پی ڈی اے کو آئینہ

اداروں بارے تفصیلی کالم کا اچھا اثر سامنے آیا ہے آج پی ڈی اے کے حوالے سے ایک مفصل برقی پیغام کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ حیات آباد میں بڑے پیمانے پر پرانے گھر توڑ کر تزئیں و آرائش اور بعض گھروں کوسرے سے گرانے کی وجہ سے ملبہ کوٹھکانے لگانے کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے بعض خالی پلاٹوں پر محدود پیمانے پر ملبہ ڈالا جارہا ہے جبکہ فیز سیون کے چوک سے لیکر زرغونی مسجد تک خشک نالے کے اوپر جس بے ہنگم طریقے سے ملبہ ڈالا جارہا ہے وہ تکلیف دہ ہے پودوں اور درختوں کی جڑوں اور صاف ہموار جگہوں پر بے ہنگم طریقے سے ملبہ ڈالنے کے باعث یہ پورا علاقہ درختوں اور سبزہ سے محروم اور ملبے کا ڈھیر بنتا جارہا ہے حالانکہ ندی سے سڑک تک کے درمیانی حصے میں کافی گہری کھائی موجود ہے اس ملبے کو اگر براہ راست اس خالی جگہ میں پھینکا جائے یا پھر پی ڈی اے کا عملہ اس ملبے کو ٹریکٹر لگا کر تھوڑا سا آگے دھکیل دے تو جگہ بھر جانے سے گریں بیلٹ چوڑی ہوسکتی ہے جس پر شجرکاری کی جائے تو حیات آباد کی خوبصورتی میں اضافہ ہوسکتا ہے حیات آباد میں اس تازہ مسئلے کا بروقت نوٹس اور اس حوالے سے منصوبہ بندی واقدامات میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے نیز خالی پلاٹوں پرملبہ پھینکنے کا تدارک کیا جائے گھروں کے سامنے خالی پلاٹس جس طرح کوڑے دان بن گئے ہیں اس کا بھی کوئی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حیات آباد میں صفائی کا مسئلہ اس طرح سنگین پہلے کبھی نہ تھا معلوم نہیں عملہ صفائی کی چھٹی کردی گئی ہے یا پھر صفائی کے عملے کو حکام نے کہیں دہاڑی پر لگا رکھا ہے تین چار سو افراد پر مشتمل عملہ صفائی کی اگر نصف تعداد بھی گلیوں کی فیز وار صفائی کی ذمہ داری نبھائے تو ہفتہ عشرہ میں کم از کم ایک مرتبہ تو ایک علاقے کی باری آئے گی حیات آباد میں گلیوں میں بے دریغ پانی کا ضیاع بھی سنگین مسئلہ بن چکا ہے کیچڑ کے باعث سڑکوں سے گزرنا محال ہے اگر کسی کونظر نہیں آتا تو وہ پی ڈی اے کا عملہ ہے گھروں میں نلکے کھلے پڑے ہوتے ہیں بعض گھروں کے نلکے مستقل خراب ہیں جس کا اندازہ ہروقت گھروں کے سامنے تالاب اور سڑکوں پر پانی بہتے دیکھ کر بخوبی ہوتا ہے سمجھ سے بالاتر امر ہے کہ اس کی روک تھام اور تدارک کا پی ڈی اے کو کوئی فکر ہی نہیں۔کالم پر نظرثانی کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ایک اچھے خاصے شہری علاقے میں اس طرح کی صورتحال کیسے ممکن ہے میں نے واٹس ایپ پر اس بارے شکوک و شبہات کا اظہارکیا تو جواب میںایف نائن گلی نمبر گیارہ کی بدترین حالت کی ویڈیو جس میں گلی کاوہ عکسی منظر تھا جوبیاں کیا گیا ہے ساتھ ہی ایک وسطی سڑک پر گٹر کا پانی بہہ رہا تھا اور گلی نمبر بارہ کے نکڑ پر کارنر پلاٹ پر گندگی اور ملبہ کا ڈھیر نظر آرہا تھا جسے دیکھ کر مجھے یقین کرنا پڑا کہ مبالغہ آرائی نہیں حقیقت حال واضح تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے گلی نمبر ایک جو مسجد اور مارکیٹ کا راستہ ہے وہاں سٹریٹ لائٹس کی خرابی اور اندھیرا ہونے کی نشاندہی بھی کرائی۔