دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے

دوسروں کو ذہنی تکلیف میں دیکھ کر خوشی محسوس کرنا بھی دراصل ایک نفسیاتی بیماری ہے ‘ جس میں مبتلا بعض لوگ خدا جانے کیوں بازنہیں آتے ‘ یہ مرض ان دنوں نہ صرف متعلقہ افراد اور ان کے اہل خاندان کے لئے تکلیف کا باعث ہے بلکہ ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے وہ پورے پاکستان کے عوام کو بالخصوص اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے ممدوحین کے جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ‘ جبکہ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے ٹرولز بھی بغیر تحقیق کئے اس قسم کی جھوٹی پوسٹوں کو بلا سوچے سمجھے آگے بڑھانے میں مدد گار ہوتے ہیں تازہ ترین موضوع زیر بحث کے حوالے سے وہ دو پوسٹیں ہیں جن میں سے ایک میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور دوسری میں عالمی شہرت یافتہ اداکار عمر شریف کی اموات کی اطلاعات ‘ جبکہ اس سے پہلے ان دونوں کی بیماریوں کے حوالے سے خبریں بڑھا چڑھا کرپیش کی گئی تھیں اور اگلے دو ایک دن کے بعد دونوں کی دنیاسے رخصتی پر منتج ہوئیں حالانکہ بعد میں دونوں کے بارے میں تردید بھی آگئی ‘یہاں تک کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بذات خود ایک ویڈیو پیغام میں اپنے (اللہ کے کرم سے) بقید حیات ہونے کا اعلان کیا ‘ جبکہ عمر شریف کی اہلیہ نے ان کے حوالے سے یہاں تک کہا کہ انہوں نے ا پنے شوہر کو علاج معالجے کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کے برعکس جن میں حکومت سے امداد کی اپیل کی گئی تھی یہ بھی کہا کہ انہوں نے حکومت سے صرف بیرون ملک علاج کے لئے ویزہ کی سہولیات کی فراہمی کی درخواست کی تھی اور ان کی موت کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو بھی جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ‘ ایسی ہی صورتحال ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے بھی تھی جن کے کورونا میں مبتلا ہونے کی اطلاعات ‘ یہاں تک کہ ان کو وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کی اطلاعات بھی درست ضرور تھیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے بتدریج صحت یاب ہونے کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں لیکن بعض لوگوں کو ان دونوں اہم شخصیات کے بارے میں افواہیں پھیلانے اور ان کے انتقال کی جھوٹی خبریں اڑانے میں کیا دلچسپی تھی یا ہے کہ بار بار تردیدوں کے باوجود یہ خبریںرکنے میں نہیں آرہی تھیں ‘ کیونکہ فیس بک اور ٹویٹر پر موجود ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو اس قسم کی خبروں کو بغیر تصدیق کئے آگے بڑھانے اور دنیا بھر میں ایسی شخصیات کے ممدوحین کو ذہنی کوفت میں مبتلا کرنے میں ایک لمحے کی بھی تاخیر نہیں کرتے ‘ یعنی بقول شاعر
کیا ملا تم کو مرے عشق کا چرچا کرکے
تم بھی رسوا ہوئے آخر مجھے رسوا کرکے
