جامعہ پشاور میں طالبات کی ہراسانی

جامعہ پشاور میں طالبات کی ہراسانی، پولیس کارروائی سے گریزاں

ویب ڈیسک ( پشاور) جامعہ پشاور میں جہاں طالبات کو ہراساں کرنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں وہاں دوسری طرف یہ بھی اعتراض کیا جارہا ہے کہ طلباء و طالبات کا ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومنا پھرنا اور بغل گیر ہونا معمول بن گیا ہے جبکہ پیسے اور طاقت کے نشہ میں چور طلباء کی جانب سے کیمپس کے اندر گاڑیوں کی خطرناک ڈرفٹنگ پربھی ایکشن نہیں لیاجارہا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جامعہ پشاور کے اکیڈمک بلاک کے سبزہ زار میں طلباء کی طالبات کے ساتھ بغل گیر ہونے اورہاتھوں میں ہاتھ ڈالنے کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں ۔ ویڈیوز میں طالبات رضامندی کے ساتھ طلباء کے ساتھ بغل گیر ہو رہی ہیں اسی طرح اکیڈمک بلاک میں طالبات کی ماڈلنگ اور سج سنور کر تیار کی جانے والی ویڈیوز بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور وٹس ایپ کی زینت بن گئی ہیں مالی طور پر مستحکم اور مہنگی گاڑی رکھنے والے طلبہ کے انجینئرنگ چوک اور پوسٹ مال چوک میں گاڑیوں کی ڈرفٹنگ کی ویڈیوز بھی سامنے آگئی ہیں جبکہ ڈرفٹنگ کے دوران طلباء و طالبات کا ہجوم بھی موجود ہوتا ہے جو ڈرفٹنگ سے لطف اندوز ہورہا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے اور موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے بیہودہ حرکات کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں تاہم اب تک اس حوالے سے پولیس نے کوئی جامع کارروائی نہیں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی میں مختلف مقامات پر منشیات کا کھلے عام استعمال بڑھنے لگا ہے اور سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ ممنوعہ نشہ بھی کھلے عام کیا جاتا ہے ۔