من پسندکرائے’ شہریوں اور ٹرانسپورٹرز میں جھگڑے معمول بن گئے

ویب ڈیسک : پشاور سمیت صوبہ بھر میں سی این جی بندش کے باعث ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرائے بڑھا دیئے ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے کرائے بڑھانے کے معاملہ پر شکوہ کرنے سے لڑائی جھگڑے بھی معمول بن گئے ہیں بس اڈوں میں ٹرانسپورٹرز نے بیشتر گاڑیاں بھی کھڑی کردی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کو سفری سہولت سے محروم کر دیا گیا ہے رکشہ سے لیکر بڑی بڑی گاڑیوں کے ٹرانسپورٹرز نے من پسند کرائے مقرر کر دیئے ہیں جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑ رہا ہے
صوبائی حکومت نے یکم جنوری سے صوبہ بھر میں سی این جی سٹیشنز بند کئے ہوئے ہے جس کی وجہ سے مسافر گاڑیوں کو اب چلانے کیلئے پیٹرول کا استعمال کیا جارہا ہے پیٹرول کے استعمال کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز نے من مانے کرائے بھی مقرر کر دیئے ہیں جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کا کرایہ نامہ صرف کاغذ کے ٹکڑے تک محدود ہے اور اسکی عملی طور پر کوئی حیثیت باقی نہیں رہی دوسری جانب شہری جب بھی بس اڈے میں اضافی کرائے کی وصولی پر شکایت کرتے ہیں تو ٹرانسپورٹرز کے ساتھ لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں سرکاری کرایوں پر عمل درآمد کیلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں بھی کی گئی ہیں
تاہم چند کارروائیوں کا مثبت اثر سامنے نہیں آرہا پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے تین روز میں 410گاڑیوں کے مالکان کو اضافی کرائے وصول کرنے پر جرمانہ کیا جی ٹی روڈ، کوہاٹ روڈ، چارسدہ روڈ اور جمرود روڈ پر ناکے لگا کر گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی اور اضافی کرائے وصول کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تاہم اس کے باوجود پشاور میں آج بھی اضافی کرائے وصول کئے جا رہے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   پاکستان سے یومیہ لاکھوں ڈالرافغانستان سمگل ہورہے ہیں،بلوم برگ