کچھ ایسی ہی صورتحال اس سے پہلے ایدھی صاحب مرحوم کے ساتھ بھی دیکھنے کو ملتی رہی ہے ‘ جو بیمار ہوئے تو لگ بھگ تین چار بار ان کی موت کی خبریں سوشل میڈیا پر پھیلائی گئیں۔ ہر بار تردید ہوتی رہی تاہم ان سوشل میڈیا ”جانبازوں” کو تب سکون ملا جب وہ بے چارے واقعی دنیا سے رخصت ہو گئے ‘ اس کے بعد حالیہ چند گزشتہ ہفتوں کے دوران عالمی شہرت یافتہ اداکار دلیپ کمار کے حوالے سے بھی ایسا ہی رویہ دیکھنے کو ملا ‘ ان کی بیماری ‘ ہسپتال میں بار بار لانے لیجانے اور انہیں درپیش سانس اور دیگر بیماریوں کے حوالے سے خبریں گردش کرنے لگیں تو ان ٹرولز نے ان کی رحلت کی بھی خبریں پھیلانا شروع کر دیں جن کی تردید ان کے اہل خانہ خصوصاً ان کی اہلیہ سائرہ بانو کی جانب سے بار بار کی گئی ‘ مگر دوسروں کی تکلیف سے ذہنی آسودگی پانے والے پھر بھی باز نہیں آئے ‘ جانے والے نے تو ایک نہ ایک روز بالآخر جانا ہی ہوتا ہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ ہر ذی نفس نے موت کا ذائقہ چکنا ہے اور اسے اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے ‘ قریب ا لمرگ افراد کے اہل خانہ بھی اس صورتحال سے واقف ہوتے ہیں تاہم اس کے باوجود امید پر دنیا قائم ہے کے تحت ان کی کوشش ہوتی ہے کہ جس قدر بھی ممکن ہو ‘ اپنے پیاروں کی زندگی بچانے کی کوشش کی جائے ‘ ایسے میں اس قسم کے سفاکانہ رویوں کے حامل بعض بدبخت ان کی تکلیفوں میں ا ضافہ کرنے اور انہیں ذہنی کرب سے دو چار کرنے کی جو حرکتیں کرتے ہیں ‘ وہ یقیناً قابل مذمت رویہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے ‘ اب کوئی ان لوگوں سے پوچھے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور عمر شریف کی موت کی خبریں پھیلانے سے ان کو کیا ہاتھ آتا ہے؟۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے
کیا ا ن لوگوں نے آب حیات پی رکھا ہے اور ان کو موت نہیں آنی کہ وہ دوسروں کے موت کی جھوٹی خبریں پھیلا کر ذہنی آسودگی حاصل کرتے ہیں ‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس قوم کے عظیم محسنوں میں شمار ہوتے ہیں مگر اپنے محسن کے ساتھ جوسلوک ہم نے روا رکھا ہے اس پر قومی سطح پر ہمیں جو شرمندگی ہونی چاہئے افسوس ہے کہ ہم اس معاملے میں ڈھیٹ پن کی ا نتہائوں کو چھو چکے ہیں ‘ اسی طرح عمر شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے شوکت خانم ہسپتال کے لئے فنڈز اکٹھا کرنے میں جو کردار ادا کیا بعض لوگوں نے اس جانب توجہ دلاتے ہوئے وزیر اعظم سے ان کے لئے آسانیاں فراہم کرنے کی پوسٹیں لگائیں ‘ جبکہ ان کی اہلیہ نے کسی مالی مدد کی درخواست نہیں کی البتہ جہاں انہیں علاج کے لئے لے جانا چاہتی ہیں وہاں کے لئے ویزہ سہولتوں کی استدعا کی ہے ‘ اگرچہ اس کے بعد اب یہ خبریں آتی ہیں کہ حکومت نے ان کے علاج معالجہ کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے ‘ جو اچھی اور حوصلہ ا فزا خبر ہے ‘ مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ بورڈ ان کی بیماری کی تشخیص پر کتنا وقت لگاتا ہے اور ان کی حالت (خدانخواستہ) تشویشناک ہونے سے پہلے پہلے ا ن کوعلاج کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت ملتی بھی ہے یا نہیں ‘ البتہ اس موقع پر اتنی گزارش ضروری ہے کہ جو لوگ ایسی قومی اور عالمی شہرت کے حامل افراد کی بیماریوں کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلاتے رہتے ہیں ‘ ان کو اللہ کا خوف کھانا چاہئے ‘ اسی طرح سوشل میڈیا ٹرولز بھی یہ ضرور سوچیں کہ اس قسم کی جھوٹی اور بے بنیاد خبروں کو تحقیق کئے بغیر ہوا دیکر انہیں کتنی نفلوں کا ثواب ملتا ہے؟
بقول ظفر اقبال
دیکھ رہ جائے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت ‘ خاک اڑا اور بہت