p613 166

سیاسی استحکام ہی بہترین نظام ہے

وزیر اعظم عمران خان نے قومی رحمة للعالمین کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود ناموس رسالتۖ کی مہم چلائیں گے اور اس مقصد کیلئے پوری دنیا کے مسلمان قائدین کیساتھ رابطہ کریں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ناموس رسالتۖ کے حوالے سے جن جذبات کا اظہار قومی رحمة للعالمین کانفرنس کے فورم سے کیا ہے، یہ قابل ستائش ہے ، وہ اس سے پہلے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھی یہ پیغام دے چکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ناموس رسالتۖ مہم کی سرپرستی کے غیرمعمولی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ سرکاری سرپرستی کے بغیر چلنے والی ناموسِ رسالتۖ کی مہموں میں متعدد ناخوشگوار واقعات پیش آ چکے ہیں، ناموس رسالتۖ کے نام پر چونکہ مسلمان کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے ہیں اس لیے مسلمانوں کی طرف سے ایسے مواقع پر ردِ عمل سامنے آنا ایک فطری عمل ہے' تاہم جب ہزاروں افراد مل کر جلوس یا ریلی نکالتے ہیں تو اس مجمع کو کنٹرول کرنا مشکل مرحلہ ہوتا ہے ،جب مجمع کے شرکاء کے جذبات آسمانوں کو چھو رہے ہوتے ہیں تو معمولی سی غلطی بھی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان جب ناموس رسالتۖ مہم کی خود سرپرستی کریں گے تو ہزاروں لاکھوں افراد کی شرکت کے باوجود ناخوشگوار واقعات رونما ہونے کے امکانات انتہائی محدود ہوںگے کیونکہ ناموس رسالتۖ مہم کے ذریعے اپنے ملک کو نقصان پہنچانا مقصود نہیں ہے بلکہ مناسب اندازمیں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا مقصود ہے جو اسی صورت کارگر ثابت ہو سکتا ہے جب منظم انداز اور پرامن انداز سے احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ناموس رسالتۖ مہم کی سرپرستی سے اُمید کی جانی چاہیے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ناموس رسالتۖ کے مسئلے کو خوش اسلوبی کیساتھ پیش کیا جا سکے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی رحمة للعالمین کانفرنس کے موقع پر پاکستان میں چین جیسا نظام لانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے تحت انتخابی سیاست نہ ہونے کے باوجود بہترین لوگ اوپر آتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان نے چینی نظام کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کے ذریعے چین نے اپنے 70کروڑ عوام کو غربت سے باہر نکالا ہے۔ وزیراعظم عمران خان جس چینی ماڈل کی بات کر رہے ہیں، یاد رہے وہاں پر کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے، ساڑھے 8کروڑ افراد اس کے رکن ہیں اورپھر پارٹی طے کرتی ہے کہ کوئی شخص رکن بننے کا اہل ہے یا نہیں۔ کون کمیونسٹ سوچ کا وفادار ہے کون نہیں، گویاایک بہت بڑی آبادی سیاسی نظام سے پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوجاتی ہے۔ چین میں اس نظام کوجمہوریت کا نام دیا گیا ہے تاہم دنیا اسے جمہوری نظام تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ چینی ماڈل میں دلچسپ بات یہ ہے کہ لیڈر شپ کو باقاعدہ تربیت دینے کے بعد حکومت کرنے کا ایسا طویل عرصہ دیا جاتا ہے جس میں سیاسی عدم استحکام کی گنجائش انتہائی کم ہوتی ہے یوں چین کی لیڈر شپ معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف حاصل کرنے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ آج وزیر اعظم عمران خان ہی چینی ماڈل کی بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ اب تو چینی ماڈل پر مغرب میں بھی علمی اور فکری تحقیق شروع ہو گئی ہے۔ چینی نظام کا اگر طائرانہ جائزہ لیا جائے تو وہاں پر سیاسی استحکام دکھائی دیتا ہے کیونکہ سیاسی استحکام کے نتیجے میں ہی حکومتوں کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان شاید اس طرح طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیںکہ پاکستان جیسے ممالک میں منتخب حکومتوں کو اصل ایشوز پر کام کرنے کی بجائے غیر ضروری کاموں میں الجھا دیا جاتا ہے، اس لیے وزیر اعظم عمران خان پاکستان میں جمہوری سسٹم کی جگہ چینی نظام کی بات کر رہے ہیں۔ چینی نظام کی خوبیاں اپنی جگہ پر مگر ہماری ناقص رائے کے مطابق چین کے اپنے حالات ہیں اور وہاں پر نافذ نظام کے پس پردہ طویل جدوجہد اور قربانیاں ہیں۔ اگر چینی نظام کو من و عن پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو عین ممکن ہے پاکستان کے حالات اس کیساتھ مطابقت نہ رکھیں اور یوں جو نظام چین میں کامیاب ہے وہ یہاں پر ثمر آور ثابت نہ ہو سکے۔ اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جن خطوط پر چل کر چین نے معاشی کامیابیاں حاصل کرکے اپنے کروڑوں شہریوں کو غربت سے باہر نکالا ہے ، ان خطوط کو اپنا کر پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے ، اس کیساتھ ساتھ پاکستان کے دیرینہ مسائل کو سامنے رکھ کر مقامی سیاسی جماعتوں کے تعاون سے ملک میں سیاسی استحکام کی کوشش کی جائے کیونکہ سیاسی استحکام ہی بہترین نظام ہے۔