اعلیٰ تعلیمی معیار

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کیلئے 2002ء میں ایچ ای سی کا قیام عمل میں لایا گیا اور ادارے نے اپنے قیام سے لے کر اب تک اپنے اعلی تعلیم کے نظام کو بہترین درجہ دینے کے لئے مستقل کوششیں جاری رکھیں اور کئی بار اتار چڑھائو دیکھے ، ایچ ای سی کی کوششوں کے باعث ہی ہمارے گریجویٹس کو ترقی یافتہ دنیا کے دوسرے فارغ التحصیلوں کے مساوی درجہ حاصل ہے
ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی تشکیل سے قبل کسی بھی پاکستانی یونیورسٹی کو دنیا کی ٹاپ 500یونیورسٹیوں میں شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم2008ء میںجب ڈاکٹر عطاالرحمن ایچ ای سی کے سربراہ مقرر ہوئے ہماری متعدد یونیورسٹیوں نے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کے مطابق عالمی درجہ بندی حاصل کی ، جس میں جنرل کیٹیگری میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ)نے370 واں درجہ حاصل کیا، کراچی یونیورسٹی ،نسٹ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ٹیکسلا نے نیچرل سائنسز کیٹگری میں بالترتیب 223، 250اور 281 واں درجہ پایا، عالمی رینکنگ میں اضافے کا عمل ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے دوسرے چیئر پرسن کے 4 سالہ دور میں بھی جاری رہا گو کہ پارلیمنٹیرینز کی ڈگریوں کی تصدیق کرنے کی پاداش میں ایچ ای سی کو حکومت کی جانب سے ملنے والے فنڈز میں40فیصد کمی کر دی گئی لیکن اس کے باوجود2013ء تک عالمی یونیورسٹیز کی درجہ بندی میں 10پاکستانی یونیورسٹیاں ایشیا کی ٹاپ 250یونیورسٹیوں میں شامل رہیں،ہمارے دور میں ایچ ای سی میں کی جانے والی اصلاحات واضح طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوئیں، فروری 2013ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد کیے جانے ورلڈ اکنامک فورم کی شائع ہونے والی رپورٹ میں ایچ ای سی کو ترقی پذیر ممالک کے اعلی تعلیمی اداروں کے لئے رول ماڈل ادارے کا درجہ دیا گیا،میرے دور اقتدار کے چار سالوں کے دوران تعلیم ، تحقیق اور جدت اور ٹیکنالوجی کی تیاری مشہور اشاعت ''دی لنسٹ'' کے چیف ایڈیٹر کے مطابق ، "ایچ ای سی نے روایت کو یکسر تبدیل کر کے تحقیق اور تعلیم کے اعلی معیار پر توجہ مرکوز رکھی۔
یہ تمام کامیابیاں اور عالمی سطح پر پہچان ایچ ای سی کے ذریعہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے پیش کردہ اقدامات کا نتیجہ تھی، کامیابی کے ان عوامل میں دوسروں کے ساتھ ساتھ ، داخلی اور بیرونی معیار کی یقین دہانی کے لئے ذمہ دار ہر یونیورسٹی میں کوالٹی انینسمنٹ سیل کا قیام عمل میں لایا گیا، معیار میں بہتری کے لئے تدریسی فیکلٹی، طلبا کی تشخیص،تعلیمی پروگراموں کے متواتر جائزے کے بعدمنظوری کا عمل تھا، تدریسی شعبہ میں اعلیٰ معیار کا قیام، طالبعلموں کی لرننگ کے لئے وسائل میں اضافہ اور ادارہ جاتی کارکردگی کے جائزے کے عمل کو اولیت دی گئی تو دوسری طرف ایچ ای سی نے نصاب سازی کے معیار ، اکیڈمک پروگرامز کی توثیق ، اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے معیار ، ڈگری پروگراموں کے معیار کو پرکھنا اور فیکلٹی قابلیت کے معاملات کو پرکھنے کیلئے ایک جامع فریم ورک ترتیب دیا گیا، تمام تر مشکلات کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ڈگریوں کی توثیق کے عمل کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔
ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کی 2021درجہ بندی میں صرف ایک پاکستانی یونیورسٹی قائد اعظم یونیورسٹی نے 500 میں سے 401 رینکنگ حاصل کی جبکہ کیو ایس رینکنگ میں صرف دو یونیورسٹیوں جن میں پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ اپلائڈ سائنسز(پیاس) اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی(نسٹ) کو بالترتیب 375اور 400 واںدرجہ دیا گیا تھا۔ کیا غلطی ہوئی؟ بہت ساری وجوہات کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے لیکن سب سے اہم بات 18ویں ترمیم کے باعث سیاسی مداخلت ہے۔
وفاقی سطح پر ، سابقہ پچھلی حکومت نے اپنے دور میں ایچ ای سی آرڈیننس میں دئیے گئے معیار سے اجتناب برتتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری کی تھی، اگر ہم ایچ ای سی کے سنہری دور کو واپس لانا چاہتے ہیں توپہلے قدم کے طور پر یہ ضروری ہے کہ چیئرمین ایچ ای سی اور وائس چانسلز کی تقرری میں صرف اور صرف میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو مستقل بہتری اور عالمی معیار پر پورا اترنے کے لئے اصلاحات کو مزید مستحکم بنانا ہوگا، ان میں سے کچھ انڈرگریجویٹ اور گریجویٹ سطح پر نصاب کے عالمی معیار کو پورا کرنا اور اور مضامین میں آئی ٹی کے نصاب کو شامل کرنا ہے۔
(بشکریہ دی نیوز، ترجمہ: واجد اقبال)