How much water is used in Peshawar?

پشاور میں پانی کا استعمال کتنا؟9تحقیقات کے مختلف نتائج

ویب ڈیسک(پشاور) پشاور میں ہر شہری کتنا پانی روزانہ استعمال کرتا ہے؟ ہر تحقیق میں مختلف نتائج نے حکام کو چکرا کر رکھ دیا پشاور کی 42لاکھ سے زائد آبادی کیلئے درکار پانی کے حوالے سے گزشتہ ایک دہائی کے دوران 9مختلف مطالعات کئے گئے جبکہ ہر مطالعہ کے نتائج مختلف طور پر سامنے آئے ہیں جس کے بعد ماہرین پشاور کیلئے درکار پانی اور اسے پورا کرنے کیلئے منصوبہ بندی میں تذبذب کا شکار ہو گئے ہیں۔

پشاور کیلئے 2012میں محکمہ آبنوشی اور نیس پاک نے سروے کیا تھا جس میں پشاور کے ہرشہری کی یومیہ پانی کے استعمال کی اوسط 250لیٹر سامنے آئی تھی اس کے بعد 2013میں پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کیلئے انجینئرنگ سروسز کنسلٹنٹ کے ساتھ مل کر کئے گئے مطالعہ میں یومیہ ضرورت 159لیٹر پائی گئی کنٹونمنٹ بورڈ پشاو رکے مطالبہ نے یومیہ ضرورت کو 159سے لیکر 189لیٹر قرار دیا تھا جبکہ 2012میں ٹائون ون کیلئے کمیونٹی ریہی بلیٹیشن اینڈ انفراسٹکچر سپورٹ پروگرام کے مطالعہ میں یومیہ ضرورت 205لیٹر اخذ کی گئی تھی پشاور میں محکمہ ترقی و منصوبہ کے پشاور لینڈ یوز پلان میں شہری علاقوں کے ہر فرد کی یومیہ پانی کی ضرورت 182لیٹر جبکہ دیہی علاقوں میں فی کس 68لیٹر پانی کی ضرورت پائی گئی محکمہ آبنوشی پنجاب کے نتائج میں فی شہری پانی کی ضرورت 386لیٹر جبکہ واسا لاہور کے مطالعہ میں 365لیٹر فی کس پشاور میں پانی کی ضرورت سامنے آئی ہے۔

2014میں پشاور انٹگریٹڈ ماسٹر پلان واٹر سپلائی اینڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نتائج بھی مختلف تھے اور ان میں 246لیٹر فی شہری پانی کی ضرورت سامنے آئی تھی حال میں کئے جانیوالے مطالعہ کے تحت جبہ ڈیم کنسلٹنٹ نے فیزبلٹی سٹڈی میں پشاور کیلئے ہر شہری کی یومیہ پانی کی ضرورت کو 189لیٹر قرار دیا ہے ۔

محکمہ بلدیات ذرائع کے مطابق یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ پشاور میں یومیہ ہر فرد کی آبی ضرورت پر کام کرنے کی بجائے پشاور کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے الگ الگ مطالعہ کیا جائے اور ہر علاقے کی ضرورت کو الگ الگ جانچتے ہوئے پانی کے استعمال کو اخذ کیا جائے جسے بنیادبنا کر پانی کے ضیاع کو روکنے کی حکمت عملی مرتب کی جائے سینی ٹیشن کمپنی پشاور نے پانی کے استعمال اور ضرورت دونوں کو ایک ساتھ جانچتے ہوئے مطالعہ کیا جائے اور اسی مطالعہ کو بنیاد بنا کر پشاور کی آبی ضرورت پوری کرنے کیلئے لائحہ عمل شروع کیا جائے ۔