ایک نظر حیات آباد پر بھی ڈالئے

اس مرتبہ پھر کالم حیات آباد کے نام کرنا پڑے گا اس لئے کہ ایک طویل اور تفصیلی مراسلہ ملا ہے جس میں حیات آباد کے مکینوں کے مختلف مسائل کے حوالے سے شکایات اور حقائق کا بیان ہے ۔ حیات آباد کے مسائل کااس کالم میں تواتر سے بیان میری ترجیح نہیں بلکہ یہ وہاں کے مکینوںکی کاوش ہے کہ وہ اکثر و بیشتر اپنے مسائل کے حوالے سے تحریری رابطہ کرتے ہیں حیات آباد میں بی آر ٹی بسوں کے اکثر سٹاپ بن چکے ہیں لیکن نواب مارکیٹ کا سٹاپ نجانے کیوں نظرانداز کیا گیا جہاں معمر افراد کو گاڑی سے اترنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے فٹ پاتھ تو بن چکا ہے لیکن سڑک پر گڑھے اور نالی نما بن جانے سے فٹ پاتھ کے قریب لا کر مسافروں کو اتارنا ممکن نہیں جس کے باعث ضعیف مسافروں اور خواتین کوسخت مشکل کا سامنا ہے اس پرتوجہ کی ضرورت ہے اب تیسرے روٹ کی بھی اسی سڑک پر منظوری ہو چکی ہے تین تیں یا کم ازکم دو بسیں بھی بیک وقت آجائیں تو مزید مشکل ہو گی لہٰذا جتنا جلد ممکن ہو سکے یہ مسئلہ حل کر دیا جائے ایک اور مسئلہ بلکہ دلچسپ مسئلہ فیز چھ ایف نائن سے یہ بیان کیاگیا ہے کہ نواب مارکیٹ میں سرکاری ریٹ پردودھ کی فروخت کے لئے ایک ماڈل ملک شاپ بنایاگیا بلکہ پہلے سے موجود ملک شاپ کو رنگ و روغن کرکے ماڈل ملک شاپ کا درجہ دیا گیا اور کمشنرپشاور ریاض محسود سے اس کا افتتاح کرایا گیا تین دن سرکاری نرخ نامہ آویزاں اوراس کی پابندی ہوتی رہی اب اس ملک شاپ پر دودھ ایک سونوے روپے کلو بکتا ہے کمشنر صاحب اس دکان کا افتتاح کرنے کیسے آئے تھے مگران کے افتتاح کو جس طرح دودھ کا یہ دکاندار کیش کروارہا ہے وہ علاقے کے مکینوں کوبہت ہی مہنگا پڑ رہا ہے اس کی شکایت بھی کوئی کرے تو کس سے کمشنر پشاور ہی کچھ کریں تو کریں۔اعلیٰ سرکاری افسران کو اس طرح بلا سوچے سمجھے کوئی کام نہیں کرنا چاہئے یا پھر انہوں نے جس مقصد کے لئے افتتاح کرکے عوام کوریلیف دینے کا عندیہ دیا تھا اسے پورا کیا جائے عوام دودھ سرکاری نرخ پر خریدنا چاہتے ہیں اس کا وعدہ کمشنر نے افتتاح کرکے کیا تھا اب خلاف ورزی ہو رہی ہے اسی طرح روٹی بھی تیس روپے کی بکتی ہے اور وزن بھی کم ہے محکمہ خوراک کی جانب سے صرف نمبر لکھوانا کافی نہیں کبھی کبھار چکر لگانے کی ذمہ داری بھی نبھائیں تو بات بنے بات نہ بھی بنے تو کم ازکم شہرنا پرسان کا گلہ تو نہ رہے ۔ شہر ناپرسان پورا حیات آباد بنا ہوا ہے منشیات فروشی عام ہے دیوارپھاند کر آنے والے چرس اور آئس مارکیٹ کے سامنے کھڑے ہو کر موٹر سائیکل پر گھر گھر گلی گلی جا کر سپلائی دیتے ہیں مگرمجال ہے کہ کوئی پوچھنے والا ہو یہ تو اچھا ہوا کچھ دنوں سے منشیات کے عادی افراد خال خال نظر آنے لگے ہیں ورنہ پہلے تو حیات آباد ان کا گڑھ تھا ۔سیف حیات آباد کو بحال کیا جائے اور ایف سی اہلکاروں کی حیات آباد کی چاردیواری کی حفاظت کی ذمہ داری نہ نبھانے کا نوٹس لیا جائے ۔