گلاس توڑا بارہ آنے

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ)نے مشاہدہ کیا ہے کہ اپنی مدت پوری ہونے سے چند دن قبل تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی نے ملک میں جمہوریت تقریبا اتنی ہی کمزور چھوڑی، جتنی 25 جولائی 2018 کو حکومت منتخب ہونے کے وقت تھی۔۔پی ٹی آئی حکومت نے قانون سازی کے مقصد کے لیے آرڈیننس پر بہت زیادہ انحصار کیا، پانچ سالوں میں قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے 75 آرڈیننسز میں سے صرف تین پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے نافذ کیے جبکہ 72 پی ٹی آئی حکومت نے نافذ کیے تھے۔جہاں 14ویں قومی اسمبلی نے صرف 38 آرڈیننس منظور اور نافذ کیے گئے، وہیں 15ویں قومی اسمبلی کے منظور کیے گئے آرڈیننسز کی تعداد میں 97 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔15 ویں قومی اسمبلی نے 2002 سے شروع ہونے والی پچھلی تینوں اسمبلیوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ قوانین منظور کیے، اس قومی اسمبلی کے صرف آخری تین ہفتوں میں 73 بل منظور کیے گئے۔15ویں قومی اسمبلی میں صرف 1245 گھنٹے کام ہوا، یعنی اوسطا سالانہ 249 گھنٹے کام ہوا، جو گزشتہ اسمبلی کے مقابلے میں 21 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے جس نے سالانہ اوسطا 315 گھنٹے کام کیا تھا۔واضح رہے کہ پانچ سالوں میں ہر کام کے گھنٹے کی اوسط لاگت 24 لاکھ 23 ہزار روپے فی گھنٹہ رہی۔وطن عزیز میں جمہوری طرز حکومت ہی اب سوالیہ نشان اس لئے بن گیا ہے کہ جمہوریت کا نام لینے کے باوجود جمہوری طور پر حکومت سازی او رجمہوری انداز میں اسمبلی چلانے اور حزب اختلاف کو اس کے جمہوری کردار کے مطابق کردار ادا کرنے دینے جبکہ حزب ا ختلاف کا اپنی جمہوری کردار کو اپنے ہی ہاتھوں گلہ گھونٹنے کا عمل ایسے حالات ہیں کہ ملک میں جمہوریت اور اسمبلیاں بازیچہ اطفال رہیں مستزاد جب اس کا واسطہ طاقتور اور پرحربہ اسٹیبلشمنٹ سے ہوا اور سیاستدان کھلونوں کے طور پر استعمال ہوںایک کو لانے دوسرے کونکالنے دوسرے کوواپس لانے اور پہلے کو نکالنے کا جب سرکل چل رہا ہو تو ملک میں سویلین بالادستی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی ممکن ہی نہیں ہو سکتی ستم بالائے ستم یہ کہ ہمارے منتخب نمائندوں کا ایوان میں رویہ اور حکومتی و سرکاری معاملات میں دلچسپی و قانون سازی کا علم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ معدودے چند افراد ایوان کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور حکومت من مانی کرنے لگتی ہے جس ملک میں اسمبلی موجود ہو بجائے اس کے کہ اس کا اجلاس بلاکر قانون سازی کی جائے آرڈی ننسز کا ٹکسال لگایا جائے اس ملک میں اسمبلی کی بے وقعتی فطری امر ہونا بعید نہیں عوام کو اس قانون ساز ادارے کا اجلاس جس قیمت پر پڑتا ہے کاش اس کاہی کوئی احساس کرے تو یہ صورتحال نہ ہو۔