ایک اور مسئلہ کی بھی نشاندہی کرائی گئی ہے کہ واٹر کنکشنز کے بلوں کی وصولی بارے بھی جس طرح غفلت کا ارتکاب نظرآتا ہے وہ حیران کن ہے کئی گھر ایسے ہیں جن کو سرے سے پانی کا بل ہی نہیں آتا کرایہ دار بل پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں جس کے باعث مالک مکان اور ان کے جھگڑے بھی ہوتے ہیں گھروں کے کنکشن کی تعداد اور بلوں کی صولی کا اگر آڈٹ کرایا جائے تو سب کچھ سامنے آئے گا مگر کرے کون حکام کو پی ڈی اے کی آمدنی کی فکر ہوتی توایسا ہرگز نہ ہوتا اتنی تنقید کے بعد اگر پی ڈی اے کے ہارٹیکلچر کے شعبے کی تعریف نہ کی جائے تو انصاف نہ ہو گا حیات آباد میں شجرکاری اور پودوں کی آبیاری کا عمل قابل تعریف ہے البتہ جو پودے جنگلے کے اندر لگائے گئے تھے اب وہ درخت بن چکے ہیں اور جنگلے درختوں کے تنے میں دھنس چکے ہیں ان جنگلوں کو کاٹنے کی ضرورت ہے جن کو کاٹ کر تھوڑی سی مرمت کرکے ان کو کسی دوسری جگہ استعمال میں لایا جا سکتا ہے ۔ حیات آباد کے پارکوں میں ٹوٹے جھولے قابل مرمت ہیں جبکہ پارکوں کے گرد جنگلے منشیات کے عادی افراد بڑے پیمانے پر کاٹ کر لے گئے ہیں مسجد زرغونی کے سامنے پارک کی دیوار موجودہ دور حکومت میں تیسری مرتبہ گری ہے ایسا کیوں ہوتا ہے ناقص تعمیر اور تخریب کا ذمہ دار کون ہے اس کا بھی ایک جائزہ لیا جائے تو بہتر رہے گا حیات آباد میں تجاوزات اور مارکیٹس میں لوگوں کے گزرنے اور گاڑی پارک کرنے کی جگہوںپر تجارت و کاروبار کی بھی بندش ہونی چاہئے ان لوگوں کو اگر قریبی کھلے مقامات پر جگہ دی جائے تو یہ ایک معتدل فیصلہ ہو گا لیکن ایسا کرنے کی بجائے قابضین کی سرپرستی ہو رہی ہے جبکہ کھلے مقامات پر ایک طرف ہو کر عوام کی سہولت کا باعث بننے والوں کو ہراساں کیا جارہا ہے حالانکہ اصولی طور پر پہلے مارکیٹ کے ارد گرد کے علاقوں اور مسجد کے سامنے لائوڈ سپیکر لگا کر سودا بچنے والوں کو ہٹانا چاہئے جس کے بعد اگر کھلے مقام پر سے لوگوں کو ہٹایا جائے تو اس کا جوازہے ۔ اس تفصیلی پیغام بلکہ ایک قاری کے لکھے ہوئے کالم کی نوک پلک سنوارتے ہوئے مجھے ایسا لگا کہ ہمارے حکام جتنے کوتاہ بین اور تن آسان ہیں ڈنک ٹپائو جن کا وتیرہ ہے ہمارے شہری اس طرح اگر ان کا محاسبہ کرنے سے احتراز نہ کریں اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان بلدیات و شہری ترقی کے صوبائی وزیر ان مسائل کا نوٹس لیں اور ڈی جی پی ڈی اے تھوڑی سی توجہ دیں تو یہ مسائل ایسے نہیں کہ اس پر وسائل خرچ کئے بغیر یا تھوڑے سے وسائل کے ذریعے قابو نہ پایا جا سکے ۔میری تو تجویز ہو گی کہ ڈی جی پی ڈی اے متعلقہ عملے کے ساتھ حیات آباد کے مختلف فیزز کا ایک دورہ کریں تو بہتر رہے گا۔
قارئین اپنے مسائل و مشکلات 03379750639 پر واٹس ایپ میسج ‘ وائس میسج اور ٹیکسٹ میسج کر سکتے ہیں