بارش

خیبر پختونخوا میں بارش کی تباہ کاریاں،17افراد جاں بحق

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ، گزشتہ روز سے جاری بارش کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں 17افراد جاں بحق ،متعدد زخمی ہو گئے ۔
پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق بارش اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے مختلف واقعات میں اب تک 17 افرادجاں بحق جبکہ 23 افرادزخمی ہوئے۔
ڈی جی پی ایم ڈی اے محمد قیصر نے بتایا کہ13 گھروں کو جزوی جبکہ21گھروں کو مکمل نقصان پہنچا’متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں ۔
واقعات کے مطابق لوئر دیر کے علاقہ تلاش مولی خٹ میں مٹی کا تودہ گھر پر گرنے سے چھت گر گئی جس میں تین افراد جاں بحق اور ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا ۔
چھت گرنے سے ملبے تلے چار افراد دب گئے ریسکیو1122 ٹیموں نے مسلسل تین گھنٹے اور تیس منٹ سراچ اینڈ ریسکیو آپریشن کرکے ملبے تلے دبے چار افراد کو ریکور کر کے کیٹگری ڈی ہسپتال تالاش منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تین افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی ۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کے محمد عثمان نے ورلڈ سٹرینتھ لفٹنگ چمپئن شپ میں تاریخ رقم کرلی

جاں بحق ہونے والوں میں زاہد ولد شیر ،زوجہ زاہد عمر اور ایک پانچ سالہ بچی شامل ہیں جبکہ تین سالہ طفلہ ارحم زخمی ہو گئے ۔
ملاکنڈ کے نواحی علاقے کوپر میں بھی شدید بارش کے باعث مکان کی چھت اچانک گرپڑی جس کے ملبے تلے گھر میں موجود بچے دب گئے
مقامی لوگوں اور ریسکیو نے امدادی کاروائیاں شروع کیں اور ایک بچی کی نعش جبکہ تین بچوں کو شدید زخمی حالت میں نکال لیا گیا ۔
دریں اثناءباجوڑ کے غاخی کنڈؤماموند میں بھی تیز بارش کی وجہ سے کچے مکان کے کمرے کی چھت گر گئی جس میں تین بچے جاں بحق ہو گئے ۔
اطلاع ملنے پر ریسکیو1122 ڈیزاسٹر ٹیم نے علاقائی لوگوں کے ساتھ مل کر بچوں کو ملبے سے نکال لیا-
باجوڑ کی تحصیل اتمان خیل ارنگ سراڈو میں بھی کمرے کا چھت گر نے سے دو بچے جاں بحق اور دو خواتین شدید زخمی ہوگئیں۔
دوسری جانب ملاکنڈکے مرکزی شہربٹ خیلہ میں بھی تیزبارش کے باعث مکان کی چھت گرنے سے ماں کمسن بچی سمیت جاں بحق جبکہ گھرکاسربراہ دوبچوں سمیت ملبے تلے دب کرزخمی ہو گیا۔
تحصیل بائزئی کے علاقے الاڈھنڈمیں بھی مکان کی چھت منہدم ہونے سے تین خواتین زخمی ہو گئیں ‘ریسکیوں ٹیموں نے ملبے سے نکال کرہیڈکوارٹرہسپتال بٹ خیلہ منتقل کردیا ۔

مسلسل بارش ہونے کی وجہ سے تحصیل ڈومیل میں بھی ایک مکان کی چھت گر گئی جس میں شیر ولی نامی شخص اور دو بچے زخمی ہوگئے ۔
صوبائی دارالحکومت میں بھی وقفے وقفے سے ہونے والی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے، جس سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، دوسری جانب بالائی علاقوں میں برف باری کی وجہ سے ان علاقوں کا رابطہ دیگر سے منقطع ہو گیا۔
ڈی ایم اے کے مطابق بند رستوں کو کھولنے کا کام شروع کردیا گیا ہے، تاہم مسلسل برف باری کام میں رکاوٹ اور سست روی کی وجہ بن رہی ہے۔

مزید پڑھیں:  آئین ایڈہاک ججز کی تعیناتی کی اجازت دیتا ہے، اعظم نذیر تارڑ