تاریک راہوں کی خبر

سیاست کے سارے رنگ پاکستان میں مٹیالے ہو چکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب سیاست دان با اصول بھی تھے اور باتدبیر بھی ۔کئی ایسے تھے جن کی بات سننے کو دل کرتاتھا ‘ کئی کے کردار کی گواہی دی جاسکتی تھی ‘ اور اب کہیں بھی کچھ بھی نہیں ‘ امید کی جو کرن دل میں جاگی تھی کہ شاید حالات میں کسی قسم کی کوئی بہتری آئے گی۔ بدعنوانی کا راستہ رک جائیگا’ بگاڑ اور انحطاط میں کمی آجائے گی ‘ ان ساری امیدوں پرگزشتہ حکومت نے پانی پھیر دیا ۔ عمران خان کے پاس کوئی ٹیم نہیں تھی ‘ ایمان داری کا بلا سینے پر سجائے ‘ کچھ نکالے ہوئے لوگ تھے ‘ جو کہیں نہ چل پائے تھے’ اسی لئے ایمان دار رہ گئے تھے ۔ ان چارسالوں میں یہ قوم محض اسی کشمکش میں مبتلا رہی کہ بدعنوان اورقابل بہتر ہے یا ایمان دار اور نکما’ کسی نے کچھ کہا ‘ کسی نے کوئی اور خواہش ظاہر کی ‘ بس وقت گزارا اور ملک انحطاط کی انہیں سیڑھیوں پر گہرائی کی جانب اترتا رہا ۔ پھر ایک نیاموڑ آیا ‘ وہ بیچارے جوکب سے منڈیروں پر بیٹھے انتظار کر رہے تھے احتساب بھگتا رہے تھے ‘ ان کی دعائیں رنگ لائیں ‘ ملک میں تخت پر چہرے بدل گئے لیکن بس اتنا ہی ہوا۔ جو بازو پہلے سے آزمائے ہوئے ہوں ان کے بارے میں کوئی کتنا پر امید ہو سکتا ہے ۔ اب بھی حالات وہی ہیں ‘ میڈیا بھی وہی ہے ‘ جس کی ایک آنکھ میں غم کے آنسو ہیں اور دوسری میں خوشی کی چمک ‘ ہمارے میڈیا کا یہی کمال ہے کہ عوام ان سے پوچھتے ہی رہتے ہیں کہ پہلے روئے کیوں اور پھر ہنسے کیوں اور یہ کسی کو اپنے دل کا حال نہیں بتاتے کہ ان میں سے کچھ جب پہلے روئے تھے تو اس لئے کہ انہیں چوگا ڈالنے والے اقتدار سے باہر تھے ‘ اس وقت بھی کچھ ہنس رہے تھے کیونکہ ان کے والے اقتدار میں تھے اور پھر جب تخت پلٹا تو میڈیا کے چہرے کے تاثرات بھی اپنے اپنے گروہوں کے جذبات کے اعتبار سے پلٹ گئے ۔
جب میں نے کالم لکھنا شروع کیا ‘ اب تو ڈھائی دہائیوں سے وقت اوپر پھاند چلا ہے ‘ میرے والدگرامی کے ساتھ ساتھ قدرت اللہ چوہدری صاحب میرے استاد تھے ۔ اس وقت پاکستان اخبار کے ایڈیٹر تھے ‘ ا نتہائی زیرک اور اپنے کام کے حوالے سے نہایت سنجیدہ’ مجھے سکھایاگیا کہ صحافی کسی جانب کا نہیں ہوتا ‘اس کا غیر جانبدار ہونا انتہائی ضروری ہے ورنہ تجزیہ ادھورا رہ جاتا ہے ۔ صحافی سچ اور حق کی بات کرتا ہے ‘ وہ صحافی ہے وکیل نہیں ‘ صحافی کا قلم ہی اس کی میراث ہے ۔ اس کا کھوجی ہونا اس کی سچائی کی دلیل ہے اگر کوئی صحافی کسی سیاستدان کی محبت میں گرفتار ہوجائے گا تو اس کا اپنے کام سے خلوص ختم ہوجائے گا ۔ ان کے زیر سایہ میں نے سیکھا کہ صحافی کی جنگ صرف غلط بات اور غلط کام کرنے والوں ہی سے نہیں ہوتی ۔ خود اپنے آپ سے بھی ہوتی ہے ‘ کبھی کسی کی بات اچھی لگتی ہے ‘ کبھی کسی کا تحفہ لینے کودل چاہتا ہے ‘ اس وقت اپنے آپ کویاد دلانا ضروری ہے کہ صحافی کی وفاداری صرف سچ سے ہے اپنے ملک سے ہے ‘ وہ زمانہ رٹے کا زمانہ تھا ‘ سو میں نے ‘ میرے جیسے کتنے ہی لوگوں نے یہ سبق رٹ لیا ‘ اس کے بعد اور کچھ ہمارے ساتھ ایک پود آئی جو”سمجھ” کر پڑھنے والے تھے ۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں کیا کرنا ہے ‘ اور صحافت کے رنگ بدلتے چلے گئے ۔
