مودی کسان تحریک کے نرغے میں

بھارت میں کسان تحریک میں ایک بار پھر شدت پیدا ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔کسانوں کی تحریک گزشتہ سال نومبر میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب مودی حکومت نے نئے زرعی قوانین منظور کئے تھے ۔جس سے کسانوں کے مفادات پر ضرب لگ رہی تھی۔کسانوں نے مودی حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا تھا۔عمومی طور پر کہا جا تاہے کہ ہندوستان گائوں میں بستا ہے یعنی یہ کہ اکثریت دیہاتوں میں بستی ہے اور جن کا پیشہ زراعت ہے ۔یہ لوگ اپنی زمین سے جڑے ہوئے ہیں ۔گزشتہ نومبر سے کسان اور حکومت دونوں اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں اس دوران کسانوں نے ٹریکٹر مارچ کر کے دہلی پر یلغار کی کوشش بھی کی اور لال قلعہ دہلی سے بھارت کا ترنگا اُتار کر خالصتان کا جھنڈا لہرایا گیا ۔اس کے باوجود مودی حکومت کسانوں کے آگے بھیگی بلی بنی رہی۔کسانوں کو کشمیریوں کی طرح دبایا گیا نہ انہیں بھارتی مسلمانوں کی طرح تشدد کا شکار کرکے خاموش کرایا جاسکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ کسانوں کی ایک مضبوط لابی کا تعلق پنجاب کے سکھوں سے ہے اور انہی بڑے زمینداروں کو نقصان پہنچانے کے لئے مودی حکومت نے یہ قوانین متعارف کرائے تھے ۔سکھ قیادت نے کسانوں کا بھرپور ساتھ دیا ۔نریندرمودی نے سب سے پہلے کشمیرکی خصوصی شناخت ختم کرکے کشمیریوں کو بدترین لاک ڈائون کا شکار کیا ۔ہر کشمیری کے گھر کے باہر فوجی پہرہ بٹھا کر انہیں احتجاج کے حق سے محروم رکھا گیا ۔کشمیری مسلمانوں کے بعد اگلی باری بھارتی مسلمانوں کی آئی اور مودی حکومت نے شہریت کے نئے قوانین متعارف کراکے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی ۔بھارتی مسلمانوں نے ان قوانین کے خلاف احتجاج کیا ۔مسلمان خواتین نے شاہین باغ میں مہینوں دھرنے دے کر احتجاج کیا مگر مودی ٹس سے مس نہیں ہوئے اور ایک روز تشدد کے ذریعے مسلمانوں کے دھرنے ختم کرائے گئے اور اس کے لئے کورونا کا بہانہ بنایا گیا ۔خواتین کو انتہائی ظالمانہ انداز سے احتجاجی کیمپوں سے بے دخل کیا گیا ۔دومعرکے سر کرنے کے بعد اب تیسرے شکار کے طور پر مشرقی پنجاب کے بڑے سکھ کسانوں کی طاقت توڑنے کی کوشش کی گئی مگر مودی یہاں شدید غلطی کھا گئے۔ ہندوتوا کی خوردبین میں سکھوںکی اکثریت خالصتان نواز نظر آتی ہے اس لئے آبادی کے اس حصے کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنا بھی مودی نے ضروری سمجھ لیا تھا مگر یہاں لینے کے دینے پڑ گئے ۔ خود سکھ کسانوں نے بھی کہا کہ مودی نے ہمیں کشمیری اور بھارتی مسلمان سمجھنے کی غلطی کی ہے اب اسے غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ایک سال سے کسان تحریک جاری ہے اور کسان تمام متنازعہ قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔مودی حکومت ان قوانین میں ترمیم پر آمادہ تو ہے مگر واپس لینے سے انکاری ہے۔جس کی وجہ سے معاملہ لٹک گیا ہے۔کشمیر کے مقدمے کی سماعت کے لئے وقت نہ ہونے کا بہانہ بنانے والی بھارتی سپریم کورٹ نے انصاف دینے کی بجائے سہولت کاری کا انداز اپناتے ہوئے حکومت اور کسانوں کے معاملات طے کرنے کیلئے ایک کمیٹی قائم کی تھی مگر کسانوں نے اس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا ۔یوں سپریم کورٹ پر بھی عدم اعتماد کیا گیا۔حکومت نے زرعی قوانین پر عمل درآمد ڈیڑھ سال تک ملتوی کرنے کی پیشکش بھی کی تھی جسے کسانوں نے سختی سے رد کر دیا ۔گودی میڈیا نے کسان تحریک کو ابتدا میں نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اختیار کی مگر کسان تحریک کے لوگوں نے میڈیا کے ایسے لوگوں کے اہم خانہ کا سماجی بائیکاٹ کیا اور انہوںنے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔گزشتہ چند ماہ سے یوں لگ رہا تھا کہ کسان تحریک کمزور ہو چکی ہے مگر اچانک کسانوں نے بھارت بند کی کال دے کر حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بند کے دوران ٹرینوں کو روک دیا گیا اور تمام بڑی شاہراہیں ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رہیں ۔کسان تحریک کے لیڈروں نے اسے ایک کامیاب شو قرار دیا اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اسی طرح کے احتجاج کے نتیجے میں مودی حکومت متنازعہ قوانین واپس لینے پر مجبور ہو گی ۔یوں مودی کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی کہ وقت کی طوالت کے باعث کسان تحریک دم توڑ دے گی ۔وقت ثابت کر ر ہا ہے کہ کسان تحریک مودی کے گلے کی ہڈی بن کر رہ گئی ۔ کسان اس تحریک کو غیر معینہ مدت تک چلانے کے لئے پرعزم ہیں ۔کسان تحریک کو مغربی ملکوں میں مقیم سکھوں کی طرف سے بھرپور اخلاقی اور مالی امداد مل رہی ہے ۔جس کی وجہ سے یہ تحریک وقت کی طویل راہوں میں گم نہیں ہو رہی ۔کسان تحریک کے یہ رنگ ڈھنگ یونین ٹیریٹری کے نام پر حقوق سے محروم ہونے والے کشمیریوں اور شہریت کے نام پر خوف زدہ کئے جانے والے بھارتی مسلمانوں کے لئے بھی نئے عزم اور حوصلے کا باعث ہے۔