پاکستانی ٹیم کے مڈل آرڈر کو اٹیکنگ بیٹر کی ضرورت

پاکستان کرکٹ ٹیم نے جب جاری سات ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو دوسرے ون ڈے میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد 10 وکٹوں سے شکست دیکر سیریز ایک ایک سے برابر کی تھی تو اس وقت سب جشن منانے میں مصروف ہو گئے سب کی نظر اس بات پر تھی کہ پاکستان کے اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان نے 200 رنز کا ہدف حاصل کرلیا، بابر اعظم نے سنچری سکور کرکے اپنی فارم بحال کرلی ، اس جانب کسی کا بھی دھیان نہیں گیا کہ پاکستانی بائولنگ لائن نے دو سو رنز دیئے، مڈل آرڈر بیٹنگ کا مسئلہ تو پہلے ہی چل رہا تھا اب یہ ایک نیا مسئلہ سامنے آیا کہ پاکستانی بائولرز مخالف ٹیم کے بیٹرز کو رنز بنانے میں روکنے میں ناکام نظر آتے ہیں، یہ کمزوری سیریز برابر کرنے کے بعد جب تیسرے میچ کیلئے ٹیم میدان میں اتری تو بھرپور انداز سے واضح ہوئی اور انگلش بیٹرز جنہیں بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی پاکستانی بائولرز کو آڑے ہاتھ لیا اور پاکستان کیخلاف 221 رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا،

اب اس میچ میں وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے، بابر اعظم اور محمد رضوان جلدی پویلین لوٹ گئے اور باقی ٹیم میں سوائے شان مسعود کے کسی کی جانب سے کوئی مزاحمت دیکھنے کو نہیں ملی نتیجہ شکست کی صورت میں سامنے آیا، پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا چوتھا میچ کراچی نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، یہ کراچی میں ہونے والا سیریز کا آخری میچ ہوگا جس کے بعد دونوں ٹیمیں لاہور چلی جائیں گی اور باقی تینوں ٹی ٹوئنٹی میچ لاہور میں کھیلے جائیں گے، پاکستان کو انگلینڈ کیخلاف آج چوتھے ون ڈے میچ میں بہت ساری چیزوں کو مدنظر رکھ کر میدان میں مقابلے کیلئے اترنا ہوگا، مڈل آرڈر کی کمزوری کے ساتھ ساتھ بائولرز کی کارکردگی جو کچھ عرصہ قبل تک تو ٹھیک تھی یکدم دو تین میچوں میں نیچے چلی گئی ہے، انگلش ٹیم واقعی میں ان سات ون میچوں کو ہار جیت سے قطع نظر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاری کیلئے استعمال کر رہی ہے، اب تک تین میچوں میں اس نے مختلف کمبی نیشن آزمائے ہیں، مختلف بائولرز کو موقع فراہم کیا ہے یعنی ہر میچ میں ان کی جانب سے ٹیم میں تبدیلی کا عمل دیکھنے میں آیا ہے

مزید دیکھیں :   پرتھ ٹیسٹ، آسڑیلیا نے پہلے روز 2 وکٹوں پر 261 رنز بنا لئے

دوسری جانب پاکستان کی ٹیم کو نجانے کیا مسئلہ ہے کہ وہ انتظار کرتی ہے کہ کوئی کھلاڑی ان فٹ ہو جائے تو اس کی جگہ دوسرے کو لایا جائے، پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور مینجمنٹ کو بھی چاہئے کہ وہ بھی اس سیریز میں ہار جیت سے قطع نظر مختلف کمبی نیشن آزمائے، ٹیم میں تبدیلیاں کرے تاکہ عالمی کپ تک ایک بہترین ٹیم سامنے آسکے، جب تک بیٹنگ کا سارا بوجھ بابر اور رضوان اٹھائے رکھیں گے تو آپ کی جیت میں تسلسل نہیں آئے گی مڈل آرڈر میں کچھ ایسے بلے باز درکار ہیں جو بابر اور رضوان کے جلد آئوٹ ہونے کے باوجود مخالف ٹیم کے بائولرز پر اٹیک کریں جیسے تیسرے میچ میں شان مسعود نے اٹیکنگ کرکٹ کھیلی، شان مسعود کیساتھ مزید ایک اور اٹیکنگ بلے باز ہوتا تو میچ کا نتیجہ مختلف بھی نکل سکتا تھا مگر یہ بات یاد رکھیں کہ شان مسعود اٹیکنگ بیٹر ضرور ہے مگر وہ کسی طور پر فنشر نہیں ہے، فخر زمان کے باہر ہونے سے ٹیم کی بیٹنگ لائن بہت کمزور دکھائی دیتی ہے، اب تک کھیلے گئے میچوں میں یہ واضح طور پر نظر آیا ہے کہ افتخار احمد، خوشدل شاہ، آصف علی جیسے بیٹرز شائقین کی توجہ حاصل کرنے کیلئے کبھی کبھار چھکے چوکوں کی برسات تو کرسکتے ہیں مگر یہ وہ بیٹرز نہیں ہیں جن پر جیت کیلئے بھروسہ کیا جاسکے، اگر پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کیخلاف جاری اس سیریز میں اپنے ان مسائل کو حل نہ کیا تو عالمی کپ جیسے میگا ایونٹ میں اس کیلئے مشکلات مزید بڑھ جائیں گی

مزید دیکھیں :   پاکستان بمقابلہ انگلینڈ، ٹیسٹ میچوں میں کس کا پلڑا بھاری؟

پاکستان کی ٹیم اگر ذہن میں یہ بات بیٹھائے ہوئے ہے کہ وہاں کی وکٹیں ان کے بائولرز کو مدد دینگی تو یہ بھی یاد رکھیں کہ آسڑیلیا کی وکٹیں دوسری ٹیم کے بائولرز کیلئے بھی مددگار ہونگی اور آپ کی بیٹنگ لائن جو ہوم وکٹوں پر دبائو کا شکار ہے تو وہاں کیا کرے گی، آج چوتھے ون ڈے میچ میں پاکستان کے بیٹنگ کوچ، بائولنگ کوچ اور کپتان کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اگر ٹیم کی بہتری کیلئے تبدیلیاں ناگزیر ہیں تو ڈرے بغیر تبدیلیاں کی جائیں۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان اب تک مجموعی طور 21 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے جا چکے ہیں اور اس میں انگلش ٹیم کا پلڑا بھاری ہے اس نے 14 اور پاکستان نے صرف چھ میچ جیتے ہیں ایک میچ غیر نتیجہ خیز رہا، اس اعداد و شمار کی روشنی میں پاکستان کی ٹیم کا مسئلہ یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ انگلش ٹیم کے دبائو میں رہ کر کھیلتی ہے۔