ملٹری ٹرائل کیس

ملٹری ٹرائل کیس: فوج کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے روکیں گے، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہم آئین و عوام کا دفاع کریں گے اور فوج کو کسی بھی غیر آئینی اقدام سے روکیں گے۔
ویب ڈیسک: سپریم کورٹ میں ملٹری ٹرائل کیس کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔
اعتزاز احسن نے دلائل دیے کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور ہوا ہے، خفیہ ادارے کسی بھی وقت کسی کی بھی تلاشی لے سکتے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بغیر وارنٹ تلاشی کا حق قانون سازی کے ذریعے دے دیا گیا، اس قانون سے تو لامحدود اختیارات سونپ دیے گئے ہیں، ملک میں اس وقت مارشل لاء جیسی صورتحال ہے، سپریم کورٹ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے خلاف ازخود نوٹس لے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خوش قسمتی سے بل ابھی بھی ایک ایوان میں زیر بحث ہے، دیکھیں پارلیمنٹ کا دوسرا ایوان کیا کرتا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سویلین کا فوجی عدالت میں ٹرائل متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے، بنیادی انسانی حقوق مقننہ کی صوابدید پر نہیں چھوڑے جا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ ریاست چاہے بھی تو واپس نہیں لے سکتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک پارلیمنٹ کچھ جرائم کو آرمی ایکٹ میں شامل کرے اور دوسری پارلیمنٹ کچھ جرائم کو نکال دے یا مزید شامل کرے۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ اگر ملٹری کورٹس کورٹ آف لاء نہیں تو پھر یہ بنیادی حقوق کی نفی کے برابر ہے، آئین کا آرٹیکل 175 تو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کی بات کرتا ہے۔
اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ عام شہریوں کا کسی جرم میں آرمڈ فورسز سے تعلق ہو تو ملٹری کورٹ ٹرائل کر سکتی ہے، آئین و قانون کو پس پشت ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی، اعتزاز احسن اور میرے والد ایم آر ڈی میں تھے، جیل بھی جاتے تھے، مگر ان لوگوں نے حملے نہیں کئے، نو مئی کو جو کچھ ہوا آپ کے سامنے ہے، ایک بات یاد رکھیں وہ فوجی ہیں ان پر حملہ ہو تو ان کے پاس ہتھیار ہیں، وہ ہتھیاروں سے گولی چلانا ہی جانتے ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا ان پر کہیں حملہ ہو رہا ہو تو وہ پہلے ایس ایچ او کے پاس شکایت جمع کرائیں، وہ نو مئی کو گولی چلا سکتے تھے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون اور آئین فورسز میں واضح لکھا ہے یہ قانون ان افراد سے متعلق ہے جو آرمڈ فورسز کے خلاف جنگ کرتے ہیں، آپ لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق ملٹری کورٹ سے سلب کرنا چاہتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم نہیں چاہتے وہی صورتحال پیدا ہوکہ اگلی مرتبہ گولی بھی چلائیں، اس لئے ٹرائل کر رہے ہیں، یقین دہانی بھی کروا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک نازک صورتحال سے گزر رہا ہے اور یہ عدالت بھی، نو مئی کو جو کچھ ہوا وہ بہت سنجیدہ ہے، فوج کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے، میں کبھی نہیں چاہوں گا اس ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بندوق اٹھائے، فوج سرحدوں کی محافظ ہے، ہم فوج کو پابند کریں گے وہ غیر آئینی اقدام نہ کرے۔
عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے اٹارنی جنرل نے عدالت کے علم میں لائے بغیر کسی سویلن کا ملٹری ٹرائل کیس شروع نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

مزید پڑھیں:  جسمانی ریمانڈ کیخلاف عمران خان کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر