دعا مانگنے کے آداب

دعا مانگنے کے آداب

(ڈاکٹر فرحت ہاشمی )قریب مجیب: اور اے نبیۖ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُنھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں یہ بات تم اُنھیں سنا دو، شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔(البقرة:186)
دعاافضل ترین عبادت ہے۔ یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔دعا میں انسان جب اللہ سے مناجات کرتا ہے تو اپنے دل کے غم،دکھ، درد اور تکلیف کی فریاد اور اپنی محتاجگی اور بیچارگی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ ساری بڑائی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہے۔بندہ کمزور، محتاج اور فقیر ہے۔وہ زندگی کے ہر مرحلے میں دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے مانگنا کبھی ختم نہیں ہوتا،ہر حال میں مسلسل جاری رہتا ہے۔
دعا سے پہلے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی (اللہ سے) سوال کرنے کا ارادہ کرے تو پہلے وہ اللہ کی ایسی حمد و ثنا بیان کرے جو اس کے لائق ہے، پھر نبی ۖ پر درود بھیجے اس کے بعد دعا کرے پس اس طرح کرنے سے ممکن ہو گا کہ وہ کامیاب ہوجائے (اور اپنی مطلوبہ چیز پالے)۔(السلسلة الصحیحة:3204)
سورة الفاتحة بہترین ثناء اور دعا :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ۖ سے روایت کی کہ آپ ۖنے فرمایا:۔۔۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی آدھی تقسیم کی ہے اور میرے بندے نے جو مانگا، اس کا ہے جب بندہ » الحمد للہ رب العالمین« سب تعریف اللہ ہی کے لیے جو جہانوں کا رب ہے۔ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی۔ اور جب وہ کہتا ہے:» الرحمن الرحیم« سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہمیشہ مہربانی کرنے والا۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری ثنا بیان کی۔ پھر جب وہ کہتا ہے: » مالک یوم الدین« جزا کے دن کا مالک۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔ اور ایک دفعہ فرمایا: میرے بندے نے (اپنے معاملات) میرے سپرد کر دیے۔ پھر جب وہ کہتا ہے: »یاک نعبد ویاک نستعین«ہم تیری ہی بندگی کرتے اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ (حصہ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو مانگا، اس کا ہے اور جب وہ کہتا ہے: »ہدنا الصراط المستقیم صراط الذین أنعمت علیہم غیر المغضوب علیہم والا الضالین« ہمیں راہ راست دکھا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا، نہ غضب کیے گئے لوگوں کی ہو اور نہ گمراہوں کی۔ تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کا ہے جو اس نے مانگا۔(صحیح مسلم: 878)
اللہ کی تسبیح و تحمید بیان کرنے کا حکم: پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ (النصر ـ 3)
پس اے نبیۖ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو ۔(الواقعة ـ 74)
اپنے بہت ہی بلند اللہ کے نام کی پاکیزگی بیان کر۔(الأعلی ـ 1)
تسبیح و تحمید بیان کرنے کے فائدے: تسبیح سے تقدیر بدلتی ہے۔ دل کی تنگی اور سینے کی گھٹن کا علاج ہے۔ بخل، خوف اور ڈر کا علاج ہے۔ ایک بار سبحان اللہ اور الحمدللہ کہنے سے زمین و آسمان بھر جاتے ہیں۔ گناہ جتنے بھی ہوں تسبیح و تحمید کرنے سے معاف ہرجاتے ہیں۔ عرشِ الٰہی کے گرد ان کلمات کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ تسبیح کرنے سے چہرے پر رونق آجاتی ہے اور تحمید کرنے سے خیر و برکات ملتی ہیں۔
یونس علیہ السلام کو تسبیح کی بنا پر بہت بڑی مشکل سے نجات ملنا:پس اگر یہ تسبیح بیان کرنے والوں میں سے نہ ہوتے۔ تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک اس(مچھلی) کے پیٹ میں ہی رہتے۔ (الصافات:144ـ143)
امام ابن قیم کہتے ہیں کہ جو ہمیشہ تسبیح کرتا ہیاس کے چہرے کے خطوط چمک اٹھتے ہیں اور جو ہمیشہ حمد پڑھتا ہے، اس کے اوپر مسلسل خیر و برکات اترتی رہتی ہیں اور جو ہمیشہ استغفار پڑھتا ہیاس کے بند امور کھول دیے جاتے ہیں۔ (الداء والدوائ)
افضل کلام: رسول اللہ ۖ سے سوال کیا گیا: (اللہ کے ذکر کے لیے) کون سا کلمہ افضل ہے؟ آپ ۖ نے فرمایا:”جسے اللہ نے اپنے فرشتوں کے لیے یا (ان سمیت) اپنے تمام بندوں کے لیے منتخب فرمایا ہے: »سبحان اللہ وبحمدہ «”میں (ہر نعمت کے لیے) اللہ کی حمد کے ساتھ ہر ناشایان چیز سے اس کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں۔” (صحیح مسلم: 6925)
رسول اللہ ۖ نے فرمایا ”دو کلمے جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو پر (آخرت میں) بھاری ہیں اور اللہ رحمن کے یہاں پسندیدہ ہیں وہ یہ ہیں »سبحان اللہ وبحمدہ، سبحان اللہ العظیم«۔(البخاری: 6682)
کرنے کے کام: دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا خوب کرنی چاہیے۔ دن اور رات کے حصوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرنی چاہیے۔
اپنی ہر حاجت اور دعا صرف اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنی چاہیے اور صرف اسی سے ہی ہمیشہ ہر چیز کا سوال کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت سے ثابت شدہ تسبیح و تحمید وہی کرنی چاہیے۔
دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں سیکھے ہوئے پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین یا رب العالمین!

مزید پڑھیں:  حدیث کی اقسام اور حدیث متواتر کی مثالیں