تاجر حضرات مسئلے کی شدت کو سمجھیں

پشاور کی تاجر برادری کی جانب سے صوبائی حکومت کے متعین کردہ کاروبار کے اوقات کو مسترد کیا جانا انتہائی افسوس ناک ہے ' کیوں کہ تاجروں کے اس عمل سے بازار کھل جائیں گے اور کھلے بازار کو دیکھ کر عوام کی بڑی تعداد بازاروں کا رُخ کرے گی کیوں کہ ڈیڑھ ماہ پر مشتمل لاک ڈائون کے باعث عوام بازاروں میں جا کر اپنی ضروریات کی اشیاء خریدنا چاہئیں گے' اور چونکہ رمضان المبارک میں عید کی تیاریاں زوروں پر ہوتی ہیں اس وجہ سے بھی عوام بازاروں کا رُخ کریں گے یوں خطرہ ہے کہ عوام کے جم غفیر کی وجہ سے کورونا وائرس پھیل جائے گا' اس وجہ سے حکومت کی طرف سے لاک ڈائون میں بار بار میں توسیع کی جا رہی ہے کیوں کہ طبی ماہرین کے مطابق مئی کے وسط تک کورونا کے پھیلنے کے خدشات ہیں' اگر عوام گھروں پر رہتے ہیں تو نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن اگر تاجر برادری کی غلطی کی وجہ سے عوام گھروں سے باہر آتے ہیں تو پھر حکومت ' تاجر برادری اور عوام سبھی کیلئے مشکلات ہوں گی۔ تاجر برادری کو یہ بات بخوبی سمجھ لینی چاہیے کہ اگر خدانخوانستہ کورونا کے پھیلائو میں اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کے پاس سخت لاک ڈائون یا کرفیو کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہو گا کیوں کہ کورونا کی تاحال کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی ہے اس صورت میں کاروبار مکمل طورپر بند کرنا پڑسکتا ہے ،کورونا کا فی الحال مؤثر ترین علاج احتیاطی تدابیر اور لاک ڈائون بتائی جا رہی ہے' اگرچہ تاجر برادری کو نقصان کا خدشہ ہے اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے ان کیلئے مشکلات ہیں لیکن یاد رکھنا چاہیے حکومت اور انتظامیہ تاجروں کے نقصان سے بخوبی آگاہ ہے ' یہ صرف تاجر برادری ہی کا نقصان نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت تاجروں کے کاروبار کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اس لیے حوصلہ رکھیں اور جہاں ڈیڑھ ماہ صبر کے ساتھ گزارہ ہے محض 15دن مزید گزار لیں ۔
پشاور میںکورونا متاثرین کا اضافہ!
پشاور میںکورونا کی 8اموت کے بعد طبی ماہرین نے پشاور میںکورونا سے مزید اموات واقع ہونے سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور قدیم شہر ہونے کے ساتھ ساتھ گنجان آباد ہے ' اور ماہرین طب کے مطابق گنجان آباد علاقوں میں کورونا پھیلنے کے امکانات دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں ' اس لیے پشاور کے باسیوں کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میںکورونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کا فقدان سامنے آیا ہے ' لوگ ماسک پہننے میں لاپروائی برت رہے ہیں ' اسی طرح بڑی تعداد میں لوگ گھروں سے باہر ہیں' یہ کورونا کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات ہیں' اس ضمن میں انتظامیہ کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چند روز مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے گھروں پر رہیں' اگر کسی ایمرجنسی یا ضرورت کے تحت باہر نکلنا بھی پڑے تو ماسک پہنچ کر اور مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد گھروں سے باہر نکلیں ' پاکستان میں ڈاکٹر مئی کے مہینے کو خطرناک قرار دے رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر ممالک میں کورونا کے تیسرے مہینے میں شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے ' سو اس شرح اموات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ہاں بھی مئی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے اور عوام سے اس ماہ میں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا جا رہا ہے' پشاور کے عوام کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پشاور میںکورونا کے مریضوں کی جو تعداد فی الحال ہے یہ بہت کم ہے' اس پر ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے ' اگر خدانخواستہ اس تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمارا شعبہ صحت اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے گھروں میں رہیں اور محفوظ رہیں۔
بھارت مسلمان دشمنی میں اندھا ہو گیا
بھارتی حکومت اپنے ملک میں کورونا کے پھیلائو کا ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرا رہی ہے' مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر' ان کے خلاف کاروبار کے بائیکاٹ اور تشدد کی لہر نے سر اُٹھالیا ہے' دوسری طرف بھارتی مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے بعد خلیجی ممالک میں بھارت کے خلاف فضا نے حکمرانوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے اور صورت حال یہ ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت اعلیٰ حکام اور سفیر عرب ریاستوں کے حکمرانوں کو فون کر کے غم و غصہ کی لہر کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کورونا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے،سب سے پہلے چین' پھر یورپ اس مہلک وائرس سے متاثر ہوئے ہیں لیکن کسی نے بھی مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا ہے جب کہ متشدد ہندو مسلمان دشمنی میں تمام حدیں پار کر گئے ہیں اور کورونا کا ذمہ دار بھارتی مسلمانوں کو قرار دے کر ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے ' عرب ریاستوں نے اگرچہ بھارتی حکام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ سیکولر بھارت کا اصل چہرہ یہی ہے۔