گرمی کی شدت سے بڑھتے مسائل

حقوق ا نسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں خصوصا پاکستانی شہری بلند درجہ حرارت سے محفوظ رہنے سے متعلق سہولیات سے محروم ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق کم آمدن والے افراد شدید گرمی کے دنوں میں بھی کھلے آسمان تلے کام پر مجبور ہیں اور یہی افراد ماحولیاتی تبدیلیوں سے تحفظ کی سب سے کم استطاعت رکھتے ہیں۔ایمسنٹی انٹرنیشنل کے مطابق پاکستان میں چالیس ملین سے زائد افراد بجلی سے محروم ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ائیرکنڈیشنر یا پنکھے تک رسائی حاصل نہیں ہے۔عالمی تنظیم کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو یہ محتاط قسم کی رپورٹ ہے وگرنہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی اور روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث ملکی آبادی کاایک بڑا طبقہ سخت گرمی اور دھوپ میں رزق حلال کمانے کی تگ ودو میں نکلنے اور کام کرنے پر مجبور ہے جس میں دیہاڑی دار مزدور سے لے کر ریڑھی لگانے اور چلانے والے محنت کش تک سبھی شامل ہیں بجلی نہ ہونے کے باعث چھوٹا کاروباری طبقہ بھی اس میں شامل ہے جن کو تنگ بازاروں میں سخت گرمی اور پسینے کا سامنا ہوتا ہے اس طرح کسان اور دیگر محنت کش طبقہ اگر جان ہتھیلی پر رکھ کر نہ نکلے تو فاقہ کشی سے اہل خانہ کی جان جانے کا خطرہ ہے ہر گھر سے نکلنے والاتقریباً ہر شخص متاثرہ ہے تو گھروں میں موجود افراد خانہ بھی بجلی کی طویل بندش اور لوڈ شیڈنگ کے باعث موسمی شدائد سے متاثر ہوتے ہیں ان حالات میں کام کرنے والوں کی کسی اور قسم کی حکومتی مدد کی تو گنجائش نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ ہرحال میں کاروباراور روزگار پر مجبور افراد کو موسمی شدائد سے خود کو ممکنہ طور پر محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی روایتی طریقوں کے ساتھ نئی تدابیر سے آگاہی دی جائے ان کے لئے ٹھنڈے پانی کا کم از کم جگہ جگہ انتظام ہواور جہاں جس ادارے یا افراد کے ماتحت یہ لوگ کام کرتے ہوں ان کو پابند بنایا جائے کہ وہ ان کا ممکنہ طور پر خیال رکھیں اور کام کے اوقات کار اگر ہو سکے تو مختصر ہوں یا پھر شدید دھوپ کے اوقات میں ان سے کام لینے پر پابندی لگائی جائے اور ایسے اوقات کار تشکیل دیئے جائیں کہ یہ افراد زیادہ متاثر نہ ہوں خدانخواستہ متاثر ہونے کی صورت میں ان کا مکمل مفت علاج کے ساتھ آرام کی مدت کی دیہاڑی بھی سرکارکی طرف سے دی جائے جو مستند ڈاکٹر اور مریض کی رپورٹ سے مشروط ہو اور اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی گنجائش نہ ہو۔

مزید پڑھیں:  پشاور کا نوحہ