50لاکھ کی آبادی کاشہر پشاور،پولیس عملہ صرف 2400

50لاکھ کی آبادی کاشہر پشاور،پولیس عملہ صرف 2400

ویب ڈیسک : 50لاکھ سے زائد آبادی کے شہر پشاورکیلئے پولیس کا آپریشن وتفتیشی عملہ صرف 2400 ہے جبکہ پشاور کو افغانستان سمیت مختلف اطراف سے قبائلی اضلاع نے بھی گھیر رکھا ہے جسے صوبہ کا سب سے حساس علاقہ تصورکیاجاتا ہے۔جمعہ کی رات سربندتھانہ پر حملہ سمیت بڑے سانحات اوراعلیٰ افسران کو بھی اس شہر میں ٹارگٹ کیا گیا ہے تاہم اس کے باوجودبیشتر عملہ اہم شخصیات اورسابق افسران وغیرہ کی سیکورٹی سمیت حساس مقامات اورعمارتوں کی سیکورٹی پر مامور ہے ۔ ذرائع کے مطابق پورے صوبہ کیلئے پولیس کی تعداد تقریبا 1لاکھ 20ہزار ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں پولیس افسران واہلکاروں کی تعداد 8سے 9ہزارتک ہے
جن میں آپریشن اور تفتیشی عملہ کی تعداد لگ بھگ 2400بتائی جاتی ہے۔ پولیس کا آپریشن ونگ ملزمان کی گرفتاری ،سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشنز سے لیکر کیسز ٹریس کرنے، ایف آئی آر کے اندراج، ناکہ بندیاں لگانااور چھاپے مارناسمیت تھانوں کی سطح پر مختلف ذمہ داریاں اداکررہاہے جبکہ انویسٹی گیشن یونٹ مختلف کیسز کی تفتیش کی ڈیوٹی سرانجام دیتاہے۔
اسی طرح دیگرپولیس عملہ کو مختلف ڈیوٹیاں سونپی گئی ہیں جن میںوزرائ، ایم پی ایز، ججز ،بیوروکریٹس ،سابق افسران اوردیگراہم شخصیات کی سیکورٹی کے علاوہ حساس مقامات اورعمارتوں، مذہبی درسگاہوں، ریڈزون اور ہسپتالوں وغیرہ کی سیکورٹی حوالے کی گئی ہے ۔ بعض ریٹائرڈ افسران اوران کے بنگلوں پر بھی پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے ۔ اس طرح صرف 2400کا عملہ تھانوں کی سطح پر آپریشن وتفتیش کی ڈیوٹی انجام دے رہا ہے ۔سیکورٹی ماہرین کے مطابق اس وقت پشاور حساس ترین ضلع ہے جو ایک طرف افغانستان کے قریب ہے تو دوسری طرف یہ قبائلی اضلاع سے بھی ملاہوا ہے جس کیوجہ سے اسے آسانی سے ٹارگٹ کیا جاسکتا ہے ۔
یہاں افغان باشندوں کی نقل وحمل کا مسئلہ بھی درپیش ہے ۔انہوں نے بتایا کہ پشاورمیںاے پی ایس، مینابازاردھماکہ،کوہاٹی چرچ، سابقہ پی سی ہوٹل پشاور، کوچہ رسالدارخودکش حملہ سمیت کئی بڑے سانحات پیش آچکے ہیںجن میں حساس مقامات کو نشانہ بنانے کے علاوہ اعلیٰ افسران کو بھی ٹارگٹ کیا گیا تاہم اس کے باوجود عملہ اوروسائل کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔صوبہ کے اس اہم شہر کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ پولیس حکام کے مطابق صوبہ کے حساس اضلاع کو جدید اسلحہ تھرمل سائٹ فراہم کردیاگیا جبکہ پشاور پولیس کو بھی یہ اسلحہ فراہم کیاجارہا ہے ۔

مزید دیکھیں :   پی ڈی ایم کو ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے، فضل الرحمان