پشاور سوئی گیس بجلی لوڈ شیڈنگ

پشاور میں سوئی گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ انتہا کو پہنچ گئی

ویب ڈیسک(پشاور) پشاور میں سوئی گیس اور بجلی لوڈ شیڈنگ انتہا کو پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے شہریوں کیلئے زندگی گزار نا مشکل تر ہوگیا اور روایت کے خلاف سال کے 12مہینے بجلی اور گیس کی ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے سردیوں کے آتے ہی شہریوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں گیس غیر اعلانیہ طور پر بند یا پریشرانتہائی کم ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے خواتین خانہ کیلئے ناشتہ اور کھانا بنانا دوبھر ہوگیا۔

غیراعلانیہ گیس اور بجلی بندش اور گیس لوڈ شیڈنگ سمیت پریشر میں کمی نے عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا۔ پشاور کے مختلف علاقوں میں روزانہ صبح 8 سے شام 5 بجے تک گیس نہیں دی جارہی۔ ان علاقوں میں ورسک روڈ ،صدر کے علاقے، اندرون شہر ، کوہاٹ روڈ، رینگ روڈ، یونیورسٹی روڈ، گلبہار، یوسف آیاد،زریاب کالونی،افغان کالونی،بشیر آباد،دین بہار کالونی،خیبر بازار ،قصہ خوانی ،گنج اور دیگر کئی علاقے شامل ہیں ۔

متاثرہ علاقوں کی خواتین کا کہنا ہے کہ صبح کے اوقات میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے اسکول اور کالج جانے والے بچوں کو بنا ناشتے ہی گھر سے جانا پڑتا ہے۔ گیس کی لوڈشیڈنگ سے گھریلو صارفین کے علاوہ ہوٹل مالکان اور پکوان سینٹر والوں کا کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ادھر پشاور میں گیس پریشر میں کمی کے ساتھ ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں گزشتہ تین ماہ کے دوران 70سے 90روپے تک کا اضافہ ہوگیا، ایک کلو ایل پی جی دو سوتیس روپے تک پہنچ گئی جبکہ جلانے والی لکڑی کی قیمت بھی بڑھ گئی ہے۔