شہر کو شہر کے لوگوں سے بچایا جائے

یہ کوئی آج کا مسئلہ تو نہیں ہے ‘ کئی سال پہلے بھی پشاور ہائی کورٹ نے ایسا ہی حکم دیا تھا جیسا کہ گزشتہ روز ایک بار پھر جسٹس روح الامین نے صوبائی حکومت کو اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کا حکم دے کر آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے ‘ ریمارکس دیتے ہوئے فاضل جسٹس نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے ‘ حکومت کو اس کے حل کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ چند لوگ نکل کر سڑک بند کر دیتے ہیں جس سے پورا شہر متاثر ہو جاتا ہے ‘ جبکہ جسٹس سید عتیق شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ڈی چوک میں احتجاج پر پابندی لگائی ہے ‘ پنجاب حکومت نے بھی مال روڈ پر احتجاج پر پابندی لگائی ‘ آپ لوگ ایسا کیوں نہیں کرتے ‘ جواہم جگہیں ہیں وہاں پر احتجاج پر پابندی کیوں نہیں؟ پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی اور شہر میں احتجاج اور جلسے جلوس نکالنے کے خلاف درخواست پر صوبائی حکومت کو اقدامات اٹھانے کا حکم دے دیا ۔ مرزا رفیع سودا نے کہا تھا۔
جرم ہے اس کی جفاکا کہ وفا کی تقصیر
کوئی تو بولو میاں ‘ منہ میں زباں ہے کہ نہیں
جس مسئلے پر فاضل عدالت کے دو جسٹس صاحبان نے ریمارکس دیئے ہیں ‘ اسے(غالباً) پشاور کے ایک سینئر صحافی نے مقدمے کی صورت پشاور ہائیکورٹ میں دائر کیا ہے ‘ تاہم مقدمے کی جوکارروائی اخبارات میں چھپی ہے اس میں درخواست گزار کی جانب سے (غالباً) ایم ایم کے دور میں اسی طرح کی صورتحال کے حوالے سے اسی دور میں پشاور ہائی کورٹ نے سورے پل کے قریب صوبائی اسمبلی کے آس پاس ہونے والی احتجاجی ریلیوں اور ٹریفک جام کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس قسم کی سرگرمیوں پر جوپابندی لگائی تھی مگر اس کا نتیجہ نکلا نہ ہی درخواست گزار کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے اس سابقہ فیصلے کا کوئی حوالہ سامنے آیا ہے ‘ حالانکہ اپنی درخواست میں انہیں اس کا تذکرہ ضرور کرنا چاہئے تھا۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات ہر گز نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے شہر کا بچہ بچہ واقف ہے ‘ تاہم انتہائی معذرت سے کہنا پڑتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے اس حکم کی دھجیاں (ایم ایم اے کی سرپرستی میں)
زیادہ مواقع پرمذہبی عناصر نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے اڑائی تھیں ‘گویا قانون کی بے حرمتی کے لئے پاسبان مل گئے کعبے کو صنم خانے سے والی کیفیت بن گئی تھی ‘ یوں ان کی دیکھا دیکھی معاشرے کے ہر طبقے نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے زور زبردستی کا رویہ اختیار کیا اور جس کی مرضی ہوتی سورے پل کو ہر طرف سے بند کرکے پورے شہر میں ٹریفک جام کر دیتا اور کوئی حکومت (خدا جانے کس خوف سے) ان غیر قانونی حرکتوں سے نمٹنے کے لئے بھی آہنی ہاتھوں سے کام لینے پر تیار نہیں ہوئی ‘ نہ ہی پشاور ہائی کورٹ نے بعد میں اس حوالے سے توہین عدالت کے تحت صوبائی انتظامیہ یا کم از کم پشاور کی ضلعی انتظامیہ کے خلاف اس کی غفلت کے تحت کارروائی کی ضرورت محسوس کی ‘ بقول سلیم بے تاب
آج بے تاب فصیلوں کی ضرورت کیا ہے
شہر کو شہر کے لوگوں سے بچایا جائے
