نگران حکومت اگر یہ کام کرسکے

نگران وفاقی کابینہ کے ارکان کیلئے صلاح مشورے جاری ہیں۔ ادھر سندھ میں حکومت اور اپوزیشن نے متفقہ طور پر جسٹس (ر)مقبول باقر کو نگران وزیراعلی نامزد کردیا ہے۔ اسی اثناء میں صحافت و سیاست کے شعبوں میں عشروں سے اسٹیبلشمنٹ کے حب دار سمجھے جانے والے بعض صاحبان نے ہمیشہ کی طرح پہلے احتساب پھر انتخاب کی شرلی چھوڑی ہے۔پہلے احتساب پھر انتخابات کا منجن بیچنے والے اس ملک کی سیاسی تاریخ سے نابلد ہیں۔بے سروپا احتساب کے دعوئوں کے بل بوتے پر لگ بھگ 35برس فوجی حکومتوں نے نہ صرف راج کیا بلکہ ان 4فوجی ادوار کے پیدا کردہ مسائل کے بوجھ تلے دبا ملک آج سسک سسک کر جی رہا ہے۔ گزشتہ روز سندھ کے نامزد وزیراعلیٰ جسٹس(ر)مقبول باقر نے احتساب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں دوٹوک انداز میں کہا کہ احتساب یا انتقام کا ایجنڈا لے کر نہیں بلکہ آئین و قانون کی بالادستی کا ایجنڈا لے کر عہدہ سنبھالوں گا۔ مقبول باقر کا مؤقف نہ صرف خوش آئند ہے بلکہ یہ احتساب فروشوں کو بروقت جواب بھی ہے جو نگران اور فوجی حکومتوں کے ابتدائی دنوں میں کھمبیوں کی طرح اگ آتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے یہ تاثر لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں کہ سیاستدانوں نے اس ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے۔ جمہوریت کا مطلب سیاستدانوں کی کرپشن ہے۔یہی لوگ کرپشن کے حقیقی ذمہ داروں کو مسیحا اور نجات دہندہ بناکر پیش کرتے ہوئے قوم کو یقین دلارہے ہوتے ہیں کہ بطور نگران یا فوجی حکمران کے اقتدار سنبھالنے والے عطیہ خداوندی ہیں ملک اور قوم کے لئے۔ ہماری دانست میں نہ صرف ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے بلکہ مختصر عرصہ میں ان کا احتساب کرکے ہی دیکھ لیا جائے کہ عملی زندگی کے آغاز پر ان کی سماجی و معاشی حیثیت کیا تھی اور اب کیا ہے؟۔ اس امر پر دو آرا نہیں کہ نگران حکومت کا فرض عبوری مدت میں روزمرہ کے امور مملکت سرانجام دینا اور صاف و شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا ہے۔موجودہ نگران حکومت ملک کی پچھتر سالہ تاریخ کی سب سے بااختیار حکومت ہے۔ سابق حکومت نے اسمبلی تحلیل ہونے سے قبل نگران حکومت کو بااختیار بنانے کیلئے قانون سازی کی تھی۔ امید کی جانی چاہیے کہ وفاق اور صوبوں میں قائم نگران حکومتیں آئین و قانون اور طے شدہ اختیارات کی حدود میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھیں گی۔دم تحریر یہ اطلاع بھی موصول ہوئی کہ بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے ہوگیا ہے خبر درست ہے تو یہ مثبت پیش رفت ہے کیونکہ بلوچستان کے حوالے سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ صوبے میں نگران وزیراعلیٰ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے نہ ہوسکنے کے بعد گو معاملات طریقہ کار کے مطابق پہلے پارلیمانی کمیٹی اور بعدازاں الیکشن کمیشن کے پاس جاسکتے ہیں مگر اس دوران جنم لینے والی تلخیاں ماحول کو پراگندہ کردیں گی۔ اب نگران وزیراعلیٰ پراتفاق رائے کی جو خبر موصول ہوئی ہے اس سے خدشات دور ہونے میں مدد ملے گی۔
جہاں تک نگران حکومتوں کے فرائض کا تعلق ہے تو ان پر دو آرا ہرگز نہیں۔ گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ معاشی پالیسیاں برقرار رہیں گی۔سابق حکومت کی معاشی پالیسیاں برقرار رکھنے میں امر مانع بھی کوئی نہیں،ویسے بھی نگران حکومت کے پاس پالیسی سازی کے اختیارات نہیں ہوتے البتہ نگران حکومت کو مہنگائی، غربت اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کرنا ہوں گے۔ گزشتہ روز ہی پٹرول کی قیمت میں 17روپے 50پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 20روپے لٹر اضافہ ہوا ہے اس کے ساتھ ہی دوسری پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھادی گئی ہیں۔ وزارت خزانہ نے ڈالر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے ساتھ عالمی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو اندرون ملک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ قرار دیا ہے۔ یقینا یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن یہ بھی دیکھا جانا ازبس ضروری تھا کہ اس کے عام آدمی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور مہنگائی کی شرح میں مزید کتنا اضافہ ہوگا۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا پچاس سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے۔20کلو آٹے کا تھیلا کھلے بندوں 29سو روپے سے3ہزار روپے تک فروخت ہورہا ہے۔ مارکیٹ کمیٹیوں کے مقرر کردہ نرخوں پر ملک بھر میں ایک بھی چیز صارف کیلئے دستیاب نہیں۔رخصت ہونے والی حکومت نے اقتدار کے آخری مہینے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا تھا اس کی وجہ سے مہنگائی کی مجموعی شرح میں اڑھائی فیصد اضافہ ہوا اس کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹروں نے مختلف شہروں کے کرائے بڑھادیئے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران سبزیوں، مٹن، بیف اور برائلر مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں مزید اضافے کا رجحان رہا۔گو اس صورتحال کی ذمہ داری نگران دور پر نہیں ڈالی جاسکتی جانے والوں نے بھی یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیا تھا کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کی روشنی میں پٹرولیم، بجلی، سوئی گیس اور ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ مجبوری تھی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں کو ٹھنڈے دل سے اپنے لوگوں کی قوت خرید فی کس اوسط ماہانہ آمدنی اور جوائنٹ فیملی سسٹم سے پیدا ہوئے ان مسائل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے جن کے بوجھ تلے دبے شہریوں کا سانس لینا بھی دشوار ہورہا ہے۔ نگران حکومت بے لگام مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مؤثر اقدامات کرکے شہریوں کیلئے آسانی پیدا کرسکتی ہے اس کیلئے ضروری ہے کہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہوں۔ نیز یہ کہ اشیائے ضروریہ اور ڈالر کی افغانستان سمگلنگ کو ہر قیمت پر روکا جائے۔اس کے ساتھ ساتھ نگران حکومت شدت پسندی کے پرانے مرض کا بھی شافی علاج کرپائے تو اس سے خوشگوار ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔ ملک میں دوسرے سنگین مسائل کے ساتھ شدت پسندی اور سٹریٹ جسٹس بھی ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہوتی جارہی ہیں ۔ الزام لگانا لوگوں کو اشتعال دلانا اور پھر خود ہی عدالتیں لگاکر فیصلے اور فیصلوں پر عملدرآمد سے جو ماحول بنا ہوا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں قانون کی حاکمیت ہو یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب قانون کسی کیلئے موم کی ناک اور کسی کے گلے کا پھندا نہ بنے جیسا کہ ہمارے ہاں عموماً ہوتا ہے کہ لٹھ بردار مشتعل ہجوم جھوٹ کی طومار سے ا یسی فضاء بنادیتا ہے کہ سچ سے آگاہ لوگ بھی اپنی جان و مال کے خوف سے متاثرین کی مدد نہیں کرتے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات کی تفصیل بیان کرنے کی بجائے صرف یہ عرض کیا جانا ضروری ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ جس دن حکومت نے دستور میں دیئے گئے شہری، سیاسی، معاشی اور مذہبی حقوق میں کسی بھی طرح کی مداخلت کرنے اور جھوٹے الزامات لگاکر امن و امان کے مسائل پیدا کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی میں پہل کی اصلاح احوال کی شروعات ہوجائے گی۔ ہمیں امید ہے کہ نگران حکومت ان مسائل پر بھی توجہ دے گی تاکہ سازشی عناصر انتخابات کے انعقاد سے قبل ماحول خراب نہ کرنے پائیں۔