سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے

ایک بہت پرانا لطیفہ ہے، کوئی صاحب اپنی آنکھوںکا ٹیسٹ کرانے کسی ماہر امراض کے پاس گئے تاکہ کم دکھائی دینے کا علاج عینک لگوا کر کراسکیں، ڈاکٹر نے انہیں مقررہ فاصلے پرلٹکے ہوئے بورڈ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھا! بتائیں آپ کو کونسی سطر تک لکھے ہوئے الفاظ دکھائی دیتے ہیں؟ اس شخص نے جو اب دیا، کونسے الفاظ؟ وہ جو بورڈ پر لکھے ہوئے ہیں، جواب آیا کونسا بورڈ؟ ڈاکٹر نے پھر کہا وہ جو سامنے دیوار پر لٹکا ہوا ہے، مریض نے کہا کونسی دیوار؟صورتحال گویا یوں تھی کہ
ہم نے جاکر دیکھ لیا ہے، حد نظر سے آگے بھی
حد نظر ہی حد نظر ہے، حد نظر سے آگے بھی
یہ لطیفہ یوں یاد آگیا کہ وفاقی وزیرسائنس وٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن کے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میںمساجد پر لاک ڈائون کا اطلاق نہ ہونے کے موقف پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مفتی صاحب کو چاند نظر نہیں آتا تو چھوٹا سا کورونا کہاںسے نظر آنا ہے۔ چوہدری فواد حسین نے مزید کہا ہے کہ اگر وزارت مذہبی امور کی وزارتی کمیٹی کے سربراہ حکومتی احکامات کا یوں مذاق اُڑائیں گے تو باقیوں سے کیا توقع؟ جبکہ دوسری جانب مفتی منیب الرحمن نے سال رواں رمضان المبارک کے چاند کی تاریخ پہلے ہی بتانے کے فواد چوہدری کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ یاد رہے کہ مفتی منیب الرحمن کے مساجد پر لاک ڈائون کا اطلاق نہ ہونے کے بیان پر طنز کرتے ہوئے چوہدری فواد حسین نے اس سال رمضان کا چاند 24اپریل کو دکھائی دینے کی پیشگوئی بھی کر دی ہے اور کہا کہ ارادہ تھا اس بار چاند دیکھنے کیلئے لوگوں کو اکٹھا کریں گے مگر اب کورونا نے ہر اجتماع منسوخ کروا دیا ہے۔ اب جہاںتک فواد چوہدری کے ہجوم اکٹھا کرنے کی خواہش کا تعلق ہے، بھلے اس کم بخت کورونا کی وجہ سے ان کی خواہش دم توڑ چکی ہے، تاہم جن علماء دین نے مساجد پر لاک ڈائون کے اطلاق نہ ہونے کا بیانیہ اختیار کیا ہے ان کو رویت ہلال کی شہادتیں اکٹھی کرنے کیلئے لوگوں کو بلوانے سے کون روک سکے گا؟ اگرچہ مفتی منیب الرحمن کی کمیٹی یہ کام نہیں کرسکے گی کہ اس کمیٹی کے اجلاس اکثر بلند وبالا بلڈنگوں کے ٹاپ فلور کی چھتوں پر ہوتے ہیں جہاں دوربین کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، تاہم زونل کمیٹیوں کے پاس مقامی سطح پر شہادتیں ضرور آتی ہیں اور اگر ان کمیٹیوں کو بھی سرکاری اقدامات کے نتیجے میں شہادتیوں کو اکٹھا کرنے کی اجازت نہ دی گئی (جس کی توقع خارج ازامکان نہیں ہے) تو پھر مفتی شہاب الدین پوپلزئی کو مردان، چارسدہ، بنوں وغیرہ کی مقامی (نجی) کمیٹیوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنا پڑے گا کہ انہیں شہادتیں اکٹھی کرنے کے دوران مفتی منیب الرحمن اور دیگر علمائے