حیات آباد کے مکین آج بھی کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیورشہید کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے پوسٹوں پر قمیض اتارکر سونے والے اہلکاروں کو وردی پہنا کر ہاتھ میں بندوق تھما کر فرائض کی ادائیگی کا پابند بنایا تھا ان کے بعد کسی کمانڈنٹ ایف سی کو یہ توفیق نہ ہو سکی معلوم نہیں حکومت ان کوسونے کی تنخواہ کیوں دیتی ہے اگر ان سے کام نہیں لینا اور انہوں نے کام نہیں کرنا ہے تو ان کو یہاں سے ہٹایا جائے فالتو کی تنخواہ تو نہ دی جائے خواہ مخواہ سرکاری خزانے کا نقصان کیوں ہو۔ جس مسئلے کے حوالے سے جس سنجیدگی کے ساتھ مراسلہ نگار نے بات کی ہے سمجھ سے بالاتر امر ہے کہ کوئی بھی کمانڈنٹ ایف سی اس سے غافل کیوں ہے حیات آباد حساس علاقہ ہے اور علاقہ مکینوں کی حفاظت کے لئے ایف سی تعینات تو ہے مگر ڈیوٹی نہیں کرتی اگرایک فورس کا یہ عالم ہے تو کسی اور سے کیا گلہ امید ہے کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیلری اس مسئلے کا نوٹس لیں گے اور افسران کو وقتاً فوقتاً اہلکاروں کوچیک کرنے کی بھی ہدایت کرکے مکینوں کی شکایت کا ازالہ کریں گے یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے لئے مزید وسائل درکار ہوں صرف کام لینا ہے اور پابند کرنا ہے کہ کام کرنا ہے حیات آباد کی چاردیواری حفاظت نہ ہونے کے باعث جگہ جگہ سے توڑ دی گئی ہے کانٹا تار کاٹ کر لے جایاگیا ہے ۔ حیات آباد ایف نو میں بعض خالی پلاٹوں کی اچھی طرح صفائی کردی گئی ہے جو احسن اقدام ہے لیکن گلی نمبرگیارہ کے مکینوں نے شکایت کی ہے کہ ان کی گلی میں ایک پلاٹ کی بری حالت ہے معلوم نہیں ارد گرد کے پلاٹوں کی صفائی کرنے والوں نے اسے نظرانداز کیوں کیا انہوں نے پی ڈی اے کے حکام سے اس پلاٹ کی بھی صفائی کامطالبہ کیا ہے علاقے کے مکینوںسے جب فی گھرانہ صفائی کی مد میں باقاعدگی سے رقم کی وصولی ہوتی ہے تو ان کے علاقے کی صفائی بھی تو ہونی چاہئے یہ ان کا حق ہے وہ اس کے لئے ادائیگی کرتے ہیں پی ڈی اے کو جب رقم کی وصولی ہوتی ہے تو پھر عوام کو خدمات کی فراہمی کیوں نہیں ہو رہی ہے ان کو شکایت کا بار بارموقع کیوں دیا جارہا ہے ۔ علاقہ کے مکینوں نے پولیس گشت نہ ہونے کی بھی شکایت کی ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر رقم دے کر چوکیداروں کاجوبندوبست کیا گیا ہے اس کے بل پردرج نمبر ہی بند ہے مکینوں کوعلم ہی نہیں کہ یہ کون لوگ ہیں اور کام کرتے بھی ہیں یا نہیں ان کو یہ معلوم ہے کہ ماہانہ سو روپے فی گھر وصولی کرنے آجاتے ہیںمگرگاڑیوں سے بیٹریاں چوری کرنے والوں کا کام بھی برابر جاری ہے علاقہ ایس ایچ او ان کے حوالے سے معلومات حاصل کرکے مساجد کے دروازوں پر کوئی ا طلاعی مراسلہ چسپاں کرکے یاپھر علاقے کے چند لوگوں مثلاً امام مسجد ہی کو آگاہ کیا جائے تو مکینوں کو اطمینان ہوگا پولیس کو ان افراد پر بھی نظر رکھنی چاہئے اور رات کاگشت کرکے علاقہ مکینوں کو تحفظ کا احساس دلانا چاہئے ۔ایک پوش علاقے کے تعلیم یافتہ مکینوں کی یہ شکایات ایسی نہیں جس پرحکومت کی جیب سے کوئی مصارف ہوں صرف نوٹس لے کر اور انتظام پرتوجہ دے کر ان کا حل ممکن ہے اور بس۔
قارئین اپنے پیغامات 03379750639 پر واٹس ایپ ‘ کر سکتے ہیں

مزید دیکھیں :   نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے