مذہبی جنونیت کے عوامل

سیالکوٹ میں نجی فیکٹری کے سری لنکن منیجر پر توہین مذہب کے نام پر تشدد اور جلائے جانے کے واقعے نے دنیا کے سامنے اسلام، مسلمانوں اور پاکستان کا سر شرم سے جھکا دیا ہے، سچی بات تو یہ ہے کہ یہ شرمناک واقعہ ہماری تاریخ پر کلنک کا ٹیکہ بن چکا ہے،کسی بھی اعتبار سے اس کا دفاع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس داغ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ وحشت،درندگی،سفاکیت اور ظلم کو اس واقعے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے اگرچہ کئی پہلو ہیں مگر بنیادی طور پر مذہبی جنونی ہی اس کے اصل ذمہ دار ہیں، جس کی برسوں سے فصل تیار کی گئی اور آج وہ پھل دے رہی ہے، بلاتفریق ہر حکومت نے مذہبی جنونیوں کی حمایت کی اور انہیں اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ تحریک انصاف کے ہمارے دوست جب فیض آباد دھرنے کی حمایت کر رہے تھے تو میں نے تحریک انصاف کے ایک ذمہ دار شخص سے کہا کہ جن لوگوں کی آپ حمایت کر رہے ہیں، جب آپ کو ان سے براہ راست واسطہ پڑے گا تو آپ کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے انہوں نے مگر میری بات پر کوئی توجہ نہ دی اور کہا کہ یہ لوگ ختم نبوت کے محافظ ہیں ہم اسی بنا پر ان کی حمایت کر رہے ہیں، یہ ایک جماعت کی مثال ہے دیگر سیاسی جماعتیں بھی ایسی ہی سوچ کی حامل ہیں، یوں سیاسی جماعتیں مذہبی جنونیت کو پروان چڑھانے میں برابر کی شریک ہیں۔ سیالکوٹ واقعے کو سرسری دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ توہین مذہب کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے بس ایک معمولی واقعے کو جواز بنا کر جیتے جاگتے انسان کو سفاکانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، تشدد اور جلانے کے بعد لبیک یا رسول اللہ کے نعروں نے مہر ثبت کر دی ہے کہ اس واقعے کے اصل محرک کون تھے۔ مذہبی جنونیوں کو کون بتائے کہ اگر بالفرض توہین مذہب یا توہین رسالت ہوئی ہے تب بھی قانونی تقاضوں کو پورا کیا جانا ضروری ہے، الزام سنگین ہو تو اس کے ثبوت بھی مضبوط ہونے چاہئے، اس ضمن میں قانون یہ کہتا ہے اگر کسی شخص پر توہین مذہب کا الزام ہو تو باقاعدہ اس کی تحقیق کی جائے گی، ثبوت، شواہد اور گواہوں کو سنا جائے گا اور ملزم کو صفائی کا بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔ شواہد اور گواہوں کو سننے کے بعد اگر عدالت اس موقع پر پہنچتی ہے کہ واقعی ملزم پر الزام ثابت ہو چکا ہے تو عدالت اسے سزا سنا دے گی، مگر اس کے باوجود مجرم کو کم از کم دو اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق حاصل ہو گا۔ اس کے برعکس سیالکوٹ والے واقعے میں مذہبی جنونی ایک نہتے غیر ملکی شہری پر پِل پڑے اور جب تک اسے موت کے گھاٹ نہیں اتار دیا گیا تب تک جنون ختم نہیں ہوا۔ ان جنونیوں کو ذرا سی بھی عقل ہوتی تو پولیس کو اطلاع دی جاتی، اور پولیس کے سامنے شواہد رکھے جاتے اگر کوئی گواہ موجود تھا تو وہ گواہی دیتا، تاکہ عدالت ان شواہد کے بعد کسی نتیجے تک پہنچتی اور فیصلہ صادر کیا جاتا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔
سیالکوٹ واقعے میں ملوث افراد جلد اپنے کئے کی سزا پائیں گے لیکن اگر صرف انہی افراد کو سزا دی گئی جو ظاہری طور پر اس پُرتشدد واقعے میں دکھائی دے رہے ہیں تو یہ سزا مسئلے کا دیر پا حل نہیں ہو گی، ہمیں اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہو گا تاکہ اس طرح کے ناخوشگوار کا مستقل خاتمہ ہو سکے۔ ایک مکتب فکر کے لوگ ختم نبوت کے تحفظ کیلئے ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جس کی قطعی طور پر ضرورت نہیں ہوتی ہے، کہا جائے گا کہ ”ہم ختم نبوت کیلئے جان بھی قربان کر دیں گے اور یہ کہ جو شخص ختم پر جان کی قربانی دے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا”عام آدمی جب یہ سنتا ہے تو اس کا ایمان جوش مارنے لگتا ہے، ہر شخص اپنے آپ کو چونکہ کناہ گار سمجھتا ہے اس لئے وہ ختم نبوت پر قربان ہونے کے بہانے تلاش کرنے لگتا ہے، جو مذہبی رہنما ختم نبوت پر جان کی قربانی کی بات کرتے ہیں ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا کہ انہیں خوف کس بات سے ہے ، پاکستان اسلامی ملک ہے، ہمارا آئین ختم نبوت کا ضامن ہے، بائیس کروڑ عوام میں 98 فیصد لوگ مسلمان ہیں، ہمیں اس قدر یقین ہونا چاہئے کہ اگر مذہب کی توہین کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ بھی جائے تو ہماری عدالتیں اسے قرار واقعی سزا دیں گی۔ سیالکوٹ واقعے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جہالت مذہب پر غالب تھی، فیکٹری میں مزدور طبقہ ان پڑھ ہوتا ہے یا کم پڑھا لکھا، انہوں نے جب کسی شخص کو مذہب کی توہین کا نعرہ لگاتے دیکھا تو ان کا ایمان جوش مارنے لگا، انہوں نے دیکھا کہ مذہب کیلئے قربانی دینے کا وقت آ گیا ہے، یوں اس کے پس منظر میں وہ مذہبی سوچ اور فکر تھی جو انہیں کسی مذہبی رہنما سے ملی تھی، مذہبی جماعتوں کو اپنے اندر پنپنے والی اس سوچ کا سدبات کرنا ہو گا۔ اچھی بات یہ ہے کہ مذہبی قائدین نے سیالکوٹ واقعے کی مذمت کی ہے تاہم انہیں روایتی مذمت سے آگے سوچنے کی ضرورت ہے۔
سب سے اہم یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً ریاست کی طرف سے مذہبی جماعتوںکی سرپرستی کی جاتی رہی ہے، ریاستی ادارے اپنے مفاد کیلئے مذہبی گروپوں کو استعمال کرتے رہے ہیں، اس لئے مذہبی معاملات پر ہجوم کی طرف سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ذمہ دار ریاست بھی ہے۔ سیالکوٹ میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے نے ہمیں موقع فراہم کیا ہے کہ ہم ان عوامل کو جاننے کی کوشش کریں جو مذہبی جنونیت کا باعث بن رہے کیونکہ جب تک ان عوامل کا سدباب نہیں کیا جائے گا،ہر کچھ عرصے بعد کہیں نہ کہیں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات سامنے آتے رہیں گے۔