کرام کے بیانئے پر عمل کرنے سے روکنا شاید ممکن نہ رہے، جنہوں نے گزشتہ روز مشترکہ پریس کانفرنس میں اس کا اظہار کیا تھا یہ الگ بات ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی شاید فواد چوہدری کے اس موقف کیساتھ اتفاق نہ کریں کہ رمضان کا چاند24اپریل کو نظر آئیگا اورپہلا روزہ25اپریل کو ہوگا کیونکہ 24اپریل کو تو 30شعبان (اگر ہوا) ہوگا جبکہ ممکن ہے کہ خیبر پختونخوا میں مختلف شہروں کی نجی (علمائے کرام) کمیٹیاں 29شعبان یعنی 23اپریل کو اجلاس منعقد کریں اور اگر انہیں شہادتیں دستیاب ہوئیں تو پہلا روزہ 24اپریل کو بھی رکھوایا جا سکتا ہے۔ ہاں اگر سرکاری سطح پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی بھی فواد چوہدری کے بیانئے سے اتفاق کرتے ہوئے حسب معمول وروایت اپنے اجلاس میں 25اپریل کے رمضان کا اعلان کرے تو یہ الگ بات ہے ویسے بھی فواد چوہدری نے یہ کہہ کر کہ مفتی منیب الرحمن کو اتنا بڑا چاند نظر نہیں آتا تو چھوٹا کورونا کہاں سے نظر آنا ہے، مفتی شہاب الدین پوپلزئی کے موقف کی تائید نہیں کی جو وہ ہر سال رمضان اور عید کے موقع پر چاند دیکھنے کے حوالے سے (شہادتوں کی بنیاد پر) اختیار کرتے ہیں؟ یہ تو اچھا ہے کہ مفتی منیب الرحمن کو ہم ایک عرصے سے ایک ہی عینک استعمال کرتے ہوئے ٹی وی سکرینوں پر دیکھتے آرہے ہیں، وگرنہ انہوں نے کبھی عینک بدلی ہوتی تو اس شخص کی طرح یار لوگ مفتی صاحب پر بھی اسی کلئے کا اطلاق ضرور کرتے، جن کے پاس ایک نہیں تین تین عینکیں تھیں،کسی نے پوچھا حضرت یہ تین تین عینکیں کس خوشی میں؟ تو انہوں نے جواب دیا ایک دور کی چیزیں دیکھنے کیلئے، دوسری نزدیک یعنی پڑھنے پڑھانے کیلئے اور یہ تیسری عینک جب کبھی یہ دونوں عینکیں رکھ کر بھول جاؤں کہ کہاں رکھی ہیں تو ان دونوں کو ڈھونڈنے کیلئے اسی سے کام لیتا ہوں۔ اب جہاں تک رمضان یا عید کے چاندکا تعلق ہے تو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ممبران اور دیگر علمائے کرام رویت ہلال کو عین الیقین کے بیائیے کی بنیاد پر تو تسلیم کرنے کو تیار ہیں کسی سائنسی توجیح کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے اسی لئے تو ایک شاعر نے کہا تھا
تو اسے اپنی تمناؤں کا مرکز نہ بنا
چاند ہرجائی ہے ہر گھر میں اُتر جاتا ہے
ویسے فواد چوہدری کے طنز کو بھی جواباً طنزکا نشانہ بنایا جا سکتا ہے یعنی کورونا تو عام دوربین سے تو کیا عام خوردبین سے بھی دکھائی نہیں دیتا بلکہ انتہائی طاقتور خوردبین ہی سے دکھائی دے سکتا ہے جبکہ خود فواد چوہدری بھی اسے بغیر طاقتور خوردبین کے نہیں دیکھ سکتے اور چاند کو تو عام لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں تو پھر مفتی منیب الرحمن کو بلاوجہ طنز کا نشانہ بنانا کیا ضروری تھا؟ بقول اشکر فاروق
خطیب شہر کی جنگ اب امیر شہر سے ہے
سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے