میں صدر بھی، سامع بھی تھا، خود بول رہا تھا

اب اس خبر پر ہنسا جائے، رویا جائے یا پھر حیرت کا اظہار کیا جائے، خبر یہ ہے کہ اعجاز الحق 3سال کیلئے مسلم لیگ(ضیائ) کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے ہیں، ہنسنے کی بات ہم نے اسلئے کی ہے کہ موصوف کی جماعت بھی ان تانگہ پارٹیوں میں سے ایک ہے جن کے اکثر چرچے ہوا کرتے ہیں اور جن میں شیخ رشید کی جماعت بھی شامل ہے، ایسی جماعتوں کی کل کائنات وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے نام سے یہ جماعتیں منسوب ہوتی ہیں اور ان کے حوالے سے جب کسی تقریب، جلسے ، کارنر میٹنگ کی خبریں آتی ہیں تو وہاں ''رونق'' کی صورتحال ہمارے کرمفرما ناصر علی سید کے اس شعر کی مانند ہوتی ہے کہ
تقریب تری یاد کی کمرے میں بپا تھی
میں صدر بھی، سامع بھی تھا، خود بول رہا تھا
یا پھر زیادہ سے زیادہ صورتحال موسیقی کے اس محفل کی مانند ہوتی ہے جہاں ایک بے سرا گویاّ گانے کی کوشش کررہا تھا بہت دیر تک انٹ شنٹ قسم کی موسیقی کے سر بکھیرنے کے بعد جب وہ تھک گیا تو صرف ایک ہی شخص موجود تھا، گویئے نے اسے شاباش دیتے ہوئے کہا، اس بستی کے لوگوں میں مجھے ایک تم ہی ایسے شخص نظر آئے ہو جسے کلاسیکی موسیقی سے لگاؤ بھی ہے اور سمجھتے بھی ہو، اسی لئے تو آخر تک بیٹھے ہوئے ہو، اس شخص نے جواب دیتے ہوئے کہا موسیقی تو میں نہیں سمجھتا، البتہ آخر تک میرے یہاں بیٹھنے کی وجہ یہ ہے کہ مجھے یہ دریاں سمیٹ کر لے جانی ہیں جن پر بیٹھ کر تم گا رہے تھے، گویا اکیلے سامع نے گویئے کو یہ احساس دلایا کہ اس کی موسیقی بقول قتیل شفائی کچھ یوں تھی کہ
کبھی سارے کبھی گاما، کبھی پادھا، کبھی نی سا
مسالہ جان کر اس نے سدا ہر گیت کو پیسا
سیاسی جماعتوں کی صورتحال تو اب یہ ہوگئی ہے کہ یہ گھریلو سیاسی کلب بن کر رہ گئی ہیں، ہر سیاسی خانوادے نے اپنی جماعتوں کو موروثیت کا لبادہ پہنا کر ان پر قبضہ کر رکھا ہے، اعجازالحق اور شیخ رشید پہلے لیگ(ن) کے قافلے میں شامل تھے جبکہ لیگ(ن) ضیاء الحق کی فکر رساء کی پیداوار تھی یعنی موصوف نے غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب شدہ اسمبلی کے بطن سے جو چوزہ برآمد کر کے اس کی قیادت محمد خان جونیجو مرحوم کو سونپی تھی، آگے اسی کے اندر سے لیگ(ن) نے جنم لیا تھا اور جب تک میاں نواز شریف، ضیاء الحق کے ''مشن'' بیانئے کو آگے بڑھاتے رہے تب تک اعجازالحق ان کے صدقے واری جاتے رہے، یہی حال شیخ رشید کا تھا یعنی دونوں لیگ(ن) کی حکومت کے دوران وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے تو میاں نواز شریف کی رطب اللسانی ان کا وتیرہ رہا تو بات بنتی رہی مگر جیسے ہی جنرل مشرف نے حکومت کا تختہ اُلٹا تو دونوں نے میاں صاحب سے اپنے راستے جدا کر لئے اور اپنی اپنی زنبیل سے نئی مسلم لیگیں برآمد کر کے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنالیں بقول عزیز اعجاز
اُس شاخ پہ جا بیٹھے گا اِس شاخ سے اُڑ کر
چالاک پرندہ ابھی پر تول رہا ہے
جہاں تک تانگہ پارٹیوں کا تعلق ہے اس حوالے سے ہمیں غلام محمد گاما (بانسا والا) یاد آگیا ہے، موصوف بھارت کے مشہور فلم سٹار شاہ رخ خان کے چچا تھے اور پشاور میں ''غریب عوام پارٹی'' کے نام سے مقامی سیاست میں سرگرم تھے، بنیادی طور پر وہ خان عبدالغفار خان کے پیروکار تھے مگر پشاور کے عوام کے مسائل پر بھی اپنی سیاست محولہ بالا سیاسی پارٹی کے نام سے جاری رکھے ہوئے تھے، ان کی خصوصیت ہندکو پشتو ملی جلی زبان میں تقریریں کر کے انتظامیہ کو نکیل ڈالنا ہوتی تھی، جہاں آٹا چینی مہنگی ہوتی تو وہ چوک یادگار پر تقریر کرنے کھڑے ہو جاتے، ان کے جلسوں کی صدارت اکثر وبیشتر مولانا عبدالودود سرحدی (غالباً نام تھا) کرتے، غریب عوام پارٹی بھی دراصل غلام محمد گاما ہی کے ذات کے گرد گھومتی رہتی تاہم اسے تانگہ پارٹی ہرگز نہیں کہا جا سکتا کیونکہ گاما مرحوم کی تقریر اتنی دلچسپ ہوتی اور جس طرح وہ تقریر کے دوران انتظامیہ کو بے نقط (قانون اور شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے) سناتے تو لوگ لوٹ پوٹ ہوتے، طنز ومزاح سے بھرپور تقریر کے دوران وہ عوام کے مسائل بہت خوبصورتی سے اُجاگر کرتے، مزے کی بات یہ ہے کہ چوک یادگار پر ان کے جلسے کے دوران اتنی رش ہوجاتی کہ سائیڈ سے ٹریفک کا گزرنا مشکل ہو جاتا جبکہ شیخ رشید اور اعجازالحق کے جلسوں (؟) میں تو صورتحال اس گویئے کی مانند ہوتی ہے جس کا واحد سامع بھی دراصل دریاں سمیٹنے والا تھا، شیخ رشید کی اصلیت تو میاں صاحب کے آخر ی دور کے اندر پولیس کے خوف سے ایک موٹر سائیکل پر بھاگنے سے واضح ہوگئی تھی اور ممکن ہے کہ جس موٹر سائیکل پر موصوف پولیس کے خوف سے یہ جا وہ جا ہوگئے تھے، وہ بھی کرائے کی ہی ہو یعنی آج کل ملک میں پرائیویٹ کمپنیاں ٹیکسیاں اور موٹر سائکلیں لوگوں کو فراہم کرتی ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی طرح اعجازالحق اور شیخ رشید نے بھی اپنی اپنی جماعتیں ''ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی'' کے طرز پر چلا رکھی ہیں، اس لئے تین سال تو کیا، دونوں موصوف بھی اگر تاحیات صدارت کے مزے لوٹنے کا قصد کریں تو انہیں کون روک سکتا ہے کہ اب تو ہماری سیاست پر موروثیت کا ویسے بھی غلبہ اور قبضہ ہے۔ بقول ڈاکٹر سعید اقبال سعدی
ان پتھروں کے شہر میں جینا محال ہے
ہر سنگ کہہ رہا ہے مجھے دیوتا کہو