انصاف کے تقاضے پورے کئے بغیر سزا

دہلی کی تہاڑ جیل میں گزشتہ تین سال سے قید جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو عمر قید کی سزا دی گئی ہے ۔واضح رہے کہ بھارت کی خصوصی عدالت ان پر بغاوت’ وطن دشمنی ‘ دہشت گردی کیلئے رقوم حاصل کرنے اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کی فرد جرم19مئی کو عائد کر چکی تھی جس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی بھارتی عدالت اور سرکار یاسین ملک کو ہر قیمت پر سزا دینے پر تلی ہوئی تھی اور دوران سماعت ان کے وکیل پردبائو ڈالا جاتا رہا جسے وہ برداشت نہ کر سکے اور موت کی آغوش میں چلے گئے صورتحال دیکھ کر یاسین ملک نے پہلے ہی کہا تھا کہ ان کو بھارت میں عدل و انصاف کی کوئی توقع نہیں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ کشمیر کی آزادی کیلئے اسی طرح پرامن جدوجہد کر رہے ہیں جس طرح گاندھی ‘ قائد اعظم محمد علی جناح اور بھگت سنگھ نے آزادی کی جدوجہد کی تھی۔واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بندوق چھوڑ کر نوجوانوں کو آزادی کیلئے پرامن جدوجہد کی طرف راغب کرنے والے 56سالہ یاسین ملک کو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے)اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ(یو اے پی اے)کے تحت 22فروری 2019کو سرینگر سے گرفتار کیا گیاتھا اور انہیں تہاڑ جیل دہلی منتقل کر دیا تھا۔یاسین ملک پر دہشت گردی کی کارروائیوں، غیر قانونی طور پر فنڈز اکٹھا کرنے، دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے اور مجرمانہ سازش اور بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے تھے یاسین ملک نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آزادی کے حصول کی قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں ۔ بھارت کو اب ہدف کشمیری قیادت نظر آتی ہے، تاکہ کوئی بھی جدوجہد آزادی کی قیادت کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہ ہو۔ ایک اور بڑے کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی تقریبا تین سال سے نظربند ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے طریقوں سے کشمیریوں کی آزادی کی خواہش کو ختم کرنے کا امکان نہیں ہے۔ہندوستانی حکومت نے تقسیم کے بعد سے کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت کے استعمال سے روکنے کی پوری کوشش کی ہے۔ دنیا کے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک بھی اس حوالے سے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں، کیونکہ وہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان ایک ارب سے زیادہ آبادی کے ساتھ ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے، اور اس کی حکومت کو ناراض کرنے کے نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ یہ معاملہ تصفیہ کے قریب پہنچ جائے۔ کشمیر میں امن صرف حقیقی کشمیری قیادت کی شمولیت سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے جس میں پاکستان اور بھارت دونوں سٹیک ہولڈرز ہیں۔بھارت کی جانب سے کی جانے والی زور زبردستی اور جارحیت سے آزادی کی تحریک مزید پروان چڑھے گی۔ 56سالہ یاسین ملک نے اپنی جوانی کشمیریوں کی آزادی پر تو قربان کر ہی دی ہے۔ ان پر جیل میں بے پناہ تشدد کیا جاتارہا ہے بھارت کو جب یاسین ملک اور ان کے چھ دیگر ساتھیوں کے خلاف تمام تر تشدد اور بہیمانہ سلوک کے بعد کچھ نہ ملا تو مقبوضہ کشمیر کے اس حریت پسند رہنما اور معروف سیاستدان کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا اور ان کو پھنسانے اور سزا دینے کے لئے ایک 30سالہ پرانا کیس ان پر ڈالا گیاساتھ ہی یاسین ملک پر دہشت گردی کے لئے فنڈنگ کا نہایت مضحکہ خیز الزام بھی عائد کیاگیا۔ ان کا اصل جرم بھارتی تسلط، مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضے اور کشمیریوں پر بھارتی جبر و تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا ہے اور جب قید و بند اور ظلم و تشدد کے باوجود بھارت یاسین ملک کی آواز کو نہ دبا سکا تو اب ایسے من گھڑت اور جھوٹے الزامات کے تحت ان کو سزا دے کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی یاسین ملک شدید علیل اور نہایت کمزور ہوچکے ہیں لیکن بھارت میں نہ تو انسانی حقوق کے لئے کوئی تنظیم ہے جو کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف بھارتی جبر و تشدد اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر آواز اٹھائے۔ نہ ہی کوئی ایسا با ضمیر ہے جو یاسین ملک پر بھارت کے جھوٹے الزامات اور اب بھارت کی طرف سے غیر قانونی اور من پسند سزائوں کو روکنے کے لئے میدان میں آئے۔ صد افسوس کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی نام نہادعالمی تنظیموں کے کانوں پربھی جوں تک نہیں رینگی۔ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی فائلیں وہاں کہیں یاد ماضی کے طور پر کسی کونے میں پڑی ہیں۔بے گناہ یاسین ملک کو سزا کے بعد پاکستان کی مذہبی اور سیاسی جماعتوںسبھی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ دیگر مشاغل چھوڑ کر فوری طور پر اس کے خلاف احتجاج کے لئے باہر نکل آئیں سابق دور حکومت میں جس شخصیت نے کشمیر کا سفیر کا دعویٰ کیا تھا وہ وعدہ وفا نہ ہو سکا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی کا خاتمہ نہ ہوا بلکہ کشمیری عوام ابتلاء کے ایک نئے دور کا شکار ہوئے اب موجودہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بارے میں فوری طور پر اپنا کردار ادا کرے ۔ یاسین ملک کی سزا کو عالمی عدالت انصاف کے سامنے رکھا جائے اور ان کی سزا کی معطلی اور رہائی کے لئے ہر ممکن طور پر آواز اٹھائی جائے۔یہ اقوام متحدہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حریت پسند رہنمایاسین ملک اور دیگر کشمیری رہنمائوں کی آواز کو طاقت کے ذریعے دبانے کانوٹس لیں۔