اب بھی مفاہمت ہو تو اچھا ہو گا

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف کی شکست اور حکومت کی کامیابی سے قطع نظر کافی عرصے سے تنازعات کا سبب بننے والے بلوں پر قانون سازی کی تکمیل سے اگرچہ فی الوقت حکومت اور حزب ا ختلاف میں کشیدگی میںاضافہ نظر آتا ہے لیکن چند ہی دنوں میں یہ جھاگ بیٹھ جائے گی حزب اختلاف حسب سابق بلند وبانگ دعوئوں میں ناکام یہ کچھ درپردہ معاملات و امور اور کرداروں کا تحرک بہرحال ایک مرتبہ پھر سامنے آیا جواب ملکی سیاست کاحصہ بن چکا ہے ہر اہم موقع پراس طرح کے سہارے تلاش کرنے کا وتیرہ جب تک موجود ہے ملک میں سیاسی استحکام اور جمہوریت کی مضبوطی کی توقع عبث ہے ان امور سے قطع نظر بہرحال 33بلوں کو منظوری مل گئی ہے جس میں اختلافات کا سبب بننے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل بھی شامل ہے انتخابی اصلاحات کے بل کے مطابق پاکستان میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام وضع کرے گا جس سے بیرون ملک مقیم پاکستانی سمندر پار رہتے ہوئے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ خیال رہے کہ2017میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کو انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے ملک میں35حلقوں کے ضمنی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا حق دینے کا کہا گیا تھا، جس کے تحت الیکشن کمیشن نے نادرا کی مدد سے انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے انتظامات کیے۔ الیکشن کمیشن نے اس پائلٹ پروجیکٹ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ میں حصہ لینے کے حوالے سے اپنی جائزہ رپورٹ میں بتایا کہ35حلقوں سے تعلق رکھنے والے چھ لاکھ31 ہزار سے زائد ووٹرز میں سے صرف7364ووٹرز نے خود کو ووٹ ڈالنے کے لیے رجسٹر کیا جبکہ6233نے ووٹ کاسٹ کیا۔ متحدہ عرب امارات میں1654، سعودی عرب میں1451، برطانیہ752، کینیڈا میں328اور امریکہ میں298پاکستانیوں نے اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ ڈالا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں انٹرنیٹ ووٹنگ کو غیر محفوظ اور عام ووٹرز کے لیے مشکل قرار دیتے ہوئے ڈیٹا ہیکنگ کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے اپیل کرنے کا حق دینے سے متعلق یہ بل رواں سال جون میں قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا تاہم پارلیمان کے ایوان بالا سینٹ سے اس کی منظوری نہیں ہو سکی تھی۔اگرچہ اس بل پر مختلف انداز میں تبصرے کئے جارہے ہیں تاہم یہ حکومت کی ترجیح نہیں بلکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کے لیے قانون سازی کرنا ضروری تھا۔وطن عزیز میں شفاف انتخابات کا سوال ہر بار اٹھتا ہے لیکن اس عمل کو شفاف بنانے کے لئے خود سیاسی جماعتیں تیار نہیں ہوتیں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام ہویا جاری روایتی انتخابات کا عمل عدم شفافیت از خود کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل کرنے کی ضرورت ہو بلکہ یہ خود پیدا کردہ ہے جس کا بہتر حل اسے پیدا نہ کرنے اور کسی قسم کا سہارا نہ لینے کا فیصلہ خود سیاسی جماعتیں بالا ا تفاق کریں اوراس پر عمل پیرا ہوں تو یہ مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ انتخابات اصلاحات بل کی منظوری کے بعد آئندہ کیا ایسے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔ جو انتخابات میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں اور امیدواروں کے لئے قابل قبول ہوں جس کے نتیجے میں آئندہ انتخابی نتائج پر انگلیاں نہ اٹھیں اور دھاندلی کا الزام نہ لگیں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اس بل کی منظوری کے بعد صاف شفاف ‘ منصفانہ ‘ غیراجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کا آئینی تقاضا پورا ہوسکے گا اگر ان سوالات کا جواب اثبات میں ہے اورایسا ممکن بنا دیا جائے جس کے بل کے حامی دعویدار ہیں تو پھر اس بل کی منظوری کا مقصد حاصل ہوپائے گا اور اگر الیکٹرانک ووٹنگ کا عمل ناکام ہوجاتا ہے تکنیکی اور فنی خرابیاں موقع پر دور نہیں ہو پائیں یا پھر انتخابی نتائج میں تاخیر اور شکوک و شبہات کے مواقع آجاتے ہیں اور سارا عمل مشکوک ہوجاتا ہے تو پھر یہ بڑی ناکامی ہو گی اور موجودہ نظام کے مقابلے میں کہیں بڑھ کر تضادات کا باعث بنے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شفاف الیکشن صرف ووٹ ڈالنے یا ووٹوں کی گنتی کے غیرجانبدارانہ عمل کا نام ہی نہیں بلکہ انتخابی مہم کے دوران تمام تر ا نتخابی قواعدوضوابط اور الیکشن کمیشن کی پابندیوں پرحقیقی معنوں میں عمل درآمد کا نام ہے۔انتخابی شفافیت کے تقاضے ووٹنگ کے عمل سے کہیں قبل پامال کئے جاتے ہیں دیکھا جائے تو یہیں مسائل انتخابی دھاندلی کی جڑ ہیںعلاوہ ازیں انتخابات آنے پرالیکٹیبلز کو ٹکٹ دینے کا جو عمل اور اس سے منسلک جو کھیل رچائے جاتے ہیں وہ بھی شفافیت کے تقاضوں کا خون ہیں۔بڑے پیمانے پر مشینوں کی تیاری اس کے لئے وسائل اور ان مشینوں کا درست استعمال بھی وقت اور حالات کی کسوٹی پر پورا اترنے کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔الیکشن کمیشن کے تحفظات سے بھی صرف نظر ممکن نہیں ان تمام عوامل کو سامنے رکھتے ہوئے اس نتیجے پرپہنچنا غلط نہیں کہ بل کی منظوری کے باوجودضرورت اس امر کی ہے کہ حزب اختلاف اور الیکشن کمیشن کی رائے کو اہمیت دی جائے اور ان کے تحفظات دور کرکے ایسا انتخابی نظام بنایا جائے جس کی شفافیت پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکیں۔ حکومت کو اس حساس قومی معاملے پر تنہا پرواز اور طاقت کے بل بوتے پر باقیوں کو نظر انداز کرنے کی بجائے اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