یونیورسٹی کی جائیداد اونے پونے داموں

یونیورسٹی کی جائیداد اونے پونے داموں کرایہ پردینے کا انکشاف

ویب ڈیسک( پشاور) پشاور یونیورسٹی کی قیمتی جائیداد اونے پونے داموں کرائے پر دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ پشاور ہائی کورٹ نے اس حوالے سے دکانداروں کی اپیل خارج کرتے ہوئے دکانوں کو پشاور یونیورسٹی کی ٹرسٹ کی ملکیت قرار دے دیا اور اس حوالے سے متعلقہ دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان دکانوں کا انتظام پشاور یونیورسٹی کے حوالے کرے۔

پشاور یونیورسٹی کی قیمتی جائیداد

جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے فرید اللہ کی اپیل پر سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ 1972سے پشاور یونیورسٹی میں بیکری چلا رہے ہیں تاہم اب یونیورسٹی انتظامیہ نے دکان کا قبضہ لینے کیلئے نوٹس جاری کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے زمین کے اصل مالک کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ۔

اس حوالے سے سیشن کورٹ اور سول کورٹ نے ان کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے جو غیر آئینی ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی کے وکیل وسیم الدین خٹک نے موقف اختیار کیا کہ متعلقہ دکانیں پشاور یونیورسٹی کی ٹرسٹ کیلئے آمدن کا ذریعہ ہے مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وہاں 16دکانوں سے ماہانہ 8ہزار روپے یعنی 500 روپے فی دکان کے حساب سے لیا جارہا ہے ۔ 1976 کے بعد سے ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا حالانکہ مارکیٹ کے مطابق وہاں دکانوں سے ایک سے دولاکھ روپے کرایہ وصول کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پشاور ہائی کورٹ نے بھی اس حوالے سے نوٹس لیا تھا کہ پشاور یونیورسٹی کی پراپرٹی کم قیمت پر دینے پر رپورٹ مانگی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹرسٹ غریب طلبہ کیلئے مختص ہے جس سے انہیں فائدہ پہنچتا ہے۔ سول کورٹ اور بعد میں سیشن کورٹ نے یونیورسٹی کے حق میں فیصلہ دیا ہے اسلئے مذکورہ اپیل قابل سماعت نہیں ہے اور وہ کسی حکم امتناعی کے حقدار نہیں ہیں۔ عدالت نے اس حوالے سے اپیل خارج کردی اور قرار دیا کہ سول کورٹ نے جو حکم جاری کیا ہے وہ قانون و آئین کے مطابق ہے۔