اقتدار سے رخصتی ہوتے ہی انہیں کسی طور اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ بلدیاتی عہدہ ہی کیوں نہ ہو۔ملک عزیز کی یہ بد قسمتی رہی ہے جب اسمبلیاں بن جاتی ہیں تو بلدیاتی اداروں کی وہ حیثیت نہیں رہتی کہ جو کسی بھی آمر کے اقتدار میں ہوتے ہوئے ہوتی ہے کیونکہ آمراپنی حکومت کو جمہوریت کا پیوند لگاتا ہے لہٰذا اسے عوام میں سے کچھ لوٹے یا لوگ چاہئے ہوتے ہیں۔ جیسے ہی جمہوری حکومت آتی ہے چاہے نام نہاد ہی سہی وہ ان مصنوعی سیاست دانوں کو فارغ کر دیتے ہیں۔ آج بھی وہی حالات ہیں بلدیاتی انتخابات تو کروانے نہیں ہیں یہ تو حکومت بلکہ ساری حکومتوں کا متفقہ فیصلہ ہے ہمارامطلب ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں بھی اس سے متفق ہیں اسی لئے ہر صوبہ اپنے اپنے فیصلے کر رہا ہے ۔خیبر پختونخوانے انتخابات کروانے کی ٹھان لی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ بلدیاتی نظام میں تبدیلی کی ضرور سوچ رکھی ہے ۔ شورتو ہر دور میں ہوتا ہے کہ بلدیاتی نظام بحال کیا جائے اور اسی طرح بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں یہ عوامی رائے تو ہے نہیں کہ اس پر ”مٹی پائو” جیسے احکامات دیئے جائیں یا اسے کھڈے لائن لگادیا جائے بلکہ یہ تو سیاست دانوں کی اپنی خواہش ہے اور وہ اپنی خواہش کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔دراصل یہ لوگ اب ملک میں بلدیاتی انتخابات کی پھر سے بات اس لئے بھی کررہے ہیں کیونکہ ان سیاست دانوں کے بیٹے بھتیجوں کی تربیت گاہیں ہیں پہلے وہ بلدیاتی سیاست میں آتے ہیں اور پھر صوبائی اور قومی سیاست میں کود پڑتے ہیں ۔ یہ سیاسی بڑے اپنے ہی گھرانے کے کسی فرد کو سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی میں لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ خود ایم پی اے بنتے ہیں اور اگلے الیکشن میں اپنے ہی بیٹے بھتیجے کو اس صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر کھڑاکرکے خود قومی اسمبلی کی نشست کے امیدوار ہوجاتے ہیں اور یوں اس سے اگلے الیکشن میں اپنے عزیزوں کو صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر کھڑا کرکے پھر انہی کے زور پر خود سینٹ میں کنگ میکر بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔
اپنے زمانہ ورکر صحافی کے جب میں صوبہ کے ایک پرانے انگریزی اخبار کے رپورٹر کے طور کام کر رہا تھا کہ میںنے صوبہ کے سابق وزیر اعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر پیر صابر شاہ سے پوچھا کہ جناب آپ نے اپنے دور میں’ اس سے پہلے اور بعد کبھی بھی بلدیاتی نظام کی حمایت نہیں کی نہ تو میاں نواز شریف کے دو تہائی اکثریت والے دور میں نہ کبھی کسی اور دور میں بلدیاتی الیکشن کروائے اور نہ ہی اس نظام کی حمایت کی اور اب جبکہ ایک فوجی جرنیل نے یہ کام کیا ہے تو بجائے اس کے کہ آپ اپنی روائتی اور پارٹی منشور کی وجہ سے مخالفت کرتے ،آپ لوگوں نے تواقتدارکی یہ کرسی بھی ہاتھ سے جانے نہیں دی لہٰذا ضلع ، تحصیل اور یونین ناظم کے لئے اپنے بھائی بھتیجوں کولاکھڑا کیا،(یاد رہے کہ پیر صاحب کے ایک بھتیجے تحصیل ناظم اور ایک بھتیجے یونین کونسل کے ناظم رہے ہیں، اپنے بھائی کو صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑواچکے ہیں اور خود پیر صاحب آج کل سینٹر ہیں)۔ اس پر سینٹر پیر صابر شاہ نے سوائے خاموشی کے کچھ جواب نہ دیااور یہ صرف پیر صاحب سے ہی نہیں بلکہ آپ ہر سیاسی پارٹی کے ہر رہنما ہرسیاست دان سے پوچھ لیں کچھ اسی طرح کا جواب آپ کووطن عزیز کے ہر رہنما سے ملے گا۔ وہاں بھی آپ کو خاموشی ہی ملے گی لیکن جب بلدیاتی انتخابات کے لئے میدان سجے گا تو ان منجھے ہوئے اور گرگ ِباراں دیدہ سیاست دانوں کا خاندان اس میدان میں کود پڑے گا۔مجھے تو اس سادہ عوام کی سمجھ نہیں آتی وہ اپنے ان نام نہاد پارٹی رہنمائوں سے کیوں نہیں پوچھتے کہ بھئی ہم بھی اسی پارٹی کے لئے برسوں سے محنت کررہے ہیں آخر ہمیں یا ہمارے جیسے کسی ہمارے ہی رشتہ دار کو بھی ٹکٹ دیں انہیں بھی موقع دیں کہ ہم بھی اپنے علاقہ کے غریب عوام کی خدمت کریں کب تک یہ بوجھ سیاست دانوں کے خاندانوں کے ناتواں کندھوں پر رہے گا۔ میری طرح سب جانتے ہیں کہ کسی بھی صوبہ یا کسی بھی حلقہ میں پارٹی کے ٹکٹوں کی تقسیم جب کبھی بھی ہوتی ہے تو پارٹی کے وورکر وں سے مشورہ کرنے کی بجائے اس علاقہ کے ایم پی اے یا ایم این اے کے ڈیرہ پر اس کے حجرہ پر ایک کارنر میٹنگ ہوتی ہے اوراپنے نوجوان بھائی ، بیٹے اور اگر وہ دستیاب نہ ہوتو اپنے ہی بھتیجے یا بھانجے کو نامزد کرکے پھر اس کی سیاسی مہم چلاکر اسے جتواکر رہتے ہیں۔