ضم اضلاع پر مزید توجہ کی ضرورت

ایک رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کے لئے حکومت پاکستان اور سکیورٹی فورسز مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہی ہیں تاکہ ان نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جا سکے اور یہ مختلف شعبوں میں کام کرکے باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ قبائلی اضلاع باجوڑ ‘ مہمند اور خیبر میں حکومت خیبر پختونخوا ٹیکنیکل ایجوکیشن ا ینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی خیبر پختونخوا ‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ خیبر پختونخوااور فرنٹیئر کور نارتھ کے باہمی اشتراک سے نوجوانوں کو ہنر کی فراہمی کے لئے اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ ضم اضلاع کے عوام انضمام کے جن ثمرات کے منتظر تھے اس میں ان کو یکسر محرومی کا سامنا کرنا پڑا ہے خیبر ایجنسی میں دہشت گردی کے دوران تباہ شدہ سکولوںکی حالت زار کا گزشتہ روز تذکرہ ہو چکا ہے جسے مشت نمونہ از خروارے گردانا جائے تو ضم اضلاع کے باقی علاقوں پر بھی ان کا انضباط نظر آئے گا صرف ضم اضلاع ہی میں محولہ صورتحال نہیں بلکہ زلزلہ سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی بحالی کا عمل بھی ہنوز ادھورا اور نامکمل ہے بہرحال جہاں تک حکومت اور سکیورٹی فورسز کے باہمی تعاون سے ضم اضلاع میں تعلیمی اداروں کے قیام بصورت کیڈٹ کالجز و سکولزاوردیگرپیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کا تعلق ہے اس سے انکار ممکن نہیں البتہ ان منصوبوں کو صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں کوتاہی کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتااس ضمن میں صوبائی حکومت کو بہرحال اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے یہ درست ہے کہ صوبے کو این ایف سی ایوارڈ میںضم اضلاع کے حصے کی تین فیصد رقم نہیں مل رہی ہے جو اپنی جگہ ایک عذراور مسئلہ ضرور ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ضم اضلاع میں سوائے سرکاری ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کے مزید کوئی قابل ذکر رقم خرچ نہیں کی جارہی بلکہ ساٹھ فیصد سے زائد رقم استعمال نہ ہونے کے باعث واپس ہو جاتی ہے جب تک اس ضمن میں ٹھوس اقدامات نہیں ہوں گے اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی استعداد و انتظامات کی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں ہو گا ضم اضلاع کے عوام کی شکایات میں کمی ممکن نہیں۔
بھتہ خوروں سے خطرات
ضلع خیبرکے علاقہ شاہ کس سے حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ پرواقع دو کارخانوں پر دستی بموں سے حملہ اور قبل ازیں پولیس کے اعلیٰ افسر کی ملکیتی پٹرول پمپ پر اس طرح کے واقعے کے پس پردہ عوامل کادرست علم ذمہ دار ملزمان کی گرفتاری اور تفتیش کے بعد ہی ہو سکے گا لیکن قیاس کی جاسکتی ہے کہ ان واقعات کے پس پردہ بھتہ کا مطالبہ تسلیم نہ کرنا ہی ان واقعات سے محولہ قسم کے گروہوں کے ایک مرتبہ پھر منظم ہونے کا شبہ فطری امر ہے علاوہ ازیں کے واقعات بھی امن و امان کی صورتحال میں خرابی پر دال ہیں جس کا تقاضا ہے کہ امن وا مان سے متعلق اور خا ص طور پر کاروباری افراد کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جائیں اور ان کا عدم تحفظ کا احساس اطمینان بخش اقدامات کے ذریعے دور کرکے تحفظ کا احساس اجاگر کیا جائے تاکہ عوام اور کاروباری برادری میں پھیلی ہوئی بے چینی کا خاتمہ ہو۔
قابل ذکر منصوبے کا افتتاح
وزیر اعلیٰ محمود خان اور وزیر صحت او رخزانہ تیمور خان جھگڑا نے گزشتہ روز خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں صرف صوبے کے پہلے بیس ماڈیولر آپریشن تھیٹروں کا افتتاح کیا ۔25 کروڑ روپے کی لاگت سے یہ آپریشن تھیٹر قائم کئے گئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ خیبر پختونخوا حکومت کا ایک بہت ہی شاندار قدم ہے جو اس صوبے میں صحت کی دیکھ بھال کے تصور میں انقلاب برپا کرے گا اور اس خطے کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ فوائد فراہم کرے گا۔کے ٹی ایچ میں صوبے کے پہلے بیس ماڈیولر آپریشنز تھیٹرز کا افتتاح صوبے میں صحت کی دیکھ بھال کے حوالے سے حکومتی اقدامات میں سے ایک نمایاں قدم ہے قبل ازیں صوبائی دارالحکومت کے دو بڑے ہسپتالوں اور اس سے متصل مختلف پیچیدہ امراض کے علاج کے مراکز کا قیام و تکمیل بھی ہو چکی ہے جس سے صوبہ بھر کے عوام کو علاج کی بہتر سہولتوں کا میسر آنا فطری امر ہے البتہ ڈویژن اور خاص طور پر اضلاع اور سب ڈویژنز کی سطح پر ہسپتالوں کی حالت میں بہتری لانے اور آلات تشخیص و عملے کی کمی دور کرنے پر اب بھی توجہ کی ضرورت ہے جس طرف کی حکومت کو خاص طور پر متوجہ ہونا چاہئے تاکہ دور دراز اور محروم علاقوں کے عوام کو بھی صحت کی مناسب سہولتیں میسر آئیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت صحت کارڈ کے مفید سہولت کے ساتھ ساتھ عوام کو روز مرہ کے علاج کی سہولتوں کی فراہمی پر بھی توجہ دے گی اور عوام کو ان کے قریبی ہسپتالوں اور مراکز صحت میںطبی سہولتوں سے استفادہ کرنے کے مواقع میسر آئیں گے ۔