نئے انتخابات کی باز گشت

پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اگر حکومت الیکشن کی تاریخ کا اعلان کردیتی ہے، بتادیتی ہے کہ فلاں تاریخ کو اسمبلی تحلیل کردی جائے گی تو صاف’ شفاف عام انتخابات کے لئے پارٹی کی مشاورت کے بعد ہم حکومت سے بات چیت کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کر سکتے ہیں۔اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم فوری الیکشن کا مطالبہ اس لئے کر رہے ہیں کہ کیونکہ اس وقت ملک تعطل کا شکار ہے۔ایک مخمصے کی صورتحال ہے’ جمود طاری ہے’ یہ حکومت فیصلے نہیں کر پا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ایک آئینی بحران ہے ‘گورنر کو برطرف کرکے جن کو نامزد کیا گیا وہ حلف لینے سے انکاری ہیں’ پنجاب کے پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کا کیس زیر سماعت ہے’ اگر ہمارے منحرف ایم پی ایز ڈی سیٹ ہوگئے تو کیا وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اعتماد کا ووٹ لے سکیں گے؟ نہیں لے سکیں گے۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے بھی انتخابی اصلاحات پر تعاون کیا تھا اور آج بھی انتخابی اصلاحات کے لئے ہم اس حکومت سے تعاون کے لئے تیار ہیں۔دوسری جانب لندن سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نون کی قیادت کا پرجوش حصہ بھی نئے انتخابات کی سوچ رکھتی ہے قبل از وقت الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیرداخلہ راناثناء اللہ کا کہنا تھاکہ اس کا فیصلہ صرف مسلم لیگ نون کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ ہمارے اتحادیوں کے فورم کے ہاتھ میں ہے اگر اتحادی کہیں کہ پہلے کروا دیں تو پہلے ہوجائیں گے اور مدت پوری ہونے کا فیصلہ کیا جائے تو مدت پوری ہونے کے بعد انتخابات کا فیصلہ ہو گا۔دوسری جانب پی پی پی کے قائدآصف علی زرداری نے انتخابی اصلاحات کے بعد مقررہ وقت پر انتخابات کے انعقاد کی رائے دی ہے جس سے قطع نظرگہرے گھائو کھانے کے بعد مسلم لیگ نون کی قیادت کا پرجوش حصہ اور تحریک انصاف کی قیادت جس نتیجے پر پہنچے ہوں گے اگر قرار دیا جائے کہ تمام تر سیاسی بُعد کے باوجود ایک مرکزی نکتے پر ہم خیال ہو چکے ہوں گے تو اچھنبے کی بات نہ ہو گی اس لئے کہ ہر دو قیادت مارگزیدہ ہو نے کے تجربے سے گزر چکی ہے یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جو ملک کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے کہ تمام تر سیاسی مخاصمت کے باوجود آزادانہ ‘ شفاف اور مکمل طور پر غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد اور نتائج تسلیم کرنے پربراہ راست یا بالواسطہ طور پر مفاہمت اور اتفاق رائے پیدا کیا جائے اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے سینئر رہنما کے بیان میں اس کا باقاعدہ عندیہ موجود ہے دیکھا جائے تو موجودہ ملکی حالات اور مستقبل کے ممکنہ حالات سے نکلنے کا موزوں راستہ ملک میں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے حکومت کا انتخاب اور نتائج کو تسلیم کرکے جمہوری اقدار کی پابندی و تعاون اختیار کرنا ہے انتخابات سے قبل اگر اس پر اتفاق رائے ہو جائے تو یہ ایک ایساامر ہو گا جس کے بعد پہلے سے نیوٹرل ہونے کا اعلان کرنے والی اسٹیبلشمنٹ حقیقی معنوں میں غیر جانبدار ہوسکتی ہے اس کا آسان راستہ خود سیاسی قیادت کی جانب سے آبیل مجھے مار سے اجتناب کرنے میں ہے ایک مرتبہ سیاسی قیادت کسی سہارے کے بغیر انتخابات کے انعقاد اور نتائج کو تسلیم کرنے پر متفق ہو جائے تو ملک میں سویلین بالادستی اور بااختیار حکومت قائم ہونے کی راہ ہموار ہو گی اور اگر ماضی کی طرح اسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے کی غلطی کا اعادہ ہوتا رہا تو ہر حکومت کا حشر اپنے پیشروئوں سے مختلف نہیں ہوگا جہاں تک حالات کے تناظر میں انتخابات کے فیصلے کے موافق ہونے کا سوال ہے اگر دیکھا جائے تو خود مسلم لیگ نون کا ایک حصہ موجودہ وقت میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے حق میں نہیں تھی ابھی بھی وہ رخصت شدہ حکومت کا بوجھ اپنے کندھوں پر لینے کی غلطی کی نشاندہی کرتی نظر آتی ہے ۔ مسلم لیگ نون کی اہم رہنما مریم نواز نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ مخلوط حکومت بڑے فیصلے نہیں کر سکتی جس طرح بھان متی کا کنبہ جوڑ کرحکومت قائم کی گئی ہے ان میں مکمل اتفاق رائے اور سبھی کو ساتھ لے کر چلنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گاایسے میں جبکہ ملک کے معاشی حالات بھی موافق نہیںتو تحریک انصاف کی حکومت کے حصے کا بوجھ بھی اگر وزیر اعظم اپنے کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کرے گا تو ایسا شاید ہی ممکن ہو سکے گا بنا بریں انتخابات ہی وہ راستہ ہے جس پر مخالفین بھی ساتھ چلنے پر آمادگی کی پیشکش کر رہے ہیں اس کے اعلان سے سیاسی بحران تھم جائے گا البتہ اس سے ملک پر انتخابی اخراجات کا جو بوجھ پڑے گا اسے معیشت میں سہارنے کی سکت نہ ہونا ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جس کا موزوں جواب نہیں مل رہا بہرحال حکومت کو مثبت جواب دینے کے لئے اپنے اتحادیوں کو راضی کرنے کی ضرورت پڑے گی تاکہ ملک سیاسی طور پر ایک نئے انتشار سے دوچار نہ ہو اور آئندہ جو بھی قیادت آئے وہ اعتماد کے ساتھ ملک کو ان حالات سے نکالنے کی ذمہ داری نبھائے۔ملک اس وقت جس بحران سے گزر رہا ہے عام انتخابات کے سوامسائل کا کوئی حل سجھائی نہیں دیتا البتہ انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور افہام و تفہیم سے ایسی انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے جو ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے حامل ہوں اور اس پر پوری طرح عملدرآمد کا فیصلہ اور اتفاق بھی کیا جائے ۔ حکومت کو چاہئے کہ سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے ساتھ اصلاحات کے کام کا آغاز کریں اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی مفاہمت کا رویہ اختیار کرنے اور ماضی کے ناکام تجربات سے گریز کا رویہ اختیار کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے ۔