مشرقیات

سقوط بغداد بہت دور کی بات ہے آنے والے سولہ دسمبر کو جس سانحے کی نصف صدی پوری ہو رہی ہے یہی کافی ہونا چاہیے کھیل تماشوں سے تائب ہونے کو۔
مگر کہاں،سب ابھی اس پر مغز ماری کر رہے تھے کہ فردوس عاشق کا ہاتھ پی پی پی کے نوزائیدہ رکن اسمبلی کو کتنا بھاری پڑا ہے کہ پوری قومی اسمبلی نے ان سے شہ پاکر ایک دوسرے کا سر توڑنے کی سرتوڑ کوشش شروع کر دی۔وہ تو خیر ہو گئی بھاری بھرکم بجٹ کاپیوں کو حریفوں کی طرف داغنا سب کے لئے بڑا مشکل ثابت ہوا ،آپ نے دیکھا ہی ہو گا کہ ہمارے ایک سابق صوبے دار اسی بوجھ کو اٹھا نہیں پائے تو اول ایک طرف لاتعلق ہو کر کھڑے رہے بعد میں انہیں یا د آیاکہ وہ وزیرستانی قبیلے سے تعلق ہی نہیں رکھتے بلکہ اپنے قبیلے کا دفاع بھی انہیں تفویض کیا گیا۔ رہا وزارت دفاع کا قلمدان تو ہم نے آج تک ان کی میز پر نہیں دیکھا،بہرحال یاد آتے ہی انہوں نے ایک آدھ کاغذ اٹھایا اور اس سے اپنی دانست میں اپوزیشن پر ڈرون حملہ کر دیا۔
یہ کھیل تماشا دو تین دن تک میڈیا اور سوشل میڈیا پر اہم ترین مسلہ بنا رہا،اپنے ہاں کے لوگوں کی جلد اکتانے کی عادت کو مداری خوب جانتے ہیں۔ایک مفتی مفت میں انہیں ہاتھ لگ گئے ،وہی بات کہ ہوتا ہے ہر روز اک نیا تماشا مرے آگے۔مفتی جیسے تماشے میں ہمارے ہاں دلچسپی کا یہ ''عالم''ہوتا ہے کہ اسے جتنا طول دیں کسی کی طبیعت ''سیر'' نہیں ہوتی،آپ جانتے ہی ہیں جناب کہ ہمارے ہاں کی فلموں ،ڈراموں میں بھی کہانی سے اکتائے لوگوں کو باندھ کر رکھنے کے لئے گرم مصالحے کا بخوبی اہتمام کیا جاتا ہے ،اسی طرح مفتی جیسے کارناموں کی سن گن پاتے ہی یا ر لوگ انہیں مرچ مصالحہ لگا کر بیچتے ہیں۔
ان کھیل تماشوں پر اپنا قیمتی وقت لٹانے والی قوم کو شاید ہی خبر ہو کہ ہمارے اڑوس پڑوس میں کیا کھچڑی پک رہی ہے حالانکہ اس کی خوشپو سب سے پہلے ادھر ہی کا رخ کرتی ہے' تاہم جیسے کورونا مرض میں مبتلا مریض سونگھنے چکھنے کی حس سے محروم ہو جاتاہے عارضی طور پر ،ایسے ہی ہماری بھی قوت شامہ شاید جواب دے چکی ہے' بس فرق یہ ہے کہ ہم سونگھنے ہی نہیں سمجھنے کی حس سے بھی محروم ہو چکے ہیں 'ایسی بے حسی کے ہوتے ہوئے ماضی بعید کا کوئی سانحہ ہو یا قریب کا ،ہم نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے نئی نئی حماقتوں کی تاریخ رقم کرنے اور ہمارے میڈیا نے بے وقت کی راگنی کی ٹھا نی ہوئی ہے۔