اظہار بے بسی

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ بجلی کے بلز کا معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر دیکھ رہے ہیں، بل تو دینا ہوگا، جومعاہدے ہوئے وہ ہرصورت پورے کریں گے۔دوسری جانب مہنگائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں کہ پہیہ جام ہڑتال کی جائے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔اس اضافے کے سبب پیٹرولیم مصنوعات کی فی لیٹر قیمت ملکی تاریخ میں پہلی بار 300 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔واضح رہے کہ نگران حکومت کو آئے ابھی ایک ماہ کا بھی عرصہ نہیں ہوا لیکن اس کے باوجود لگاتار دوسری مرتبہ قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس عرصے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو چکا ہے۔اس سے قبل 16 اگست کو بھی نگران حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بالترتیب 17 روپے 50 پیسے اور 20 روپے کا اضافہ کردیا تھا۔پیٹرولیم مصنوعات میں ایک ماہ سے بھی کم وقت میں یکے بعد دیگرے دوسری مرتبہ اضافے سے ہوشربا مہنگائی میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جہاں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی وجہ سے اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یہ مرکزی بینک کو بھی مجبور کر رہی ہے کہ وہ مقامی کرنسی کی بے قابو گراوٹ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرے۔شرح سود میں اضافے کی قیاس آرائیاں، معاشی بے یقینی اور روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے سبب اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی اور ایک دن میں 1200 پوائنٹس سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔اس طرح کا بیان دینے والے صرف وزیر اعظم نہیں بلکہ وزیر خزانہ نے تو ملک کی معاشی صورتحال میں مزید گراوٹ کاکھلے عام غیر محتاط بیان دیاتھا جس کے بعد سٹاک مارکیٹ میں کھلبلی مچی اور کاروباری طبقے اور دیگر شعبے بھی اس سے متاثر ہوئے ۔ وزیر خزانہ کا بیان اگرچہ کوئی انکشاف اورانوکھی بات نہ تھی بلکہ اس طرح کے خیالات کا عام طورپر ہر جانب سے اظہار ہو رہا ہوتا ہے لیکن حکومتی رکن کے بیان کی حیثیت الگ ہوتی ہے اب اسی طرح کا غیر محتاط بیان نگران وزیر اعظم کی طرف سے بھی سامنے آیا ہے ان لوگوں سے کچھ بعید نہیں کہ یہ پاکستان کے غریب عوام سے مزید کیا کر گزریں نگران حکومت کے سربراہ اور اراکین کابینہ سے ملکی معیشت کی بہتری کے اقدامات کی تو توقع ہی نہیں بطور حکمران کم از کم ان سے اتنی توقع تو نہ تھی کہ وہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی سعی کی بجائے نمک پاشی کریں گے ۔ نگران حکومت عوام کی چنیدہ نہیں ان کے بیانات سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ عوام کی بجائے آئی ایم ایف کے مفادات کو عزیز رکھتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ اور اس کی پابندی بارے دوسری رائے نہیں لیکن اس قدر بھی بے حسی کامظاہرہ مناسب نہیں کہ جو عوام کی دل آزاری کاباعث بنے ۔نگران وزیر اعظم کی بے بسی اور ناکامی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو گا کہ پہلے پہل انہوں نے بجلی کے بھاری بلوں کا نوٹس لے کرعوام کو ریلیف کی فراہمی کا عندیہ دیاتین دن کی مغز کھپائی کے بعد بے بسی سے ہاتھ کھڑے کر دیئے گئے او رپھر محولہ بیان دے کر گویا عوام پر بھڑاس نکال لی بجلی بلوں کی عدم ادائیگی کی کسی وکالت کی گنجائش نہیں بلوں کی بہرحال ادائیگی کرنی ہوگی اس ضمن میں نگران وزیر اعظم نے جوتجاویز دینے کاعندیہ دیا ہے ان تجاویز کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں نگران وزیر اعظم کو مہنگائی محسوس نہ ہونا تعجب کی بات اس لئے نہیں کہ ان کے تمام اخراجات و مصارف سرکاری ہیں اور اگر سرکاری نہ بھی ہوں تو بھی سرمایہ داروں ‘ جاگیرداروں اور استحصالی طبقات کو مہنگائی متاثر نہیں کرتی بلکہ ان طبقات کا خود کسی نہ کسی چیز کو مہنگا کرکے ناجائز منافع کمانے میںہاتھ ہوتا ہے یوں مہنگائی ان کے مفاد کا معاملہ ٹھہرتا ہے ۔ نگران وزیر اعظم کے نامناسب بیان پر عوام کا احتجاج باعث تعجب نہیں ہونا چاہئے صرف یہی نہیں بلکہ حالات جس طرف جارہے ہیں انجام کار عوام کا استحصالی عناصر کے خلاف احتجاج اور احتجاج کا رخ ان کی طرف مڑ جانا وہ خطرناک صورتحال ہوگی جوحال ہی میں فرانس جیسے ملک میں ہم دیکھ چکے ہیں نگران حکومت کو نوے دن کے اندرانتخابات کا انعقاد کرکے رخصت ہونا چاہئے ملک میں عوام کی چنیدہ حکومت آئے تو عوامی مسائل کے حل کی طرف شاید کچھ توجہ ملے غیر ملکی سرمایہ کاری آئے اور بیرون ملک سے زرمبادلہ کی ترسیل میں بہتری آئے اس طرح کی غیر یقینی فضا اور بیانات سے حالات خدانخواستہ مزید ابتر ہوںگے اور خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ۔بہتر ہوگا کہ جلد سے جلد انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے اور نگران حکومت کی رخصتی کی الٹی گنتی شروع ہو۔

مزید پڑھیں:  فیصلہ یا آئین نویسی ؟