راست گو اور وفا شعارکہاں سے لائیں؟

آرٹیکل62ون ایف میں ترمیم کا بل ایوان بالا میں پیش کر دیا گیا جس میں آرٹیکل62سے صادق اورامین کی عبارت ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ترامیم کے مطابق صادق اور امین کی عبارت کو راست گو اور وفا شعار میں تبدیل کیا جائے یادرہے کہ آرٹیکل62ون ایف کے تحت ہونے والی نااہلی تاحیات ہے جسے اب چیف جسٹس نے بھی ڈریکولا قانون قرار دے دیا ہے حالانکہ اس قانون کے تحت وہ ملک کی اہم شخصیات کونااہل قرار دے چکے ہیں بہرحال امکان یہی ہے کہ اس قانون میں تبدیلی کی صورت میں ممکنہ طورپرتاحیات نااہلی ختم کردی جائیگی۔اس بل کے پیش کرنے کا مقصد و مدعا قانون میں ترمیم اور بعض اہم شخصیات کے لئے راستہ ہموار کرنے ہی کا نظر آتا ہے جاری سیاسی منظر نامے میں یہ سیاسی ضرورت بن گئی ہے جس سے قطع نظر اگراس کے الفاظ پر نظر دواڑائی جائے تو کم ہی سیاستدان اس پر پورا اترتے ہوں گے یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ راست گو اور وفاشعار جیسے الفاظ پر بھی سیاستدان پورا نہیں اترتے کیونکہ پاکستان کی سیاست ہی وفاداریاں تبدیل کرنے ‘ مفاد پرستی اور جھوٹ سے عبارت ہے اگر ان خواص و عوامل کو ملکی سیاست سے نکال دیا جائے یا پھر ان کو پوری طرح لاگوکیا جائے تو ملک میں سیاست و حکومت دونوں ہی چلانا مشکل ہوجائے مروجہ پاکستانی سیاست جھوٹ و فریب حقیقت پسندی کی جگہ اندھی تقلید اور دوہرے معیار وتضادات سے عبارت ہے جس کا اطلاق تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں اور سیاسی شخصیات پر ہوتا ہے اصول کی سیاست اور نظر یاتی سیاست کے دعویداروں کو عوام بھی بدقسمتی سے قبول نہیں کرتی اور وہ سکڑائو کا شکار چلے آتے ہیں جبکہ موروثی اور شخصیات کی سیاست کا بول بالا ہے بدقسمتی سے مقتدر عناصر بھی انہی لوگوں ہی میں حکمران تلاش کرنے کی غلطی کرتے ہیں شاید انہیں بھی راست قسم کے عناصر راس نہیںآرٹیکل 62 ون ایف میں تبدیلی الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ اہم شخصیات کے لئے راہ ہموار کرے گی اور اگر حقیقی معنوں میں راست گوئی اور وفا شعاری کی خصلتیں سیاستدانوں میں آجائیں اور یہ سیاست کا معیار بن جائے تو ملک سے مختلف مشکلات و مسائل اور بدعنوانی کے خاتمے کی راہ ہموار ہو گی عوام کی نمائندہ حکومت اقتدار میں آجائے تو عوام اور سیاست دونوں کے لئے بہتر ہو گا لیکن معروضی حالات میں اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے ۔
پٹرول کے پیسے بھی ختم
صوبہ میں تقریباً6لاکھ ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر کے بعد سرکاری گاڑیاں بھی تیل کے بحران کا شکار ہوگئی ہیں۔ پشاور سمیت متعدد اضلاع کے پٹرول پمپس پر سرکاری گاڑیوں کو عدم ادائیگی پر تیل کی فراہمی بند کرنے کی شکایات ہیں۔سرکاری گاڑیوں کا جس طرح غیر مجاز افراد بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے یہ صوبے کے خزانے پر بہت بڑا بوجھ ہے صوبائی حکومت کو اس امر کویقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ صرف مجازگریڈ کے افراد ہی کو گاڑی اور پٹرول کی سہولت ملے جس کی ادائیگی حکومت کے لئے زیادہ مشکل نہ ہو گی اس وقت جتنی سرکاری گاڑیاں مستعمل ہیں اس کی اکثریت کو قانونی طور پرسرکاری گاڑی کا استحقاق ہی نہیں اس کے باوجود استعمال پرادائیگی کیوں ہوتی ہے اس کاکوئی پرسان حال نہیں نہ ہی گاڑی کے استعمال اور نہ ہی پٹرول کی رقم کی ادائیگی میں قانونی تقاضوں کا خیال رکھا جاتا ہے جو صوبے کے خزانے اور عوام پر بوجھ ہے اس ضمن میں پالیسی توواضح ہے سرکاری گاڑی استعمال کرنے والوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ یہ ان کا استحقاق نہیں مگراس کے باوجود استعمال جاری ہے جو حکومت کی کمزوری و بے بسی کو ظاہر کرتا ہے بہرحال اس کی روک تھام حکومت اگر نہیں کر سکتی تو سول سوسائٹی کو عدالتوں سے رجوع کرنا چاہئے یاپھر عدلیہ ہی اس کا نوٹس لے تاکہ صوبے کو اس اضافی بوجھ سے نجات ملے ۔
جرگہ تسلیم
عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدرکی اساتذہ کی درخواست پر ایڈورڈز کالج کا دورہ ملتوی کردینا احسن اقدام ہے سیاستدانوں کے تعلیمی اداروں کے دورے کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن سیاستدان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے جو زباں استعمال کرتے ہیں اور روایتی سیاست سے گریز نہیں کرتے وہ معیوب امر ہے ویسے بھی ہمارے سیاستدانوں میں ماضی کی طرح سنجیدہ اور متین خطاب کرنے والوں کی کمی ہے طالب علموں سے خطاب کا تقاضا اخلاقی اقدار کی پاسداری اور طالب علموں کو تعلیم کے حوالے سے پندو نصائح کی متقاضی ہوتی ہے جس سے ہمارے سیاستی عناصر علاقہ نہیں رکھتے ۔بہرحال اساتذہ کے جرگے کوقبول کرکے کالج کی انتظامیہ کو کسی مشکل سے دوچار کرنے سے احتراز احسن امر ہے البتہ کالج انتظامیہ کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ سیاستدانوں کے خطاب کی ابتداء ہی نہ ہونے دیتے۔

مزید دیکھیں :   سیاسی کشمکش میں اضافہ