کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں؟

وزیراعلیٰ محمود خان نے بروقت نوٹس لیکر اچھا کیا ‘ مگراب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی وارننگ پر کس حد تک عمل درآمد کی نوبت آتی ہے ‘ کیونکہ اس حوالے سے گزشتہ برسوں کی ساری تگ و دو اب تک کامیابی سے ہمکنارر ہتی تو دکھائی نہیں دی ‘ وزیر اعلیٰ نے صوبہ بھر میں اور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں گیس کے کم پریشر اور لوڈ شیڈنگ کے مسئلے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے محکمہ سوئی گیس کے اعلیٰ حکام کو طلب کیا اور صوبے کے گھریلو صارفین کو درپیش گیس کے کم پریشر کے معاملے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے واضح کیا کہ گیس کے کم پریشر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ‘ گھریلو صارفین کو درپیش یہ مسئلہ جلد سے جلد حل کیا جائے اور اگلے 48گھنٹے میں صورتحال میں بہتری لا کر رپورٹ پیش کی جائے ۔ متعلقہ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ صوبے خصوصاً پشاور میں گیس کے کم پریشر کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور بڑے قطر کے پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر کام جاری ہے تاکہ کم پریشر کا مسئلہ حل کیا جا سکے اور اگلے دو تین دنوں میں درپیش مسئلہ حل ہوجائے گا اس ضمن میں صارفین کی شکایت کے فوری ازالے کے لئے ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جو (دن میں )24 گھنٹے کام کرے گا اور جس کا نمبر (091-9217777) ہے ‘ صارفین کسی بھی وقت اپنی شکایات درج کرسکتے ہیں ‘ کنٹرول روم میں تعینات عملہ ان کی شکایات کے ازالے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے گا ‘ شیخ سعدی نے کہا تھا
تا تریاق ازعراق آوردہ شود
مار گزیدہ مردہ شود
یعنی جب تک سانپ کے کاٹے کا علاج عراق سے آئے گا’ سانپ کا ڈسا ہوا جاں بحق ہوچکا ہو گا ‘ ہم نے محکمہ گیس یعنی نادرن گیس پائپ لائن کے حکام کے مطابق قائم کردہ مرکزی کنٹرول روم کا نمبر کالم میں نقل کیا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہے اور وہ ہے اس قسم کے شکایات سیل جہاں اور جن علاقوں میں بھی قائم ہیں ‘ ان سے رابطے کی کوشش اکثر پہلے تو کامیاب نہیں ہوتیں کہ خواہ واپڈا کے دفاتر ہوں ‘ سکیورٹی کے حوالے سے 1122 ہو یا پھر ڈبلیو ایس ایس پی والے صارفین کے لئے مختلف ٹیوب ویلز پر آپریٹر کی (ریشہ دوانیوں؟) کے بارے میں شکایات کے اندراج کے لئے لکھوا چکے ہیں ‘ ان نمبروں سے پہلے تو بڑی بڑی دیر تک رابطہ ممکن ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو نہایت سہولت کے ساتھ کہہ دیا جاتا ہے کہ ٹیم ایک اور شکایت کا ازالہ کرنے گئی ہے ‘ جیسے ہی واپس آجائے ‘ آپ کی طرف بھیج دی جائے گی ‘ خصوصاً رات کے اوقات میں تو اکثر متعلقہ آپریٹر (دروغ برگردن راویان) کسی خاص بندے (بندی) سے گپ لگانے میں مصروف پائے جاتے ہیں اس لئے گھنٹوں رابطہ ممکن ہی نہیں رہتا۔ اس لئے اس حوالے سے بھی یہی کہا جا سکتا ہے کہ
دل کے ٹکڑوں کوبغل بیچ لئے پھرتا ہوں
کچھ علاج اس کابھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں
