ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ

پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا
ویب ڈیسک:پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے ممنوعہ فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔
پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے
پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں الیکشن کمیشن کی کارروائی غیر قانونی قرار دینے اور ممنوعہ فنڈنگ کیس میں شوکاز نوٹس بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔
اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا 2 اگست فیصلہ بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ ذرائع سے فنڈنگ حاصل کی۔

فیصلے میں بتایاگیا تھا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے اور پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یو ایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہو گئی۔

مزید دیکھیں :   سیلاب متاثرین کورقوم کی ادائیگی بائیومیٹرک تصدیق کے بعدہوگی