مشرقیات

لوگوںنے چھریاں تیز کی ہوئیں ہیں اور کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہیں دیکھا جو موقع سے فائدہ نہ اٹھاتا ہو۔ایسے میں کسی چیز کے دام گر رہے ہیں نہ ہی کوئی قانون کی رٹ کی پرواہ کرتا ہے۔آپ دیکھ لیں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوں توراتوںر ات پٹرول غائب ہو جاتا ہے جن کے پٹرول پمپ بھرے ہوں وہ مہنگے ہونے کی پہلے سے خبر پاکر پٹرول کی فروخت بند کردیتے ہیں رات بارہ بجے کے بعد جب مہنگے داموں پٹرول فروخت کرنے کا فیصلہ لاگو ہو جاتا ہے تو یہ تیلی حضرات راتوں رات کروڑوں روپے کا چونا لوگوں کو لگا دیتے ہیں۔ایسے ہی پٹرول سستا ہونے کی نوید بھی انہیں سرکار قبل ازوقت سنا دیتی ہے اور وہ اپنا ذخیرہ جلد ازجلد فروخت کرکے سستے داموں اسے فروخت کرنے سے بچ جاتے ہیں،تیلی حضرات کے علاوہ بھی دیگر کاروبار حیات سے وابستہ لوگ بھی پٹرول کی قیمتوں کو مد نظر رکھ کر اپنا ریٹ بڑھا لیتے ہیں تاہم جب پٹرول کی قیمت کم ہو جائے تو ان تاجروں کو پتا ہی نہیں چلتا اور ہر چیز کے وہی دام چکانے پڑتے ہیں جو پٹرول کے مہنگا ہوتے ہوئے ہما شما ادا کرتے ہیں۔تازہ ترین مثال لے لیں سرکار نے رحم کرتے ہوئے پورے دو مہینے لگائے خدا خدا کرکے پٹرول کی قیمت میں بارہ روپے کی کمی کی گئی تاہم مجال ہے کہ تاجر حضرات نے اس پر توجہ دی ہو وہی مہنگائی ہے اور من مرضی کے ریٹ۔ان ہی سطور میں ہم عرض کرتے رہتے ہیں کہ مہنگائی کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ بد انتظامی ہے۔شہر میں روزمرہ کی اشیاء کے نرخ سرکار کی طرف سے مقرر کئے جائیں تو بھی یہ صرف دکانوں میں برکت کے لیے آویزاں کئے جاتے ہیں یا پھر ان بابوئوں کی طفل تسلی کے لیے جو گھر بھر کا سودا ضرورت پڑتے ہیں بازار سے خریدنے نکل پڑتے ہیں تو انہیں سرکار کے ریٹ بلکہ اس سے بھی کم داموں خریدنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ان میں ایسے بابو بھی ہوتے ہیں جنہیں تاجر حضرات گھر بیٹھے سپلائی کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں اور مجال ہے کہ ایک پھوٹی کوڑی بھی یہ بابو حضرات سودا سلف کے بدلے ادا کرتے ہوں۔ان کا بل آگے سے تاجر حضرات ہم سے وصول کرتے رہیں سود درسود۔بس مہنگائی کی یہ وجہ سرکار کو سمجھ آگئی تو سمجھیں کوئی تدارک بھی ہو جائے گا ورنہ کندچھری سے ذبح ہوتے وقت ہماری چیخ وپکار کب سرکار نے سنی ہے۔توجناب پٹرول سستا ہونے کے باوجود اس کا فائدہ صرف ہم کو یہ ملا ہے کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت پر بارہ روپے بچ گئے اب آگے سے بجلی ،گیس کے بل میں سرکار نے ہی یہ دوسرے ہاتھ سے واپس لینے ہیں یا پھر ان تاجر حضرات کو ہم اب اضافی ادائیگی کرنی ہوگی جو روزمرہ کی بنیادوں پر چیزوں کے نرخ مقرر کرتے ہیں اپنی مرضی سے اور ہم ان کی مرضی کے سامنے پر نہیں مارسکتے۔

مزید دیکھیں :   آلودگی اور بڑھتی ہوئی بیماریاں