لندن میں ایک مقام ہے جسے ہائیڈ پارک نام دیا گیا ہے ‘ یہ ایک وسیع باغ ہے ‘ جہاں لوگ تفریح کے لئے بھی جاتے ہیں اور جن کے دل پر غبار ہوتا ہے وہ دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے بھی وہاں جا کر کسی چبوترے یا پھر کسی بنچ پر کھڑے ہو کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تقریر فرمانے کا شوق پورا کر لیتا ہے ‘ اس کے خلاف کوئی پرچہ نہیں کٹتا ‘ اور وہاں آنے والوں کی مرضی ہے کہ کھڑے ہو کر اس کی تقریر دلپذیر سے لطف اندوز ہوں یا پھر اسے پاگل ‘ دیوانہ ‘ خبطی سمجھ کر خاموشی سے اس کے آگے سے گزر کر کسی گوشۂ عافیت میں جا کر لطف اندوز ہوں ‘ شنید ہے کہ ہائیڈ پارک واحد ایسی جگہ ہے جہاں کوئی بھی انگریز چاہے شاہی خاندان کے خلاف بھی تقریر کیوں نہ کرے اس سے قانون کوئی تعرض نہیں رکھتا ‘ ہاں اگر ہائیڈ پارک کی حدود کے باہر کوئی تقریر تو کیا ‘ ٹریفک قوانین کی بھی خلاف وزی کیوں نہ کرے ‘ اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنا دی جاتی ہے ہمارے ہاں یار لوگوں نے سورے پل کے ارد گرد علاقے کو بھی شاید ہائیڈ پارک سمجھ لیا ہے کہ جس کا جب جی چاہے جلوس نکال کر آجاتا اور ٹریفک جام کرکے پورے شہر کو جام کر دیتا ہے ‘ مگر متعلقہ ادارے ان کو روکنے کی کوشش میں کبھی کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ویسے یہ رویہ صرف مذہبی طبقوں تک ہی محدود نہیں ‘ اور بھی کئی طبقے ہیں جو احتجاج کے ہنگام ہوش و خرد گنواتے رہے ہیں اور بسا اوقات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے الجھ کر امن و امان کی صورتحال جنم دینے کا باعث بنتے رہے ہیں۔ بقول مرتضیٰ برلاس
جس شاخ پہ بیٹھے ہوں اسی شاخ کو کاٹیں
ہم لوگ ہی خود اپنی تباہی کا سبب ہیں
ہماری غیر ذمہ داری کا یہ حال ہے کہ اپنے مطالبات کے لئے شہر بھر کو ٹریفک جام کا نشانہ بنانے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر ان کے مطالبات اتنے ہی اہم ہیں کہ انہیں منوانے کے لئے وہ اپنے احتجاج کے حق کو استعمال کرتے ہوئے آخری حدکو چھو لینا جائز سمجھتے ہیں تو انہیں اس بات کا بھی احساس ہونا چاہئے کہ جہاں ان کے حق کی حدود ختم ہوتی ہیں وہاں دوسرے شہریوں کے حقوق کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی حال اپنے مطالبات کے لئے پورے شہر کی ٹریفک جام کرنے والوں کا ہے ‘ جہاں ان کے احتجاج کی حدود قانون کے تحت ختم ہوتی ہیں ‘ وہیں تو شہر کے دیگر لاکھوں عوام کے حقوق کی سرحدیں آکر لگتی ہیں ‘ اس لئے شہر میں بلاوجہ ٹریفک جام کرنے والوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ پورے شہر کو ”لاک ڈائون” کی کیفیت سے دو چار کر دیں ‘ اس لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دوسرے شہریوں کے حقوق کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہ کر انہیں من مانی کرنے کی اجازت نہ دیں ‘ شہر میں ویسے بھی ٹریفک کا نظام کسی کے قابو میں نہیں ہے’ بی آر ٹی منصوبہ بنانے والوں نے یہ سوچ کر منصوبہ بنایا تھا کہ اس سے شہر کی ٹریفک درست سمت میں چل پڑے گی مگر یہ تجویز بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور اس منصوبے سے پہلے ٹریفک جس طرح سہولت کے ساتھ چلتی تھی ‘ اب اس جیسی بھی نہیں ہے ‘ اوپر سے کبھی کبھی احتجاج کرنے والے ٹریفک جام کی ”عیاشی” بھی شہریوں پر تھوپ دیں تو جو نتیجہ نکلتا ہے اس کے بارے میں تو سوچ کر ہی بندہ پریشان ہو جاتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   معاملات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