سری لنکا ایمرجنسی نافذ

بدترین معاشی پالیسیاں،سری لنکا میںدوبارہ ایمرجنسی نافذ

کولمبو: سری لنکا میں صدرراجا پکسا کی بدترین معاشی پالیسیوں کیخلاف مظاہروں میں شدت آگئی اور مظاہرین کی جانب سے صدرسے استعفی دینے کے بڑھتے ہوئے مطالبہ پرصدرنے ایک بارپھرایمرجنسی نافذ کردی۔حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت کے زورپردبانے کے لئے سیکورٹی فورسز کو غیرمعمولی اختیارات سونپے گئے ہیں۔ قبل ازیں لگائی گئی ایمرجنسی میں صدر کو فوج تعینات کرنے، شہریوں کو بغیر وجہ بتائے گرفتارکرنے اوراحتجاج کو ختم کرنے کے اختیارات دئیے گئے تھے۔گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو میں طلبا نے پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ کیا اورپارلیمنٹ کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لئے آنسو گیس اورواٹرکینن کا بے دریغ استعمال کیا۔ پولیس اورمظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔واضح رہے کہ سری لنکا میں بدترین معاشی بحران کے دوران 5 ہفتوں میں دوسری مرتبہ ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔

مزید دیکھیں :   پختونخوا کا رابطہ منقطع کرنے پرصوبائی حکومت برہم