اب ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں لوگ سمجھدار ہیں صحافت بھی سمجھداری سے کرتے ہیں اور جو سمجھدار نہ ہوسکے تھے ان کے لئے ارشد شریف کی مثال کافی ہو جائے گی۔ اب وہ کسی کو اگر برا جانیں گے بھی توبات صرف دل کی حد تک رہے گی ۔ وہ صحافی جو کبھی ببانگ دہل سچ بولا اور لکھا کرتے تھے عنقا ہوتے چلے جائیں گے ۔ وقت کی خواہش یہی ہے کہ وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے ہیں ان کا علم کوئی نہ چن سکے اور وہ جو فیض نے کہا تھا کہ
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کرچلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جان گنوا کر تیری دلبری کا بھرم
ہم جوتاریک راہوں میں مارے گئے
بس یہ خواب اب خواب ہی رہے گا ۔ اس ملک کے لئے سچ بولنے کا خواب ‘ اس ملک سے وفاداری کا خواب ‘ ہم تو سیاستدانوں سے پریشان رہا کرتے تھے کہ اب کی بار ایک ایسی فصل اگی ہے جس کی کسی بالی میں کوئی دانہ کوئی خوشہ ہی نہیں ‘ کھیت کاکھیت ہی جلا ہوا ہے ‘ امیدوں کے خوشہ چیں بھوک پیاس سے ایڑیاں رگڑتے تھے لیکن ان کے لئے صرف بھوک ہی بھوک چہار جانب اگی تھی ‘ اور پھر حالات بگڑتے ہی چلے گئے ‘ کسی کی جانب سے کوئی اچھی خبر ہی آنا بند ہو گئی۔ اب اخباروں میں اپنی اپنی سمت کے اعتبار سے خبر چھاپی جاتی ہے اور میڈیا ہائوس کس کے ہیں ‘ کتنے میں کیا کیا جاتا ہے ‘ ساری باتیں سب کو معلوم ہیں ۔ کسی کو کوئی دکھ نہیں رہی سہی کسر ارشد شریف جیسی مثالیں پوری کردیتی ہیں۔ جان کا خوف سب سے بڑا خوف ہے سو سوال پوچھنے کی ہمت ہی ختم ہوتی رہے گی۔ یوں بھی خبر کی عمر ہی کتنی ہوتی ہے ۔ نئی خبر اور نئی سننی خیزی کی تلاش کا فسوں تو موت کا غم بھی بھلا دیتا ہے ۔ ارشد شریف کے بہیمانہ قتل اور آج کے درمیان ابھی کچھ فاصلہ نہیں اور میڈیا ارشد کو بھول رہا ہے ‘ وہ میڈیا ‘ وہ صحافت جس میں سچائی اور جرأت کی روح پھونکنے کی کوشش میں ارشد شریف جیسے جوانمرد ‘ ایسے یہ تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں۔ صرف اسی خواہش میں کہ عشاق کے قافلوں میں سروں کی تعداد بڑھ جائے گی لیکن جہاں صحافت نے ہی اپنے اپنے جھنڈے اٹھا لئے ہوں وہاں سچائی کا علم کون تھامے ۔جس معاشرے کی جڑ کو دیمک لگ گئی ہو اس کے لئے قربانی دینے کا فائدہ ہی کیا ہے ۔ ہمارے بچپن میں کتنے ہی افریقی ممالک کی مثالیں دی جاتی تھیں اور اب ہمارے بچوں کے لئے اپنے ملک کی تباہی ہی مثال بنتی جارہی ہے ۔ اب تو نوحے لکھنے کا وقت بھی نہیں رہا ۔ اب اس ملک کے لئے کوئی امید بھی باقی نہیں رہی۔ اب تو چار سو تباہی و بربادی دکھائی دیتی ہے ۔ عجب کشمکش ہے کہ ہم جیسے لوگ جن کی جڑ اس مٹی میں ہے ‘ کوچ بھی کرنا چاہتے ہیں لیکن اسی مٹی سے جدائی بھی سانس بند کر دینے جیسی جانگسل لگتی ہے ‘ اور بوجھ ہے کہ بڑھتا چلا جاتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   انتخابات ہوگئے توپھر؟