قانون سے کھلواڑ کیوں؟

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹرز جہاں ایک جانب سینیٹ اجلاس سے خطاب میں ملزم شہباز گل کے بیان کو بڑی غلطی قرار دے کر ناقابل قبول قرار دے رہے ہیں تو وہاں دوسری جانب عدالتی احکامات کے مقابلے میں متعلقہ حکام کو تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے مبینہ عدم تعاون کے احکامات اور ان سے جھوٹے بیانات لے کر ان کے خلاف استعمال کرنے، تفتیش کے عمل پر اعتراضات اور خاص طور پر ریمانڈ دینے والے جج کو مجرم قرار دینے کا رویہ ناقابل فہم اور قانون سے مذاق ہے، مستزاد عدالتی احکامات کے باوجود ملزم کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کا سرکاری حکام کا رویہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، بہرحال عدالتی احکامات پر رینجرز کے ذریعے عمل درآمد کی ذمہ داری تو پوری کرلی گئی لیکن سرکاری حکام کا جس قسم کا ناقابل برداشت رویہ سامنے آیا اور تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے ہدایات کو جس طرح عدالتی احکامات پر مقدم گردانا گیا یہ ناقابل معافی عمل ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئیم، سرکاری حکام کی سیاسی عمائدین سے وفاداری میں فرائض منصبی کے تقاضوں سے پہلو تہی اور سنگین خلاف ورزی اور عدالتی احکامات کی تعمیل میں رخنہ پیدا کرنے کا رویہ کسی طور مناسب نہیں جو بغاوت کے زمرے میں آتا ہے توہین عدالت کا ارتکاب ہوا یا نہیں اس کا عدالت کو فیصلہ کرنا ہے شہباز گل پر سنگین الزامات ہیں جن کی تفتیش آزادانہ اور منصفانہ ہونی چاہئے اور ملوث عناصر اور ممکنہ سرپرستوں سمیت جو بھی اس سازش میں ملوث ہو ان کو بے نقاب کرنے کی ذمہ داری میں کوتائی کی گنجائش نہیں، ملک میں آئینی عہدوں پر براجمان افراد کی جانب سے ایک سیدھے سادھے قانونی و آئینی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی جو مثالیں قائم کی گئی تھیں اب اس کی جھلک سرکاری عمل کے کردار و عمل میں بھی نظر آنے لگی ہے جو باعث تشویش امر ہے، ایک جانب غلطی کو ملزم کے سر ڈالنے کا عمل ایوان بالا کے فلور پر سامنے لایا گیا تو دوسری جانب اسی ملزم کی پشت پناہی اور اس ملزم کے کسی امکانی بیان کو اپنے لئے خطرہ فرض کرلینے کا رویہ ناقابل فہم ہے، بہتر ہوگا کہ قانونی اور عدالتی معاملات میں رخنہ ڈالنے کی بجائے قانون کو اس کا راستہ لینے کا موقع دیا جائے اور معاملات کو عدالتوں کے باہر مشکوک بنانے کی بجائے عدالتوں میں کسی امکانی صورتحال سے نکلنے کی پوری قانونی تیاری کی جائے تاکہ وقت آنے پر سہولت رہے اور پوری تیاری کے ساتھ قانونی دفاع کا حق بھرپور طریقے پر استعمال کیا جاسکے ادھر ادھر کی بات کرکے خواہ مخواہ معاملات کو خود ساختہ خدشات کے ذریعے اپنی جانب رخ موڑنے کا رویہ عاقبت نا اندیشی ہے آزادانہ تفتیش کے بعد جو بھی صورتحال سامنے آئے گی معاملات بہرحال اسی کی روشنی میں آگے بڑھیں گے اس لئے کسی انجانے خوف کا شکار ہونا لاحاصل ہوگا۔
حیات آباد میں گرانفروشی عروج پر
حیات آباد میں دکانداروں کی من مانی اور اضافی و ناجائز منافع خوری کے حوالے سے ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ چشم کشا ہے جس کے مطابق فیز 6 کی مارکیٹیوں میں اندھیر نگری کا بازار گرم ہے لیکن متعلقہ حکام کے کانوں پر چونک تک نہیں رینگتی۔ حیات آباد میں مہنگائی کی دگنی شرح تو معمول کی بات ہے بعض اوقات اس سے بھی بڑھ جاتی ہے جو علاقے کے سفید پوش لوگوں کی استطاعت سے باہر کا معاملہ ہے، حیات آباد کے حوالے سے نجانے دکانداروں اور حکام نے یہ کیوں فرض کرلیا ہے کہ مکینوں کی قوت خرید زیادہ ہے اس لئے کند چھری استعمال کی جائے اور ایسا کرنے کی اجازت دی جائے حیات آباد نواب مارکیٹ میں روٹی 30 روپے کی بکتی ہے اور اس کا وزن 20 روپے کی روٹی سے کسی طور پر زیادہ نہیں شام کے بعد تو روٹی کا وزن مزید کم کردیا جاتا ہے اسی طرح دودھ اور دہی کی قیمتوں میں بیس سے لیکر چالیس روپے سرکاری ریٹ سے اضافی وصول کئے جاتے ہیں یہاں تک کہ چھابڑی فروش بھی دگنے نرخ وصول کرنے کو حق گردانتے ہیں ان کے بے لگام ہونے کی واحد وجہ حکام کی ناکامی اور چشم پوشی ہے چھاپہ پر آئے حکام بھی بتا کر آتے ہیں اور نمائشی کارروائی کے ساتھ ساتھ کچھ ملی بھگت بھی کرتے ہیں جس کی بنا پر چھاپے کے پانچ منٹ بعد ہی چیزوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور حیات آباد کے مکینوں کو اس لوٹ مار سے کب نجات دلائی جائے گی؟

مزید دیکھیں :   اسحاق ڈار سے عوام کی توقعات