مشرقیات


ایک ملا کے بڑے تذکرے ہیں اس سے پہلے ترکی کے ایک ہی ملا سے ہم واقف تھے جن کے بعد ترکوں نے ملائوں کو دور سے سلام کر نا ہی کافی سمجھااب یہی دیکھ لیںہمارے خطہ زرخیز کے کونے کونے پر ملائو ں کی آبیاری کرنے والے عرب پتیوں سے ان کی سرے سے نہیں بن رہی ،تاریخ کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ ترک عربوں پر ایک عرصے تک حکومت کرتے رہے اور یہ نسلی عصبیت کی وہ لڑائی ہے جسے انگریز بہادر نے اپنی سرپرستی میںچھیڑاتو انجام کار خلافت کے خاتمے اور عربوں کو ترکوں کے سامنے کھڑا کرنے کا پکا انتظام بھی کر گئے۔یہی وہ وقت تھا جب ہمارے ہاں قبل ازتقسیم ”بولی اماں محمد علی کی۔۔جان بیٹا خلافت پر دے دو”کے نعرے لگ رہے
تھے۔ادھر جب ترکوںکی حمایت میں نعرے لگاتے رہے اور ادھر اپنے عرب پتی انگریزوں کی مدد سے خود کوخلافت سے آزاد کرنے میں مصروف تھے،یہ آزادی انہیں مل بھی گئی،یہ آزادی انہیں ملی تو وہ پھرہماری آزادی کے ”درپے” بھی ہوگئے۔ترکوں کی محبت کی بجائے اپنی الفت کے رنگ میں ہمیں رنگنے کے لئے انہوں نے پیسہ پانی کی طرح بہایااورہم نے اپنے بھائی بندوں کا خون پانی سمجھ لیا۔ یہاں تک کہ ہم نے ان کے ایجنڈے پر اپنے ہاں خون کی ندیاں تک بہادیں۔تاریخ کے ان تاریک المیوںسے ہم سب واقف ہیںایسے میں ترکی سے ایک ملا کی آمد کا غلغلہ ہے اور ہمیں تشویش نے آگھیرا ہے کہ ہمارے ہاں کے ان پروفیشنل گنڈہ ماروںکا کیا بنے گا جو ہر خفیہ و آشکار بیماری کا شافی علاج کرنے کے جگہ جگہ ٹھکانے کھول کر بیٹھے ہوئے ہیں،ان میں بہت سے ”پروفیشنل”چف باز بھی ہیں اور” گنڈ ہ مار”بھی۔کہیں ایسا نہ ہو ترکی کے ملا کے آسے پاسے اپنے مریدوں کا ہجوم دیکھ کر وہ آپے سے باہر نہ ہوجائیںاور یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کہ آپے سے باہر ہوجانے کے بعد ہمارے ہاں حریف کافر سے کم کا خطاب نہیں پاتا۔ادھرطب کے میدان میں عشروں تک عقل کے گھوڑے دوڑانے والے خواتین وحضرات بھی حیران ہیں کہ ایک چف میڈیکل مسائل کا حل ہوتی تو ترکی کے ملا صاحب ہی کیو ں اس ڈگری کے حامل سمجھے گئے ،یہ بھی اب قوی امکان ہے کہ کلام پاک سے ہر بیماری کا علاج کرنے والے”پروفیشنل ”اب ملا حسن کی شہرت کا سن کر مزید متحرک ہوکر ہم سادہ دلوںکا استحصال کرتے ہوئے اپنی جیبیں بھرنے کا انتظام پکا کریں گے۔ملا نصیرالدین کے یہ ہم وطن بھی تاریخ میںاپنا نام بنانے پر تل چکے ہیں۔