خیر جانے دیجئے ‘ اب آتے ہیں اور ایک اہم مسئلے کی جانب اور وہ ہے بڑی قطر کے پائپ لائن بچھانے کامسئلہ تو حضور ہر سال اسی طرح گیس پریشر کی کمی کے وقت یہی راگ الاپا جاتا ہے کہ بڑی قطر کے (اور کبھی ناکارہ) پائپ لائن کی بچھانے کا کام کیا جارہا ہے’ تو ہر سال پہلے ہی سے متعلقہ علاقوں کے آئندہ ضروریات کا اندازہ لگانے کی کوشش کرکے پہلے ہی سے آئندہ ضروریات کے مطابق پائپ کے قطر کا فیصلہ کرکے اگلے سال کے تقاضوں کی فکرکیوں نہیں کی جاتی؟ اور عوام کی چیخ و پکار کیا لازمی ہے؟ احتجاج کے طور پرگھروں سے باہر آکر ٹریفک کے نظام کو درہم برہم کرناکیا بہت ہی ضروری ہے؟ ‘ متعلقہ محکمے کے ذمہ داروں اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کیا ناگزیر ہے؟ ارے خدا کے بندو عوام سے ہرہر قدم پر بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس وصول کرتے ہوئے ان کے چمڑے تک اتارنے کے باوجود بھی ان کے مسائل حل کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ایک کہاوت ہے کہ کوے کو دھو دھلا کر بگلا نہیں بنایا جاسکتا ‘ ویسے بھی جب گزشتہ دنوں ایک مرکزی وزیر نے بہ بانگ دہل یہ اعلان کیا تھا کہ اب کی بار صرف تین وقت ہی گھریلو صارفین کوگیس ملا کرے گی تو پھر یہ اس کی ضرورت کیوں پڑی کہ وزیر اعلیٰ صاحب کو سخت نوٹس لینا پڑا اور متعلقہ حکام کی سخت سرزنش کرنی پڑی’ جبکہ سوئی گیس حکام نے اگلے دو تین روز میں مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے ‘ اب ہو گاکیا کہ تین چار روز کے بعد دو چاردن کے لئے(وہ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا) گیس پریشر بہتر ہوجائے گا’ اور اس کے بعد معاملہ وہی ٹائیں ٹائیں فش ‘ یعنی بقول مومن خان مومن” وہی ہم ہوں گے وہی خارمغیلاں ہوں گے” کیونکہ جو مسئلہ ایم ایم اے دور سے مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھائے جانے کے باوجود کئی برس سے حل نہیں ہوسکا جبکہ اس حوالے سے پشاورہائی کورٹ کی جانب سے سووموٹو نوٹس لئے جانے اور واضح حکم دیئے جانے کے باوجود کہ صوبے میںاتنی گیس پیدا ہوتی ہے جو صوبے کی اپنی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے مگر چونکہ گیس کی ترسیل کا نظام مرکز کے پاس ہے اور ٹرانسمیشن نظام غالباً لکی مروت سے ملحقہ ضلع میاں والی میں قائم کرکے وہاں سے (بجلی کے نظام کی طرح) ہمارے صوبے کو بھی آئینی حق کی مکمل نفی کرتے ہوئے کنٹرولڈ مقدار میں گیس دی جاتی ہے ‘ اس لئے جب تک آئین کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے صوبے کو اس کا جائزحق نہیں دیا جائے گا جوآئین کے آرٹیکل 158 میں درج ے اور جس کا میں اپنے متعدد کالموں میں حوالہ دے چکا ہوں ‘ تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا’ ماضی میں توصوبے میں کسی اور پارٹی یا کولیشن طرز کی حکومت ہوتی تھی اور مرکز میں کوئی اور برسر اقتدار ہوتا تھا اس لئے نہ تو بجلی کی ترسیل اور منافع نہ ہی گیس پریشرکی شکایات پرتوجہ دی جاتی تھی مگر گزشتہ تین سال سے مرکز اور صوبے میں تحریک انصاف برسر اقتدار ہے تو یہ مسائل آئینی تقاضوں کے مطابق حل کیوں نہیں کئے جاتے ‘ اس لئے اب یہ ساری ڈرامے بازی بند کی جائے اور عوام کو ان کے اپنے ہی گیس سے محروم رکھنے کی”پالیسی” پرہمدردانہ نظر ثانی کرتے ہوئے ان کے جائز حق سے محروم نہ کیا جائے ۔ بقول فارغ بخاری
مدح گوئی مجھے آئی نہ قصیدہ خوانی
اہل دربار کی نظروں میں خطرناک ہوں میں