گالیوں پر زبان کھلنا

ہمارے ایک مہربان بٹ صاحب کی کوئی بات گالی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کہ چند گالیاں اُن کا تکیہ کلام بن چکی ہیں۔جیسے کسی معشوق کی گالیاں کھا کے عاشق بے مزہ نہیں ہوا کرتے ، اسی طرح احباب اپنے بٹ صاحب کی گالیاں پانے کے بعد ہی اُن کامُدعا سمجھتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ایک شفیق اور خوش مزاج شخص ہیں لیکن ہم آس پاس اپنے روزمرہ کے معمولات اور تعلقات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گالیاں بھی انسان کے کلام میں ایک جزو ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ اور متقی بزرگ جو عام طور پہ بد زبانی سے پرہیز کرتے ہیں ،جب غصہ سے مضطرب ہو جاتے ہیں تو کوئی نہ کوئی گالی اُن کی زبان پر آجاتی ہے۔ سب لوگ ایک قسم کی گالیاں نہیں دیتے۔ ماحول اور تعلیم وتربیت کا اپنا اثر ہوتا ہے ،ہاں مگر عادت بڑی روک ٹوک کے باوجود بھی انسان پر غلبہ پا ہی لیتی ہے۔ ایسے بہت سے لوگوں کو شرمندہ ہوتے بھی دیکھا ہے جن کے منہ سے نا مناسب سا لفظ نکل جاتا ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اِن گالیوں کا ماخذ کیا ہے۔ قیاس یہ کہتا ہے کہ جوں جوں انسان کے باہمی تعلقات بڑھے تو تمدن نے بھی ترقی کی۔زبان کا دائرہ بھی وسیع ہوا کہ انسانی تعلق اور بیان کا واحد ذریعہ ہے۔ معاشرے میں پائی جانے والی محبتوں اور نفرتوں نے بھی زبان کو متاثر کیا۔ محبت نے وہ تمام الفاظ اپنائے جو دعاؤں ، تہنیتوں اور تعریفوں میں کہے جاتے ہیںجبکہ نفرت نے گالیوں،بد دعاؤں اور مذمت کے کلمات ایجاد کیے۔ دیکھا جائے تو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں، حالات،انسانی طبیعتوںاور مواقع نے ان میں اس قدر کثرت پیدا کر دی کہ آج دُنیا کی صرف گالیوںپر مبنی ایک ضخیم لغت تیا رکی جاسکتی ہے۔
گالیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں دھمکیاں بھی ہوتی ہیں جو دوسرے پر غالب آنے کا اظہار کرتی ہیں ۔اسی طرح بعض بد دعائیں بھی جو بظاہر تو کہنے والے کی عاجزی لیے ہوئے ہوتی ہیں مگر مخالف کو نقصان پہنچانے کی دلی خواہش شامل ہوتی ہے جیسے کوئی خدائی طاقت رکھتا ہو۔
گالیوں کے الفاظ میں اگر اس کے موضوعات کی بابت دیکھا جائے تو انسان کے جذبات اور احساسات تب زیادہ متاثر ہوتے ہیں جب اس کی عزیز شے کو ٹھیس پہنچے ۔ وہ گالی کسی کو زیادہ کڑوی لگتی ہے جو اُس کے بہت ہی عزیز اور محترم رشتہ کو دی جائے۔ مثلاً ہمارے معاشرے میں مستورات کے حیا کا بڑا پاس رکھا جاتا ہے۔ اس لیے جب کسی آدمی کے گھر کی چادر اور اس کے پردۂ عصمت کو ہدف بنایا جائے تو یہ صورتحال زیادہ صدمہ سے دوچار کرتی ہے۔ ان گالیوں کے بڑے دردناک انجام بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں بعض گالیاں ایسی ہیں جن میںبّری عادتوں، بے حیائی، بھَڑواپن اور بد کاروں سے نسبت دی جاتی ہے۔ کچھ وہ گالیاں ہیں جن میں انسان کو ناپاک حیوانوں سے تشبیہ دی جاتی ہے اوربہت سے بھلے مانس لوگ تو طیش میںآکریہی گالیاں اپنے بچوں یا نوکر چاکر کی تنبیہ کے لیے بھی بولتے ہیں۔ہمارے ہاں تو چاروں صوبوں میں ایسے علاقے ہیںجہاں گالیاں گھڑ گھڑ کے دی جاتی ہیں اور ایسی قومیں بھی ہیں کہ گالم گلوچ کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتی ہیں۔ جاگیردار ، خان خوانین اور بہت سے سماجی و سیاسی زعما اپنے خدمت گاروں اور ادنیٰ لوگوں کو گالیاں دینا اپنا معمول اور مقام و رتبے کا لازمہ سمجھتے ہیں۔
یوں تو دیہی عورتیںچاہے گھر میں ہوں یا کھیتوں میںکام کر رہی ہوں،کسی سے اُلجھ پڑنے پر اپنے اپنے ماحول کے زیر اثر گالیوں کا جھاڑ باندھ دیتی ہیں اور سننے والے اُن کی عادت یا بد زبانی سمجھ کر ٹال دیتے ہیں ۔ لیکن اب تو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور خاص کر آسودہ حال گھرانوں کی خواتین بھی بے سوچے سمجھے اور کسی موقع محل کی پرواہ کیے بغیر گالیاں دینے لگی ہیں۔چند ایسے ا لفاظ تو ان کی زبان پہ عام ہیں جو گالی کا مفہوم رکھتے ہیں ۔
ایسے لوگ بھی ہیں کہ جنہیں کسی کام میں مشکل پیش آئے تو جب تک وہ کام پورا نہیں ہوجاتا،وہ متواتر گالیاں دئیے جاتے ہیں۔ دیوانے یا مخمور لوگ تو یوں ہی مغلظات بکتے ہیں جو ان کے دیوانہ پن یا نشہ کے کرشمے ہیں۔ اب تو تہواروں،خوشی کے موقعوں اور سیر سپاٹوں میں ایک دوسرے کو تفریحاً گالیاں دی جانے لگی ہیں۔ بازار وں میں بیٹھے یا راہ چلتے لوگوں کی دل لگی اور بے تکلفی کے رنگ تو اور بھی سِوا ہیں ۔ انسان کا شاید کوئی فعل اس قدر بے سوچے سمجھے اور بے معنی نہیں ہوتا کہ جس قدر گالیاں دینا۔ زبان ہی انسان کی تہذیب کا پہلا معیار ہے اور گفتار کا اثر اس کے افعال اور اخلاق پر ہوتا ہے۔ کبھی کوئی شخص مہذب نہیں بن سکتا جب تک اس کی زبان مہذب نہ ہو۔ ہمیں خود اور اپنی اولاد کو بد زُبان لوگوں کی ہم نشینی سے بچانا ہوگا۔ دشنام طرازی انسان کو اخلاقی اصلاح سے باز رکھتی ہے بلکہ خودداری اور غیرت سے بھی محروم کر دیتی ہے۔یہ اس لیے کہ جو دوسروں کو بّرا کہتا ہے ، وہ پھر وہی کچھ سنتا بھی ضرور ہے۔ کسی کی بّری ماں کو یاد کرنے کی بجائے اپنی اچھی ماں کا خیال لازمی ہے۔