تمت بالخیر

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے اسمبلی کی تحلیل جوسمری گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی کو ارسال کی تھی وہ گورنر ہائوس موصول ہونے کے بعد دفتر کھلتے ہوئے گورنر نے ایوان کی تحلیل و حکومت کی رخصتی کے پروانے پربلاتاخیر دستخط کردیئے جس کے بعد تحریک انصاف کی صوبے میں دوسری حکومت مدت مکمل کئے بغیررخصت ہونے والی حکومتوں کی فہرست میں شامل ہوگئی ۔اسمبلی کی تحلیل سیاسی دستوری قانون اور آئینی عمل ہے لیکن وطن عزیز میں اسمبلیوں کی تحلیل اور حکومتوں کی رخصتی کاطریقہ کار اور وجوہات تکلیف دہ رہی ہیں خیبر پختونخوا اورپنجاب اسمبلی کی تحلیل بھی سیاسی بحران اور مزید بحران پیدا کرنے کے نقطہ نظر سے تحلیل نہ ہوتے تو اسمبلیوں کی تحلیل زیادہ بڑی بات نہیں تھی صوبے میں دوسری مرتبہ برسر اقتدار آنے والی حکومت کے کارناموں کی فہرست زیادہ طویل نہیں اورجن جن منصوبوں کوتحریک ا نصاف کی حکومت کے احسن منصوبے گردانے گئے اور ان کے حقیقی معنوں میں عوامی افادیت کے حامل ہونے میں شبہ بھی نہیں مگر بے انتہا بدعنوانی کی کہانیوں سے ان منصوبوں کا دامن صاف نہیں آڈٹ رپورٹس میں بے قاعدگیوں کی ہوشربا تفصیلات کو جھٹلایانہیں جا سکتا البتہ دیگر بڑے منصوبوں میں جو بے پناہ بدعنوانی کی کہانیاں زبان زد خاص وعام ہیں اس کی جامع تحقیقات کے بعد ہی کہانی اورمبنی برحقیقت ہونے سے پردہ ا ٹھے گاایک عمومی خیال کے مطابق ایک ایسی حکومت رخصت ہو گئی جو دعویدار تو بہت تھی مگر خود مرکز میں اپنی ہی حکومت اور وزیر اعظم سے خیبر پختونخوا کے مالی وسائل اور حقوق تک حاصل نہ کر سکی بعد کاواویلا سیاسی تھا یاحقیقی اس کا فیصلہ مشکل ہے صوبے میں جوبھی حکومت عوامی مسائل کا حل اور صوبے کی حقوق کی جنگ لڑے بغیر رخصت ہوتی رہی عوام نے ان کو دوبارہ موقع نہ دیا واحد تحریک انصاف کی حکومت دوسری مرتبہ آئی مگراس کا بھی اختتامی باب کچھ حوصلہ افزا نہیں دم رخصت محمود خان دوتہائی اکثریت سے واپسی کی امید لے کر گئے ہیں اب بال عوام کے کورٹ میں ہے دیکھنا یہ ہو گا کہ عوام آمدہ انتخابات میں کس پراعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور کسے مسترد کیا جاتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   ضمنی نہیں عام انتخابات