پشتو کے مشہور شاعر اور ادیب سلیم راز انتقال کرگئے

ویب ڈیسک (پشاور): پشتو کے بڑے اور ترقی پسند شاعر سلیم راز 29 مارچ 1939ء کو ایک پولیس افسر ملک امان خان کے ہاں گاؤں "سکڑ دوابہ" ضلع چارسدہ میں پیدا ہوئے۔ سلیم راز کے اجداد کا تعلق ضلع بٹگرام کے ہزارہ علاقے سے تھا اور قبیلہ یوسف زئی کے ذیلی شاخ اْنکی پہچان تھی۔  شاخ ملکال (عثمانی )میں شمار ہوتے ہیں سات بہن بھائیوں میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔

ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول بنوں سے حاصل کی جہاں 1947ء میں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ سلیم راز گلستان اور بوستان کے علاوہ قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھ چکے ہیں۔ بچپن میں پشتو کی لوک داستانیں اور رومانوی قصے کہانیاں بڑے شوق سے سنتے تھے پریوں کی کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے تھے اور خود کو کہانی کا مرکزی کردار سمجھ کر ہمیشہ پری زادوں کو دیو کے پنجے سے آزاد کرنے والے شخص کا کردار پسند کرتے تھے۔

سلیم راز کی ادبی سرگرمیاں اور اعزازات بے شمار ہیں، وہ پشتو عالمی کانفرنس کے بانی چئیرمین تھے اور عالمی سطح پر دو پشتو عالمی کانفرنس کرا چکے ہیں۔ ملک گیر سطح پر پاکستانی زبانوں کی ترقی پسند تنظیم عوامی ادبی انجمن، پختونخوا کے کنوینر ہیں، نیز وہ مسلسل بائیس سال تک انجمن مصنفین "خیبر پختونخوا" کے جنرل سیکرٹری رہے۔ اس وقت وہ عالمی پشتو جرگہ کے چئیرمین تھے۔ انٹر نیشنل کانگریس آف رائٹرز کے بانی ممبر رہ چکے ہیں، اکادمی ادبیات پاکستان کے تاحیات ممبر ہیں اس کے علاوہ بے شمار ادبی تنظیموں کی بنیاد رکھی ہے اور ان کی سرپرستی بھی کی۔ اْن کو فارسی پر بھی عبور حاصل رہا ہے اسی طرح حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی ہے ۔ نیشنل عوامی پارٹی اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے گہرا تعلق رہا۔ فیض احمد فیض، سید سبط حسن، میر غوث بخش بزنجو، خان عبدالغفار خان "باچا خان" اجمل خٹک سمیت نامور شخصیات سے صحبت رہی۔ سلیم راز ایک عرصے سے علیل تھے،17 مئی، 2021 بروز پیر82 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