ANP spokesman samar haroon bilour press conference 1

شہدائے پولیس کے دن پر تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ثمرہارون بلور

ویب ڈیسک (پشاور):اے این پی کی صوبائی ترجمان ثمرہارون بلور کی پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس،ثمرہارون بلور نے کہا کہ شہدائے پولیس کے دن پر تمام شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، آج بھی پولیس کو نشانہ بنایا جارہا ہے، پشاور، وزیرستان اور مردان میں پولیس کو شہید کیا گیا، اے این پی شہداء کے ساتھ کھڑی ہے۔

پاکستان سستا ترین ملک قرار دینا حیران کن ہے، پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو ڈالر 121 روپے کا تھا، آج 164 تک پہنچ گیا ہے، مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے، حکومت کب کنٹرول کرے گی۔

وزیراعظم کا دسمبر میں مہنگائی کے خلاف اقدامات کا بیان مضحکہ خیز ہے، حکومت نے تاریخ کی مہنگا ترین ایل این جی خریدی، اسی ایل این جی کی وجہ سے دو سابق وزرائے اعظم جیل بھیجے گئے ہیں، وزیراعظم صاحب تھوڑا گھبرالیں، خطے کی صورتحال پر وزیراعظم اور وزراء کے بیانات افسوسناک ہے، ہم جب افغانستان کی بات کرتے ہیں تو یہ پاکستان کی حفاظت کی بات ہے، افغانستان میں بندوق کے ذریعے لوگ قابض ہوں گے تو اثرات یہاں بھی آئیں گے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، مسائل کا حل مذاکرات ہے، مستحکم افغانستان کا مطلب مستحکم پاکستان ہے، بندوق کے زور پر کسی کو اقتدار میں آنے کی کبھی حمایت نہیں کریں گے، افغان عوام کسی کو بھی منتخب کرے گی، اے این پی انکے ساتھ کھڑی رہے گی۔

ثمرہارون بلور نے مزید کہا کہ خواجہ آصف سے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی ملاقات انتخابی اصلاحات اور کم از کم مشترکہ ایجنڈے پر ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ کوشش کیلئے تھی، بلاول خطے میں امن کیلئے آواز اٹھاتے ہیں، ایمل ولی خان کی ملاقات خطے کی صورتحال کے حوالے سے تھا، کنٹونمنٹ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے، اگلی پریس کانفرنس میں امیدواروں کو متعارف کریں گے، ہم پی ڈی ایم سے علیحدہ ہوچکے ہیں لیکن اپوزیشن کا حصہ ہے، ہمیں کسی کے کہنے پر پی ڈی ایم سے نہیں نکلے، یہ ہمارا فیصلہ تھا، پی ڈی ایم کی سربراہی کا فیصلہ مرحلہ وار تھا، خیبرپختونخوا میں پی ڈی ایم کی سرگرمیوں کو بھی ہائی جیک کرنے کی کوشش کی گئی، اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے ذریعے پی ڈی ایم چھوڑنے کا فیصلہ کیا گیا، افغانستان کا مسئلہ سیاسی طور پر حل ہوسکتی ہے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، افغانستان میں امن اور اپنے لوگوں کو محفوظ کرنے کیلئے ہم ہر کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