مشرقیات

حضرت حسن خاندان نبوت کے چشم وچراغ یعنی حضرت سیدنا حسن بن علی کے فرزند ارجمند اور آپ کے جانشین تھے۔ ماں کا نام خولہ تھا۔ اپنے جدامجد کی باتوں یعنی احادیث نبویۖ کے امین تھے۔ آپ کے صاحبزادے ابراہیم، عبداللہ، حسن اور چچیرے بھائی حسن بن محمد بن حنیفہ اور حباب بن سعید کوفی،سعید بن ابی سعید،عبدالرحمن بن حفض اور ولید بن کثیر وغیرہ سے آپ نے روایتیں کی ہیں۔ (تہذیب التہذیب)حضرت حسن خلق میں اپنے بے نیاز عالم والد بزرگوار حضرت حسن کے خلف الصدق تھے۔ نسبی فخروغرورکا ادنیٰ شائبہ نہ تھا،حسن اس باپ کے بیٹے تھے ،جس نے ملتی ہوئی خلافت چھوڑ دی،اسلئے وہ خلافت کے بارے میں گمراہ کن خیالات کو سخت نا پسند کرتے تھے اور برملا ان کی تردید کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تم لوگوں کو دعویٰ ہے کہ تم ہم سے خدا کیلئے محبت کرتے ہو،اگر یہ دعویٰ صحیح ہے تو ہم جب تک خدا کی اطاعت کریں تم ہم سے محبت کرو اور جب اس کی نافرمانی کریں تو ہم سے دشمنی کرو۔ آپ کے یہ خیالات سن کر ایک شخص نے کہا کہ آپ لوگ تو رسول اقدسۖ کے قرابت دار اور اہل بیعت میں سے ہیں۔ آپ نے فرمایا:''تجھ پر افسوس ہے!اگر رب تعالیٰ بغیر اپنی اطاعت کے محض قرابت رسولۖ کی وجہ سے کسی کو بخشنے والا ہوتا تو سب سے زیادہ ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا،جو ہم سے زیادہ رسول اقدسۖ سے قریب ہیں۔خدا کی قسم!مجھ کو خوف ہے کہ ہم میں(اہلیت) کے گنہگار کو عام گنہگاروں سے دگنا عقاب دیا جائیگا اور یہ اُمید بھی ہے کہ ہماری جماعت کے مطیع اور محسن کو اجر بھی دوگنا ملے گا (تم لوگوں کی حالت پر افسوس ہے) خدا سے ڈرو اور ہمارے بارے میں قول حق کہو،کیونکہ وہ اس چیز کو جسے تم چاہتے ہو بدرجہ اتم پورا کرنے والا ہے اور ہم بھی قول حق ہی سے تم سے راضی ہو سکتے ہیں''۔ ابوالعباس سفاح عباسی،حضرت حسن اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ دونوں کو بہت مانتا تھا،یہ دونوں تابعین کی جماعت کیساتھ اس کے پاس جاتے تھے،وہ ان کی خدمت کرتا تھا، عبداللہ پر اتنا مہربان تھا کہ دربار میں جانے کیلئے ان پر خاص لباس کی پابندی نہ تھی اور وہ بلاتکلف محض معمولی کرتا پہن کر سفاح کے سامنے چلے جاتے تھے ان کیساتھ یہ غیرمعمولی برتائو دیکھ کر لوگ ان سے کہتے تھے کہ امیرالمومنین تمہارے علاوہ کسی کو اس لباس میں نہیں دیکھتے تم کو انہوں نے اپنا فرزند تصور کیا۔