مشرقیات

اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرما کر اس میں خیر و شر کے جذبات بھی پیدا فرمائے؛ تاکہ اس بات کی آزمائش کی جائے کہ انسان اپنے کون سے جذبے کو استعمال میں لاتا ہے اور ان پر کتنا قابو پاتا ہے۔ان جذبات میں ایک اہم جذبہ غصہ ہے۔فرماتے ہیں انسان میں دو عادتیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں (1) پیٹ کی خواہشات(2)غصے کے جذبات۔قرآن کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں (ترجمہ) وہ لوگ جو تنگی اور خوشی میں خرچ کرتے ہیں اور وہ جو غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مذکورہ آیت میں غصے کے گھونٹ کو پی کر معاف کرنے کا رویہ اختیار کرنے والے لوگوں کو اللہ رب العزت اپنا پسندیدہ بندہ قرار دے رہے ہیں ۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کو ہر طرح کے گھونٹ میں غصے کا گھونٹ پی جانا بہت پسند ہے ۔ (احیاء العلوم)۔
نبی کریم صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک صحابی مختصر نصیحت کی درخواست کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں لاتغضب غصہ مت کر!آپ چاہتے تو نماز’ روزہ ‘زکوة اورذکر کے حوالے سے کوئی نصیحت کرتے’ لیکن ان تمام کے بجائے غصے سے بچنے کی جو نصیحت کی اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ غصہ فقط ایک معاملہ نہیںبلکہ غصہ اپنے اندر بہت سی برائیوں کا مجموعہ ہے اسی لئے علمائے صوفیہ اسے ام الامراض کا نام بھی دیتے ہیں۔ سیدنا محمد بن جعفرفرماتے ہیں غصہ ہر برائی کی چابی ہے۔(احیاء العلوم) کیونکہ ایک ایسا مرض ہے جو بہت سی برائیوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی کوکھ سے بھی بہت سی برائیاں جنم لیتی ہیںمثلا ًغصہ اس شخص کو زیادہ آتا ہے جو تکبر خود بڑائی کے مغالطے میں مبتلا ہو۔ کوئی شخص کسی کو اپنے برابر یا اپنے سے بہتر سمجھ کر کبھی بھی اس پر غصہ نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں غصے کو ایک ہوشیاری اور مہارت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے، مثلا ًیہ کہنا کہ مجھ سے ہر بات برداشت نہیں ہوتی توصاف منہ پرسنا دیتا ہوں حالانکہ یہ سب شیطان کے ہتھکنڈے ہیں اور وہ ایسے بہانہ باز جملوں کے ذریعے ہمیں غصے میں لاکر اپنے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ہمارا اور ہمارے متعلقین کا نقصان ہوجاتا ہے۔ غصہ صرف ایک عارضی حالت کا نام نہیں بلکہ یہ بیماری شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑتی ہے۔ امام غزالی اس حوالے سے فرماتے ہیں غصے کے وقت صورت بگڑ کر بھیانک بن جاتی ہے، ایسی صورت بنتی ہے جیسے کاٹنے والا کتا اور انسان اپنے مقام سے گر کر خونخوار درندہ بن جاتا ہے؛ جبکہ جو لوگ اپنے غصے پر قابو رکھتے ہیں ان کی صورت علما، اولیا اور صالحین سے ملتی ہے۔(احیاء العلوم) غصے میں انسان عقل مندی سے کم عقلی کا سفر پل بھر میں طے کرلیتا ہے۔اسے پتابھی نہیں چلتا جب کہ اس کی عقل کام نہیں کررہی ہوتی ہے۔انصار کا قول ہے کہ گرم مزاجی بے وقوفی اور کم عقلی کی بنیادی اکائی ہے اور غصہ اس بنیاد کی رہنمائی کرتا ہے گویا غصہ بے وقوفی کے سفر کو ایک رہنما کی طرح طے کرانے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ حسن بصری فرماتے ہیں کہ جب تو غصہ کرتا ہے تو اچھلتا ہے، قریب ہے کہ تو کہیں چھلانگ نہ لگادے اور یہ چھلانگ تجھے سیدھا جہنم میں پہنچا دے۔
معلوم ہوا کہ غصہ انسان کی شخصیت میں فقط ضد’ جہالت’ انا پرستی کا ذریعہ بنتا ہے۔