نگران حکومت کو درپیش چیلنجز

ملکی تاریخ میں شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نگران حکومت کے مقررہ وقت کے انتخابات کے ا نعقاد بارے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے اس طرح کے شکوک و شبہات کا اظہار نگران وزیر اعظم کے نام پر اتفاق اور نگران حکومت کے قیام سے بہت قبل خود حکومت میں شامل جماعتوں کی طرف سے بھی سامنے آیا تھا مرکز میں حکومت اور دو صوبوں کی نگران حکومتوں کی جانب سے انتخابات نئی مردم شماری کے مطابق کرانے بارے اتفاق رائے کے بعد نیز گزشتہ حکومت کی آخری دنوں میں نگران حکومت کے اختیارات کو وسعت دینے مستزاد دو صوبوں میں نگران حکومت کے نام پر مقررہ مدت سے کہیں زائد وقت حکومتوں کے کام کرنے جیسے عوامل اس امر کی تقویت کا باعث امور ہیں جس سے شکوک و شبہات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے ۔آئین کے تحت نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی حکومت کو 90 روز میں الیکشن کروانا ہوں گے، تاہم اتحادی حکومت نے آخری دنوں میں نئی مردم شماری کی منظوری دی ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرے گا۔الیکشن کمیشن کے ایک سابق عہدے دار کے مطابق وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے سینکڑوں حلقوں کی حلقہ بندیاں کرنے میں چھ یا اس سے زیادہ ماہ لگ سکتے ہیں۔الیکشن کمیشن نے بتانا ہے کہ اسے حلقہ بندیاں کرنے میں کتنا وقت لگے گا اور الیکشن کب ہوگا۔ عام طور پر نگراں حکومت کا کام صرف الیکشن کروانا ہوتا ہے اور اس کا پالیسی سازی میں کوئی کردار نہیں ہوتا، لیکن حالیہ قانون سازی کے تحت پاکستان کی تاریخ میں انوار الحق کاکڑ کی یہ پہلی نگراں حکومت ہوگی جو معیشت کے حوالے سے پالیسی بنا سکے گی۔بظاہر اس کا مقصد آئی ایم ایف کے ساتھ جون میں کیے گئے تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے کو چلانا ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر نگراں سیٹ اپ طوالت اختیار ہے تو منتخب حکومت کے بغیر اسٹیبلشمنٹ کے کنٹرول میں اضافہ ہوگا۔توقع کی جانی چاہئے کہ نگران حکومت جتنا جلد ممکن ہو سکے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر انتخابات کی تیاریاں شروع کرے گی اور ملک میں شفاف انتخابی عمل کے ذریعے وجود میں آنے والی حکومت کے قیام میں تاخیر نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں:  قبائلی عوام کا مقدمہ